نیکیوں کا موسم بہار….تحریر:اقبال حیات آف برغذی

فیوض ماہ صیام سمیٹنے کا موقع ملا ہے ۔ یہ مہینہ اللہ رب العزت کی طر ف سے رحمتوں ،مغفرتوں اور جہنم سے نجات کی رعنائیوں  سے لبریز ہے۔ ان نعمتوں سے مستفید ہونے کے لئے  رمضان المبارک کے تقاضوں کی برآوری بنیادی شرط ہے۔روزہ صرف کھانے پینے پر قد غن لگانے کا نام نہیں بلکہ اس کا دائرہ پورے وجود تک پھیلا ہوتا ہے۔ بدن کے ہراعضاء سے سرزد ہونے والی نافرمانیوں اور خلاف شرع کاموں سے اجتناب یہاں تک کہ دل کی کیفیات کو صاف اور شفاف رکھنے سے روزے کے تقاضے پورے ہوسکتے ہیں۔جہاں غیر اخلاقی باتوں کے سننے اور کہنے ،نظروں کے نارواستعمال ہاتھ پاوں کی بے راہروی اور زبان کی آلودگی کا خیال رکھنا ضروری ہے وہاں فاسد خیالات ،بدخواہی اور ہر قسم کی منفی تصورات کو بھی دل کے قریب پھٹکنے نہ دنیا کے روزے کی روح کی سلامتی کا آئینہ دار ہے۔چونکہ روزہ غربت اور افلاس کی کیفیت سے آگاہی اور اس بنیاد پر دوسروں کی غمخواری کے فلسفے اور خدااور بندے  کے درمیان براہ راست تعلق کی حیثیت کا حامل عمل ہے اس لئے معاملات کو اس ضابطے کے مطابق انجام دینے کی اہمیت مسلمہ ہے۔ کسی روزہ دار کی افطاری کا اہتمام کرنے سے روزے کے برابر ثواب ملنے کا اسلامی تصور یقینی طور پر اس امر کا متقاضی ہے کہ کاروبار کے دوران بھی جائز اور ناجائز منافع خواری کا خیال رکھتے ہوئے خریداروں کی دسترس کو یقینی بنایا جائے اور روزہ داروں کی ضروریات سے ناجائز فائدہ اٹھانے سے اجتناب کیا جائے۔ بصورت دیگر دنیاوی لحاظ سے کامیابی کا رنگ نظر آئے گا۔ مگر اخروی اعتبار سے روزے کے فیوض وبرکات سے خاطر خواہ استفادے کی صورت نہیں بن سکتی ۔اس سلسلے میں انتظامیہ کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ خصوصاً رمضان کے مقدس مہینے میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنے کے سلسلے میں کسی قسم کی رو رعایت اور عرض وغابت کو فرض کی ادائیگی میں مانع ہونے نہ دے تاکہ خدا نا ترس اور دنیا پرست افراد عوام کے گلے پر کند چھری چلانے جیسے قبیح فعل کے ارتکاب کی جرات نہ کرسکیں۔

اگرچہ بحیثیت مسلمان ہمیں خود رمضان کے مقدس مہینے کی حرمت اور تقدس کا خیال رکھتے ہوئے بندگان خدا سے خصوصی محبت کے مذہبی تقاضے کی برآوری کے لئے خود میں تڑپ پیدا کرنا ہے اور اس سلسلے میں کسی کی نگاہداری اور انتباہ کی ضرورت نہیں مگر بدقسمتی سے مادہ پرستی کے چنگل میں ایسے پھنسے ہوئے ہیں کہ دینی تقاضوں اور خدا کی رضا جوئی کے تخیلات سے ازہان کے نہان خانے خالی ہوچکے ہیں۔ اور اغیار کی اپنی  مذہبی اہمیت کے حامل ایام کے دوران بندگان خدا کی خیر خواہی کے جذبے کو دیکھ کر بھی شرمسار نہیں ہوتے اور ہماری غیرت انگڑائی تک نہیں لیتی۔ یوں رضائے الہی کے حصول کی خوش بختی سے سرفراز ہونے کے لئے روزے کے بنیادی فلسفے کے رنگ میں خود کو رنگین کرنے کی صورت میں افطار کے وقت دعا کے لئے اٹھنے والے ہاتھ انعام اکرام خداوندی سے مستفید ہونگے۔ بصورت دیگر اگر رسمی طور پر روزے کے مقدس مہینے کو بوجھ سمجھ کر اور تراویح کے لئے ہر تیز نماز پڑھنے والے امام کے متلاشی ہوکر اپنایا جائے تو سوائے بھوک اور پیاس کی کفییت سے دوچارہونے کے کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ کیونکہ جس عمل میں حکم خداوندی کی بجا آوری کا جذبہ اور شوق شامل نہ ہو تو وہ عمل” مچوڑ یو خسمت انگار تو زوحچ” کے مترادف ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔