موروثی سیاست اور سیاسی عدم استحکام…محمد شریف شکیب

ہم من حیث القوم بہت جلد باز اور بے صبرے واقع ہوئے ہیں۔کسی حکومت کو ہم پانچ سال تک برداشت کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔نہ ہی آئین میں ترمیم کرکے حکومت کی مدت پانچ سال سے کم کرکے تین چار سال رکھنے پر آمادہ ہیں۔1970سے پہلے کے 23سالوں کو ہم عبوری دور میں شمار کریں گے کیونکہ اس عرصے میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر کوئی انتخابات نہیں ہوئے 1973کا آئین بننے کے بعد پیپلز پارتی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹونے 14اگست 1973کو ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم بنے۔اس سے پہلے کے تمام وزرائے اعظم عوام کے منتخب کردہ نہیں، بلکہ خواص کے چنے ہوئے تھے۔ بھٹو نے ساڑھے چار سال بعد اپریل 1977ء میں انتخابات کرائے تاہم صرف تین ماہ تک دوسری مدت میں وزیراعظم رہے اس کے بعد اپوزیشن نے ان کے خلاف ملک گیر تحریک شروع کردی۔ اور جنرل ضیاء کو بھٹو حکومت کا دھڑن تختہ کرنے کا موقع مل گیا۔دس سالہ دور آمریت کے بعد 1988میں عام انتخابات کے نتیجے میں بے نظیربھٹوعالم اسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم بنیں مگر ان کا دور حکومت محض بیس ماہ پر محیط رہا۔وہ کرپشن کے الزامات کے تحت اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئی۔پھر میاں نواز شریف کو اقتدار ملا مگر وہ بھی اٹھاون ٹو بی کا شکار ہوگئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو 1993میں دوبارہ اقتدار ملا مگر ان کی مدت حکومت صرف تین سال ایک مہینہ رہی۔غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں وزارت عظمیٰ تک پہنچنے والے محمد خان جونیجو نے تین سال ایک ماہ تک عہدے پر فائز رہے۔جب انہوں نے اپنے دستوری اختیارات کا استعمال شروع کردیا تو جنرل ضیاء نے ان کی چھٹی کردی۔ شوکت عزیر تین سال تین ماہ تک وزارت عظمیٰ پر فائز رہے۔یوسف رضا گیلانی کا دور اقتدارچارسال تین ماہ رہا۔ 2018کے انتخابات میں دو بڑی پارٹیوں کی باریاں ختم ہوگئیں اور پاکستان تحریک انصاف کی شکل میں تیسری جماعت بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے اٹھارہ اگست 2018ء کووزیراعظم کے عہدے کاحلف اٹھایا تین سال سات ماہ بعد ان کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد آگئی اور انہوں نے خود قومی اسمبلی تحلیل کرکے تازہ مینڈیٹ لینے کے لئے عوام کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیا۔بحیثیت قوم ہماری ایک فطری کمزوری یہ رہی ہے کہ ہم سیاست دانوں کی کمزوریوں، غلطیوں اور کوتاہیوں کو فوراً بھول جاتے ہیں جس کو برا بھلا کہہ کر ایوان اقتدار سے باہر نکالتے ہیں دو تین سال بعد وہی ہمیں نجات دہندہ اور فرشتہ نظر آنے لگتا ہے۔ قوم کی اس کمزوری کا سیاسی رہنماؤں نے بھی بھرپور فائدہ اٹھایا اور وہ گھوم پھیر کے بار بار اقتدار میں آتے رہے۔جب سیاسی حکومتوں سے ہمارا دل بھر جاتا ہے تو آمروں کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دی جاتی ہے۔جنرل ضیاء اور جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے پر ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور شادیانے بجائے گئے۔ جب ان کا اقتدار طول پکڑنے لگا تو ہم ان کے چہرے دیکھ دیکھ کر اکتانے لگے اور جن حکمرانوں کو بے آبرو ہو کر اپنے کوچے سے نکلتے دیکھا تھا وہی ہمیں فرشتے نظر آتے ہیں۔سیاسی عدم استحکام کو کچھ حلقے جمہوریت کا حسن قرار دیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں حقیقی جمہوریت کبھی آہی نہیں سکی۔ اصل جمہوریت سوئزرلینڈ، برطانیہ، امریکہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ترقی یافتہ ملکوں میں دیکھی جاسکتی ہے جہاں سیاست کو پیشہ نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ صدر یا وزیراعظم اپنی ایک یا دو باریاں لینے کے بعد سیاسی منظر سے یوں غائب ہوتا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔امریکی صدر رونالڈ ریگن، جارج بش سینئر، جارج بش جونیئر، بل کلنٹن، بارک اوبامہ، ڈونلڈ ٹرمپ جب سے وائٹ ہاؤس چھوڑ گئے ہیں ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں چل رہا۔ کوئی اپنا ہوٹل چلا رہا ہے کوئی بکریاں چرا رہا ہے تو کوئی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں لیکچر دے کر روزی روٹی کما رہا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں مذہبی جماعتوں سے لے کر دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں تک ساری کی ساری موروثی ہیں۔ باپ کے بعد بیٹا، بیٹی، بھائی، نواسہ، پوتا اور پڑپوتا الیکشن لڑتا ہے۔جب تک موروثی سیاست کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ ہمارے ہاں حقیقی جمہوریت آنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔