یونیورسٹی آف چترال میں سٹوڈنٹس اور عملہ کی احتجاج

چترال ( محکم الدین )یونیورسٹی آف چترال میں سٹوڈنٹس اور عملہ نے گذشتہ روز سے احتجاج شروع کیا ہے  جن کامطالبہ ہے کہ سٹوڈنٹس کے ٹرانسپورٹ کرایوں میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے ۔ جو کہ ان کیلئے ناقابل برداشت ہے ۔ اس لئے فوری طور پر کرایوں میں کمی کی جائے۔ سٹوڈنٹس کے مطابق ٹرانسپورٹ کرایے 27000 وصول کئے جاتے تھے ۔ جنہیں اب بڑھا کر 34000روپے کر دیا گیا ہے ۔ جو کہ طلبہ پر ظلم و زیادتی کی انتہا ہے ۔ اسی طر ح یونیورسٹی کے ایک سے سولہ گریڈ کےکنٹریکٹ ملازمین مستقل کرنے اور تنخواہ و الاونسز کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ احتجاج کرنے والے طلبہ و ملازمین نے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی الزام لگایاکہ یونیورسٹی انتظامیہ یونیورسٹی کیلئےزمین کی خریداری پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔جس کا ثبوت یہ ہے ۔ کہ اب تک ایک انچ زمین بھی نہیں خریدا جا سکاہے ۔ جمعہ کے روز تمام طلبہ نے کلاسوں کا بائیکاٹ کیا ۔ اور زبردست احتجاج شروع ہو کر سنگین صورت اختیار کر لی ۔ تو چترال پولیس کی بہت بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی ۔ جس پر ڈپٹی کمشنر چترال انوار الحق نے مداخلت کی اور مذاکرات کرکے طلبہ کو یقین دلایا ۔ کہ طلبہ کے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کر لیاجائے گا ۔ جس پر انہوں اپنا احتجاخ ختم کر دیا ۔ تاہم کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کا مطالبہ اور یونیورسٹی کے اندرونی مسائل کے حوالے سے مذکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں ۔ اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔