شندور کے محل وقوع کے تعین کی شاہد علی خان یفتالی کی طرف سے دائر درخواست نمٹادی گئی

پشاور ٹیکسٹ بورڈ کی درسی کتاب میں شندور کو گلگت بلتستان کا حصہ ظاہر کیا گیا تھا

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس) پشاور ہائی کورٹ نے خیبرپختونخوا ٹیکسٹ بورڈ کو حکم دیا ہے کہ نصابی کتابوں میں نقشے کی غلطی دور کرکے خیبرپختونخواکی زمین خیبر پختونخواہ کے نام کردی جائے،پشاور ہائی کورٹ میں معروف وکیل شاہدعلی خان یفتالی ایڈوکیٹ کی وساطت سے رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی مسٹر جسٹس محمد نعیم انور اور مسٹر جسٹس محمد اعجاز خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے سماعت کی۔ عدالت کے سامنے ریکارڈ پیش کرکے استدعا کی گئی کہ شندور کا سیاحتی مقام خیبر پختونخوا کی ملکیت ہے1975کے لینڈ کمیشن نے گزٹ نوٹی فیکیشن میں شندور کے سیاحتی مقام کو خیبرپختونخوا کی ملکیت قراردیا ہے نیز1914اور 1959کا عدالتی ریکارڈ موجود ہے گلگت بلتستان چیف کورٹ نے جون 2011میں خیبرپختونخواکے حق میں حالت موجودہ کوبرقرار رکھنے کا حکم دیا۔بحث سننے اور ریکارڈ ملاحظہ کرنے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ نصابی کتابوں میں غلطی کی درستگی کرکے شندور کو خیبرپختونخوا کا حصہ دکھایا جائے۔ٹیکسٹ بک بورڈ حکام نے موقع پر حاضر ہوکر وعدہ کیا کہ حکم پر عمل کیا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔