آل امپلائز ایسوسی ایشن جامعہ چترال کی طرف سے جامعہ چترال کے لیے زمین کے پیسوں پر اظہارِ تشکر

چترال(چترال ایکسپریس)آل امپلائز ایسوسی ایشن جامعہ چترال کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں  سال 2017ء میں جامعہ چترال کے پراجیکٹ لانچ ہونے کے پانچ سال بعد جامعہ کے لیے زمین خریدنے کی مد میں اکاون کروڑ ساٹھ لاکھ روپے منظور کرانے پر  خیبر پختونخوا حکومت کا دل سے شکریہ ادا کیا ہیں۔ اس کے ساتھ چترال میں کچھ ایسی شخصیات کا بھی شکریہ ادا کیا۔گیاہیں جنہوں نے اس کے لیے کوشش کی اور لابنگ کی۔

یاد رہے سال 2017ء میں جامعہ چترال کے لیے زمین ایکوائر کرنے کی مد میں سابقہ صوبائی حکومت نے اس وقت کی ایم پی اے محترمہ فوزیہ صاحبہ کی کوششوں سے اٹھاسی کروڑ روپے دیے تھے۔مگر یہ اس وقت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور تین اضافی پوزیشنوں پر تعینات ا یونیورسٹی کے ایک ملازم کی وجہ سے واپس چلے گئے تھے۔ یہی نہیں، سابقہ وفاقی حکومت نے اُس وقت کے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کی مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں ترقیاتی فنڈ کی مد میں جامعہ چترال کے لیے پورے دو ارب نوے کروڑ روپے مختص کیے تھے، جن کی ریلیز صوبائی حکومت کی طرف سے زمین کی خریداری سے مشروط تھی۔ مگر پر اسرار طور پر اُس سال صوبائی حکومت کے زمین کی مد میں دیے گیے پیسوں کے پیچھے سنجیدگی سے نہ پڑا گیا، اور یوں سال گزرنے اور حکومت بدلنے کے بعد صوبائی حکومت کے ان اٹھاسی کروڑ روپوں سمیت وفاقی حکومت کے دو ارب نوے کروڑ روپے واپس چلے گیے۔ یہ سوال آج بھی جامعہ چترال کے ہر سمجھدار ملازم کو کھٹکتا ہے کہ کیا کچھ لوگوں نے اپنے وقتی ذاتی مفادات اور اپنا ٹینیور لمبا کرنے کی خاطر جان بوجھ کے یہ پیسے لیپس کرایے؟ اور کیا جان بوجھ کے یونیورسٹی کے قیام میں تاخیر کی جا رہی تھی کیونکہ قیام جتنا تاخیر سے ہوتا اتنا پراجیکٹ کا ٹینیور طویل ہوتا؟ یا یہ ان کی نالائقی اور نااہلی تھی کہ ان پیسوں کو ریلیز کروانے کے لیے درکار دفتری و کاغذی ناگزیر امور انجام نہیں دے پائے اور یوں یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک سنہرے موقع کو ضائع کیا؟ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ سال گزرنے کے باوجود جامعہ چترال ایک کالج کی عمارت میں محدود رہی۔

پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ یوں، سال 2017ء کے بعد یونیورسٹی کے لیے زمین اور ترقیاتی فنڈ کا معاملہ سرد خانے میں چلا گیا تھا، اور جامعہ کے ذمہ دار آفسران کی طرف سے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ بالآخر مجبور ہوکر پچھلے ڈیڑھ سال سے جامعہ کے کچھ سینئیر ایمپلائز نے ایک کمیٹی ترتیب دی اور کچھ قائدین اور با اثر لوگوں سے ملنے کا فیصلہ کیا، تاکہ ان کے تعلقات استعمال کرکے جامعہ چترال کے لیے فنڈز کا بندوست کیا جا سکے اور اس پراجیکٹ کو خود غرض لوگوں کے ہاتھوں ناکام ہونے سے بچایا جا سکے۔ اس سلسلے میں ملازمین کی اس کمیٹی نے پچھلے سال سے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں اور رابطے کیے اور تحریری مطالبات پہنچائے اور لابنگ کرنے کی درخواست کی۔ اِن لوگوں میں پی ٹی کی ضلعی لیڈرشپ سمیت، کچھ بااثر شخصیات بھی شامل ہیں۔ ان کا ذکر نہ کرنا اور ان کی کوششوں کو اکنالج نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ ایمپلائز کی کمیٹی نے جن جن لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور جامعہ چترال کے لیے زمین اور ترقیاتی بجٹ کے لیے لابنگ کرنے کی گزارش کی ان میں یہ شخصیات شامل ہیں: معروف بزنس مین انور امان ، اُن کی بیگم نسرین امان صاحبہ،شہزادہ امان الرحمٰن ، اسرار صبور ، عبداللطیف ،سرتاج احمد ، وزیر زادہ ص اور شہزادہ نظام ۔

بجٹ تیاری کے ایلیونتھ اَوور میں اِن صاحبان کی کوششوں اور لابنگ سے پچھلے سال وفاقی حکومت نے بجٹ میں جامعہ چترال کے قیام کے لیے پہلے فیز میں پیسے دیے۔ اور اِس بار انہی لوگوں اور خاص کر وزیر زادہ  کی انتھک کوششوں سے صوبائی حکومت نے زمین کی مد میں اکاون کروڑ ساٹھ لاکھ روپے دے دیے۔ یہ جامعہ اور جملہ چترال کے لیے بہت خوشی کا مقام ہے کہ موجودہ حکومتوں نے معاشی بحران کے باؤجود ہمیں کچھ فنڈز دے۔ یہ بہت خوشی کی بات ہے کہ جامعہ چترال کو گزشتہ پانچ سالوں کے اوپر یہ فنڈز واقعتاً مل رہے ہیں۔ اس پر ہم اُن تمام صاحبان کا شکریہ کرتے ہیں جنہوں نے اس مقصد کے لیے کام کیا اور لابنگ کی۔
آل ایمپلائزایسو سی ایشن جامعہ چترال نےجامعہ چترال کے  وائس چانسلر  سے گزارش کرتے ہوئے کہاہے کہ ان پیسوں کو فوری طوری پر لے آنے اور متعلقہ مقصد میں استعمال کرانے کے لیے سب سے پہلے جامعہ کے شعبہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ یعنی پی-این-ڈی میں ایک پروفیشنل اور فئیر بندے کو بحیثیت ذمہ دار تعینات کیا جائے، جہاں ایک بندہ پچھلے چار پانچ سالوں سے غیر قانونی طور پر قابض ہے۔ یاد رہے ان بابو قبضہ مافیا کی نالائقیوں اور نا اہلیوں کی وجہ سے پچھلی حکومتوں کے دیے گیے پیسے واپس لیپس ہوئے ہیں۔ چار سال میں پہلی مرتبہ خراب معاشی حالات کے باوجود حکومتوں نے جامعہ چترال کو کچھ فنڈز دیے ہیں تو ان فنڈز کو ریلیز کرانے اور شفاف طریقے سے خرچ کرانے کے لیے جامعہ کے متعلقہ شعبوں اور پوزیشنوں پر پروفیشنل، اہل اور گیزیٹیڈ لوگوں کو ذمہ دار تعینات کیا جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو سال 2017ء کی طرح یہ فنڈز بھی چند بابوؤں کی نا اہلی اور نا لائقی کی بھینٹ چڑھ جائیں گے اور واپس لیپس ہو جائیں گے، اور یونیورسٹی کا صحیح معنوں میں قیام ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔