نوائے سُرود… غم بھی نعمت ہے… شہزادی کوثر

 کبھی کبھی لگتا ہے کہ اگر دنیا میں غموں، دکھوں، اور پریشانیوں کا وجود نہ ہوتا تو زندگی کتنی سہل ہو جاتی۔ ہر چہرے پر شادمانی ہوتی،ہر سمت قہقہے گونجتے ،سب کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہوتی۔ نہ کسی کی ناراضی کا خوف پریشان کرتا،نہ  کسی کو کھونے کا ڈر دل ودماغ کو مفلوج کر دیتا اور نہ ہی غم تلخ گھونٹ بن کر حلق سے نیچے اترتا، لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ،غموں کے وجود سے ہمیں خوشیوں کی پہچان ہوتی ہے۔ دکھ ہماری راحت کو محسوس کرواتے ہیں ان میں سے ہر ایک کا وجود دوسرے کی حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ کوئی بھی انسان ایسا نہیں جس نے دکھوں کا سامنا نہ کیا ہو، سب کو کسی نہ کسی صورت ان سے واسطہ پڑتا ہے البتہ نوعیت سب کی مختلف ہوتی ہے ۔کچھ لوگ بڑی سے بڑی مصیبت کا مردانہوارمقابلہ کرتے ہیں مصیبت ان کے حوصلے کے آگے بے معنی لگتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غم ان پر کوئی اثر نہیں کرتا

چاٹ جاتے ہیں زندگی ساری

دکھ بڑے با کمال ہوتے ہیں

یقینا غم ان کے دل میں بھی اپنے خونی پنجے گاڑ دیتا ہے لیکن یہ حوصلہ مند لوگ اپنی بپتا ہر ایک کو سنا کر ہمدردیاں سمیٹنے کے حق میں نہیں ہوتے یہ مشکلات سے لڑنا اور جینا جانتے ہیں ۔ایسے لوگوں کی روح کے سمندر میں جب زلزلہ آتا ہے تو پانی کی اونچی لہریں ساحل کو تباہ نہیں کرتیںبلکہ لہروں کا ارتعاش صرف تہ تک ہی رہتا ہے ۔یہ غم کی بارش میں بھیگنے کے باوجود اپنے حوصلے اور استقامت کی گرمی سے اس نمی کو بھاپ بنا کر اڑا دیتے ہیں ۔غم ان کے لئےمایوسی کی بجائے ایک نئی طاقت کی نوید بن کر آتا ہے۔ یہ گزرے ہوئے تلخ واقعات کا ماتم نہیں کرتے ، گویا  غم اور پریشانی ان کے لئے جائے شکوہ نہیں مقام شکر ہے ۔ کوئی بھی دکھوں کا سامنا کرنا نہیں چاہتا ہرایک کی یہی آرزو ہوتی ہے کہ غموں سے پالا نہ پڑے لیکن ہماری خواہش اور چاہ پر کائنات کا نظام نہیں چل سکتایہ حقیقت ہے کہ خوشیوں کی قدر تب ہوتی ہے جب غم کی آگ وجود کو جھلسا دیتی ہے ۔اندھیرے نہ ہوں تو اجالوں کا نور واضح نہیں ہوتا ۔سحر کی تازگی سے سرشار ہونے کے لئے گہری تاریکیوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ انسان ہونے کی حیثیت سے ہم میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں۔ ایک تو ہم ہر کام میں آسانی چاہتے ہیں۔ مشکلات سے نمٹے بغیر ہی منزل کے حصول کے متمنی ۔۔۔ یعنی سب کچھ تیار ہمیں میسر آئے۔دوسرے یہ کہ ہم بڑے شاکی واقع ہوئے ہیں ۔چھوٹی چھوٹی باتوں سے دلبرداشتہ ہونے والے، ذرا سی پیچیدگی سے گھبرانے والے،ہمت کی عدم دستیابی کا شکار۔۔۔۔ معمولی باتوں کا شکوہ کرتے ہیں چاہے اللہ سے ہو یا انسانوں سے ۔۔یہ سمجھے بغیر کہ اللہ سے شکوہ کرنے کی ہماری حیثیت نہیں ہے۔ اللہ کو سب معلوم ہے ۔اگر ہم کسی پریشانی یا غم میں مبتلا ہیں تو یہ اس کی طرف سے آزمائش بھی تو ہو سکتی ہے جس سے گزار کر وہ ہمیں کسی انعام کا حقدار بنانے جا رہا ہو۔ شکوہ کرنے کی ہماری اوقات نہیں ۔ خاک کی چٹکی ہو کر پرواز کرنے کے خواب دیکھنا سراسر حماقت ہے۔ لوگوں کو  داستان غم سنانے سے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جن کے دل میں ہم کھٹکتے ہیں وہ خوش ہوگا جو خیر خواہ ہیں وہ خفا ہو جائیں گے اور باقی لوگوں کو ہماری ذات میں کوئی دلچسپی ہوتی ہی نہیں ،ایسے میں شکوہ بے جا اور نادانی ہے۔ دنیا میں ہر شخص کسی نہ کسی صورت میں مشکل دور سے گزرتا ہے، انتہائی کٹھن حالات میں بھی زندگی کہیں نہیں رکتی ،گردش روز و شب کی طرح آگے ہی اگے رواں رہتی ہے۔ شب تاریک کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو ایک نئی صبح اور حالات سے لڑنے کا ایک اور موقع ضرور مل جاتا ہے ۔اگر مشکل حالات زندگی کو غم آلود بنائیں تو انہیں تلخ تجربہ یا ڈراونا خواب سمجھ کر فراموش کر کے آگے بڑھنا چاہیئے۔ میرا رب اپنے بندوں کو تنہا کبھی نہیں چھوڑتا انہیں غموں کی دلدل سے ضرور نکالتا ہے اس نے ہمارے حق میں بہتر فیصلہ کر رکھا ہوتا ہے ،اگر پریشانیوں سے دم گھٹتا محسوس ہو یا غموں سے دل پھٹتا ہوا لگے تو سمجھ لو اسی سے لو لگانے کی ضرورت ہے کیا پتا ان مشکلات کے ذریعے وہ ہمیں اپنے قریب آنے کا موقع دے رہے ہوں ایسے میں وہ غم صرف غم نہیں رہتا نعمت بن جاتا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔