چترال،تمام بینک ملازمین کی سابقہ بینک شیڈول بحال کرنے کا پرزور مطالبہ

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس ) چترال میں کام کرنے والے درجنوں کمرشل بینکوں کے اسٹاف نے وفاقی حکومت سے پرزورمطالبہ کیا ہے کہ بینکوں میں پہلے سے رائج اوقات کار میں تبدیلی کے فیصلے کو فوری طور پر واپس لیتے ہوئے فائیوورکنگ ڈے کو بحال کیا جائے تاکہ بینک ملازمین کی روزمرہ زندگی میں خلل نہ پڑے۔منگل کے روز چترال پریس کلب میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مختلف بنکوں کے برانچ منیجرز شیر زمان (خیبر بینک) حاجی انعام اللہ (اسلامی بینک)، بشارت علی (مسلم کمرشل بینک)، شاہ نواز (میزان بینک)، امتیاز حسین شاہ (بینک آف پنجاب)، ارشاد یفتالی (خیبر بینک اسلامی برانچ)، محمد نعیم (این آر ایس پی بینک) نے کہاکہ بینکوں میں کام کی نوعیت کے لحاظ سے ورکنگ آوورز صبح 9سے شام 6بجے کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے بینک ملازمین کی فیملی اور سوشل لائف پہلے سے متاثر ہے اور ہفتے کے دن کی چھٹی ختم کرنے سے ان کے مسائل اورمشکلات میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ نفسیاتی طور پر بھی متاثر ہوں گے۔ ان کاکہنا تھا کہ نئی شیڈول کے مطابق ہر روز 3بجے بینک کرناا ن کے لئے ممکن نہیں کیونکہ کسٹمرز کے لئے بے شمار مسائل پیدا ہوں گے اور ہفتے میں پانچ دن کی ایام کار سے بینک اسٹاف اور کسٹمرز دونوں مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہفتے میں چھ دن ایام کار شروع کیاگیا تو بھی وہ معمول کے شام 6بجے سے پہلے اپنے بینک بند نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے کام اور ڈیوٹی کی نوعیت ہی اس طرح کی ہے ورنہ سروس ڈلیوری بہت ہی متاثر ہوگی جس سے عوام متاثر ہوں گے۔ مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعروں پر مشتمل پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جبکہ انہوں نے نئی ٹائم شیڈول نا منظور اور ہفتے کے دن کی چھٹی کی بحالی کیلئے نعرہ بازی بھی کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔