دادبیداد…جمہوریت کا دیسی چہرہ…عنا یت اللہ فیضی

جمہوریت مو جودہ دورکا مقبول سیا سی نظام ہے اس کی مقبولیت کا یہ حا ل ہے کہ بر طا نیہ، جا پا ن، ناروے، ڈنمارک جیسے مما لک نے بادشا ہت کو بر قرار رکھنے کے باوجود نظا م حکومت جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والی اسمبلیوں کے ہاتھوں میں دیدیا ہے وطن عزیز پا کستان کو جمہوریت کا نظام برطانوی ہند کی نو آبا دیاتی میراث کے طور پر مل گیا میراث میں ہاتھ آنے کے بعد ہم نے جمہوریت کو اپنے دیسی لباس میں ملبوس کیا اور اس کا دیسی چہرہ دنیا کو دکھا یا یہ وہ چہرہ ہے کہ جس کا ذکر ایک حکا یت میں آتا ہے گاوں کا چوہدری مر گیا تو میرا ثی کے بیٹے نے اپنے باپ سے پوچھا اب کون چوہدری بنے گا؟ باپ نے کہا اس کا بیٹا، میرا ثی کے بچے نے کہا اگر وہ مر گیا تو کون چوہدری بنے گا؟ میراثی نے کہا اگر چوہدری کا پورا خاندان بھی نیست و نا بود ہوا پھر بھی میراثی کا بیٹا چوہدری نہیں بن سکتا جسٹس رستم کیا نی مر حوم نے اپنی ایک تقریر میں جمہوریت کی مشہور تعریف ”عوام کی حکومت، عوام کے لئے عوام کے ذریعے“ کوطنز کے پیرایے خوب صورت انگریزی جملے میں سمو دیا تھا اور کہا تھا پا کستانی جمہوریت کی تعریف تھوڑی سی مختلف ہے ہم جو دیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ عوام کے خلاف عوام سے دور عوام کا سودا کرنے کا نظام جمہوریت کہلا تا ہے انہوں نے انگریز ی کے ofکو offلکھا، for کو farلکھا اور by کوbuyلکھا تھا ہمیں علا مہ اقبال نے جمہوریت کے دو رخ دکھا ئے پہلا رخ یہ ہے کہ آزادی جمہور کا آتا ہے زما نہ جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹادو، دوسرا رخ یہ ہے کہ جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جس میں بندوں کو گنا کر تے ہیں تو لا نہیں کر تے پا کستان کی آبادی نے جمہوریت کے بارے میں پڑھا ہے لیکن جمہوریت کو دیکھا نہیں ہے ہمارے ہاں جمہوریت کبھی نہیں آئی ہماری آبا دی نے 74سالوں میں دو طرح کی آمریت دیکھی جس کو جمہوریت کا نا م بھی دیا جا تا ہے امریکہ، بر طا نیہ، بھا رت، کینڈا، فرانس اور دیگر مما لک میں مزدور کا بیٹا وزیر اعظم بن سکتا ہے ڈرائیور کا بیٹا صدر بن سکتا ہے، غریبوں کی اولا د کو وزارت مل سکتی ہے پا کستان کی جمہوریت میں ارب پتی سے کم دولت رکھنے والا اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا اگر بن گیا تو کسی بیرونی ملک کے سر ما یے کو استعمال کر کے بنے گا امریکہ اور بر طا نیہ میں جلسے اور جلوس نہیں ہوتے پا کستان میں جلسہ کے سٹیج کو بنا نے پر ڈیڑھ کروڑ روپے کا خر چہ آتا ہے جلسہ کے لئے فرنیچر، ٹرانسپورٹ اور سا معین اکھٹا کر نے پر 4ارب روپے کا خر چہ آتا ہے عوام کی زند گی پر اس کا کوئی مثبت اثر نہیں ہوتا، جلسہ اور جلوس کا فائدہ صفر کے برابر ہوتا ہے یہ 5ارب روپیہ سیا سی جما عتیں اگر چا ہیں تو عوامی فلاح و بہبود پر بھی لگا سکتی ہیں لیکن جمہوریت کا دیسی چہرہ اس کی اجا زت نہیں دیتا، جمہوریت اور بادشاہت کا بنیا دی فرق یہ ہے کہ باد شاہ ہت میں باپ کے بعد بیٹا آتا ہے یا بیٹی آتی ہے جمہوریت میں ایک شخص اپنی مدت پوری کرے تو گھر لوٹ جا تا ہے اس کے بیٹے یا اس کی بیٹی کو مو قع نہیں دیا جا تا، جمہوریت کی ایک خصو صیت یہ ہے کہ یہ کھیل کے اصول پر قائم ہوتی ہے ہار نے والا اپنی شکست تسلیم کر تا ہے جیتنے والے کو مبارک باد دے دیتا ہے اور ہا تھ ملا کر عزت و آبرو کے ساتھ رخصت ہو جا تا ہے جمہوری طرز فکر میں سیا سی جما عتیں جیتنے والے کے حق حکمرانی کو تسلیم کرتی ہیں اگلے انتخا بات کی تاریخ آنے تک خا موش رہتی ہیں پا رلیمنٹ کے اندر قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں گلی کو چوں میں شور مچا کر شہریوں کی زندگی اجیرن نہیں کرتیں شاہراہوں کو بند کر کے کاروباری طبقے کو پریشان نہیں کرتیں ہروز جلسہ جلو س کر کے عوام کے لئے درد سر نہیں بن جا تیں وطن عزیز پا کستان کی دیسی جمہوریت میں اس کا اُلٹ چلتا ہے، جمہوریت کی بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ سیا سی جماعتوں کا نظریہ ہو تا ہے پا کستان میں نظریہ گُم ہو چکا ہے مفا دات کا معا ملہ چلتا ہے منشور کی جگہ ذاتی دشمنی، خا ندانی دشمنی کا ذکر ہوتا ہے یہ ہماری دیسی جمہوریت کا مکروہ چہرہ ہے اس کے باوجود ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کا نا م ”اسلا می جمہوریہ“ ہے اللہ کرے ایسا ہی ہو

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔