پشاور کے حسن معدوم کی بحالی…محمد شریف شکیب

احیائے پشاور منصوبے پر عملدرآمدکے سلسلے میں جی ٹی روڈ، رنگ روڈ، یونیورسٹی روڈ، چارسدہ روڈ، کوہاٹ روڈاور دیگر مصروف مقامات پر غیر قانونی کلاتھ مارکیٹوں کو ہٹانے، مقامی پولیس کی تجاوز کنند گان سے بھتہ وصولی کے خاتمے، ورسک روڈ، سٹی سرکلر روڈ اوردیگر اہم شاہراہوں،اندرون شہر اور صدر کے بازاروں میں تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں کو دس دنوں کے اندر ایکشن پلان تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور شہر کی خوبصورتی متاثر کرنے،د یواروں پر لکھائی کرنے اور پوسٹر لگانے والوں کے خلاف بھی سخت کاروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔ دیواروں پر لکھائی اور پوسٹر لگانے والوں کے خلاف کاروائی نہ کرنے پر متعلقہ ٹی ایم او کے خلاف بھی کاروائی کا فیصلہ کیا گیا۔ پشاور شہر کے تاریخی بازار قصہ خوانی کی عظمت رفتہ بحال رکھنے کیلئے سہ پہر چار بجے سے رات 10 بجے تک ٹریفک پر پابندی لگانے کا اصولی فیصلہ کیاگیا اور اس سلسلے میں تاجروں سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔پھولوں کا شہر پشاوردیہی آبادی کی نقل مکانی کے باعث اب کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہوگیا ہے۔ پچاس سال پہلے پشاور کے باغات آباد تھے۔ فضائیں پھولوں کی خوشبو سے مہکتی تھیں۔پشاورکی آبادی فصیل شہر کے اندر محدود تھی۔پھر نواحی علاقوں کے کھیت کھلیاں اور باغات رہائشی مکانات میں تبدیل ہوتے رہے۔ آٹھ نو لاکھ کی آبادی کا شہر اب پچاس لاکھ انسانوں کو اپنے دامن میں بسایا ہوا ہے جن میں چار پانچ لاکھ افغان مہاجرین بھی شامل ہیں۔صوبے کے 35اضلاع کی کم از کم پانچ چھ فیصد آبادی پشاور منتقل ہوئی ہے۔ نصف صدی قبل کی آبادی کے لئے سڑکوں، رہائشی مکانات، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، لائبریریوں، پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے نظام اور ٹرانسپورٹ کا جو انتظام تھا اس پرآبادی میں پانچ گنا اضافے کا بوجھ پڑچکا ہے۔امراض قلب، امراض گردہ، خواتین اور بچوں کے لئے الگ ہسپتال ہونے کے باوجود لیڈی ریڈنگ، خیبر ٹیچنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پر پشاور اور صوبے کے مختلف اضلاع سے آنے والے مریضوں کا بوجھ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔وزیرباغ اور شاہی باغ کے اب صرف آثار باقی رہ گئے ہیں۔تاریخی بازار قصہ خوانی میں ٹریفک جام معمول بن چکا ہے۔سڑک کی دونوں جانب دکانداروں اور گاہکوں کی گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں باقی ماندہ سڑک پر بمشکل ایک گاڑی کے گذرنے کی جگہ رہتی ہے۔فٹ پاتھ بھی کرائے پر چڑھائے گئے ہیں۔وہاں سے عمر رسیدہ افراد اور خواتین کا گذرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ شہر اور نواحی علاقوں میں تجاوزات کے خلاف آپریشن ماہانہ بنیادوں پر ہوتے رہتے ہیں صبح تھڑے، چھجے اور دیگر تعمیرات گرائی جاتی ہیں شام ہونے سے پہلے دوبارہ تجاوزات قائم ہوتی ہیں۔ظاہر ہے کہ یہ کام سرکاری اداروں کی سرپرستی کے بغیر ممکن نہیں۔بی آرٹی سروس شروع ہونے کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک کا اژدھام رہتا ہے۔پشاور کی خوبصورتی اصل شکل میں بحال ہونا تقریباً ناممکن ہے۔تاہم حکومت اگر اسے واقعی دوبارہ پھولوں کا شہر بناناچاہتی ہے تو کھیتوں اور باغات کو ہاوسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کرنے کے رجحان پر قابو پانا ہوگا۔ حکومت جنرل بس سٹینڈ کو شہر سے باہر سردار گڑھی میں منتقل کرنا چاہتی ہے موجودہ جنرل بس سٹینڈ کی وسیع اراضی پر کمرشل بلڈنگ بنانے کے بجائے کشادہ پارک قائم کیاجائے تو شہریوں کو تفریح کی سہولت بھی میسر آئے گی۔اور شہر کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔ جبکہ لاہوراڈے سے لے کر ڈائیوو اڈے تک کی اراضی پر کمرشل عمارتیں تعمیر کرکے حکومت اپنی آمدنی کے ذرائع بھی پیدا کرسکتی ہے۔ تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنایاجائے کہ دوبارہ یہاں تجاوزات قائم نہ کی جاسکیں۔وال چاکنگ پر سختی سے پابندی لگانے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں منتخب بلدیاتی اداروں کو ذمہ داریاں تفویض کرنے کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔