اشیائے ضروریہ پر سبسڈی۔۔۔۔محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ بجٹ میں عوام کو دالوں، گھی، چینی اور آٹے پر 25 سے 30 ارب روپے تک کی سبسڈی دینے کا عندیہ دیا ہے۔صوبائی وزیرخوراک نے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ رمضان المبارک کے دوران صوبہ بھر میں عوام کو سستے آٹے کی فراہمی جاری ہے۔ صوبے میں 127 سیلز پوائنٹس اورموبائل ٹرکوں کے ذریعے بیس کلو گرام آٹے کا تھیلا لوگوں کو 800روپے میں فراہم کیاجارہا ہے۔ٹماٹر کے نرخ دو سوروپے کلو تک پہنچ گئے تھے۔بڑھتی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے ایران سے ٹماٹر درآمد کئے گئے اب ٹماٹر ساٹھ ستر روپے کلو ہر جگہ دستیاب ہے۔رمضان المبارک میں انتظامیہ کی جانب سے ذخیرہ اندوزی، غیر معیاری اشیائے خوردونوش کی فروخت، ملاوٹ اور گرانفروشی کے مرتکب افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اب تک 80 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیاگیا ہے جبکہ انتظامی سیکرٹریوں کو روزانہ کی بنیاد پر مارکیٹ کی مانیٹرنگ کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومت کی طرف سے سیل پوائنٹس پر عوام کو سستے آٹے کی فراہمی بلاشبہ خوش آئند ہے۔ لیکن دیگر اشیائے ضروریہ کے داموں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہیں خاص طور پر گھی اور کوکنگ آئل ہر گھر کی ضرورت ہے جس کی قیمت پانچ سو روپے کلو تک پہنچ گئی ہے۔کچھ عرصہ قبل جب ٹماٹر مہنگے ہوگئے تو ایک وزیرباتدبیر نے عوام کو مشورہ دیا تھا کہ ٹماٹر کے متبادل کے طور پر دہی کا استعمال کریں اگرچہ یہ مشورہ صائب تھا مگر یار لوگوں نے اس کا بھی تمسخر اڑادیا۔ جب متبادل چیز سستی مل رہی ہو تو اسے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن گھی اور کوکنگ آئل کا کوئی متبادل نہیں،اور ان کے بغیر کوئی بھی سالن نہیں بن سکتا۔توقع ہے کہ حکمران عوام کو یہ مشورہ نہیں دیں گے کہ گھی اگر مہنگا ہوگیا تو سالن نہ بنائیں دہی یا چائے کے ساتھ روٹی کھائیں۔ حکومت نے بجٹ میں گھی، چینی، دالوں اورآٹے پر جس سبسڈی کا اعلان کیا ہے اگر رمضان المبارک کے دوران بھی عوام کو ان اشیائے ضروریہ پر رعایت دی جاتی تو غریب روزہ داروں کا کافی ریلیف مل جاتا۔ حکومت نے سرکاری سٹورز پر بھی سولہ اشیائے ضروریہ پر عوام کو ریلیف دینے کا اعلان کیاتھا مگر وہ رعایتی اشیاء سرکاری سٹور پر دستیاب ہی نہیں۔بعض لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ سرکاری سٹورز کی رعایتی اشیاء ماضی کی طرح اس بار بھی سٹور پہنچنے سے پہلے بازار پہنچائی جاتی ہیں۔اس خرد برد پر آج تک قابو نہیں پایاجاسکا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عام لوگوں کو سرکاری سیل پوائنٹس کا علم ہی نہیں ہوتا۔ 80فیصد لوگ اوپن مارکیٹ سے ہی سودا سلف خریدتے ہیں حکومت اور انتظامیہ کو مخصوص مقامات پر رعایتی اشیاء کی فراہمی کے ساتھ مارکیٹ کنٹرول کا لائحہ عمل طے کرنا چاہئے اور اوپن مارکیٹ کی نگرانی سخت کرنی چاہئے تاکہ ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، گرانفروشی اور مصنوعی قلت پر قابو پایا جاسکے۔صوبائی حکومت ماہانہ بنیادوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے اور اشیائے ضروریہ کے نرخنامے جاری کرتی ہے لیکن سرکاری نرخنامے اور کرایہ نامہ اور مارکیٹ میں رائج نرخوں میں انیس بیس کا نہیں بلکہ زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ کسی تاجر کی توجہ سرکاری نرخنامے پر مبذول کرائیں تو یہ جواب ملتا ہے کہ یہ دس سال پرانا نرخنامہ ہے۔سرکاری اہلکار مارکیٹ میں جاکر چیزوں کے دام معلوم کرنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے۔کمپیوٹر میں دس پندرہ سال پہلے جس نے نرخنامے بنائے تھے اسی کاپرنٹ نکال کر بازاروں میں تقسیم کیاجاتا ہے۔ صرف ایک مثال سے سرکاری کرایہ نامے اور موجودہ کرائے کا فرق واضح ہوتا ہے سرکار نے پشاور سے چترال عام گاڑیوں کا کرایہ ساڑھے چار سو اور ائرکنڈیشنڈ گاڑیوں کا کرایہ چھ سو روپے مقرر کیا ہے جبکہ ٹرانسپورٹ اڈوں پر مسافروں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہائی ایس گاڑیوں کا کرایہ بارہ سو روپے اور کوچز کا پندرہ سو روپے وصول کیاجاتا ہے جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ میں ائرکنڈیشنڈ گاڑیاں چلانے کا کوئی تصور بھی نہیں۔ یہی تفاوت پشاور سے بنوں، ڈیرہ، دیر، سوات، ایبٹ آباد، مانسہرہ اور دیگر اضلاع کو چلنے والی بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور سرکاری کرایہ نامہ میں ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کو اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہوئے اس صورتحال کا بھی نوٹس لینا چاہئے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔