نئی حکومت اور ریلیف کے اعلانات…محمد شریف شکیب

ملک کے نومنتخب وزیراعظم میاں شہباز شریف نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد قومی اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں عوام کو مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے لئے چند اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے رمضان پیکج کے تحت عوام کو سستے آٹے کی فراہمی، مزدور کی کم سے کم تنخواہ 21ہزار سے بڑھا کر 25ہزار روپے ماہوار کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین کی پنشن میں یکم اپریل سے دس فیصد اضافے کا بھی وعدہ کیا انہوں نے صنعت کاروں اور کارخانے داروں کو ایک لاکھ تک تنخواہ پانے والے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بحال کرنے، اس میں توسیع اور پروگرام کو تعلیمی وظائف سے بھی منسلک کرنے کا اعلان کیا۔ نئی حکومت کے لئے اقتدار کی کرسی پھولوں کا سیج نہیں بلکہ کانٹوں بھرا بستر ہے۔ کورونا کی عالمی وباء نے دنیا کی معیشت کا بیٹرہ غرق کردیا ہے۔سرحدوں کی بندش سے قوموں کے درمیان تجارت محدود ہوگئی۔یمن اور یوکرین کی صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات سمیت ہر چیز کی قیمت میں دو سے تین گنا تک اضافہ ہوچکا ہے۔ ہمارے ہاں یہ روایت ہے کہ ہر آنے والی حکومت اپنے پیش رووں کو معیشت کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ یہی روایت موجودہ حکومت نے بھی برقرار رکھی حالانکہ سابقہ حکومت کا دعویٰ تھا کہ معاشی شرح نمو 5فیصد سے زیادہ ہے۔ صنعتی اور زرعی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ گئے ہیں بیرون ملک پاکستانیوں نے سب سے زیادہ رقومات بھیجی ہیں ملک کے اندر ٹیکس اصلاحات کی وجہ سے ریونیومیں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک اور حکومت کی معاشی ٹیم بھی اقتصادی استحکام کے دعوے کرتی تھی۔ وزیراعظم کا قول ہے کہ بھکاریوں کا کوئی انتخاب نہیں ہوتا۔ ہمیں انتخاب کرنے والا بننے کے لئے خود انحصاری اور خود داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور ایک قوم بن کر آگے بڑھنا ہوگا۔ ایوان اقتدار کے اندر بیٹھے اور باہر سے نظارہ کرنے والوں کا نقطہ نظر ایک جیسا نہیں ہوتا۔ عنان اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی حالات کی سنگینی کا احساس ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے عوام کو جس فوری ریلیف کی یقین دہانی کرائی ہے اس کی قوم کو ضرورت تھی۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ وہ ریلیف عوام تک پہنچتا بھی ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر حکومت نے مزدور کی کم سے کم تنخواہ 25ہزار روپے ماہانہ مقرر کرنے کا اعلان تو کیا ہے مگر کسی بھی حکومت نے اپنے اعلان پر عمل درآمد نہیں کرایا۔ آج بھی کارخانوں، سرکاری ٹھیکیدار کے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں، دکانوں میں کام کرنے والے محنت کشوں، چھوٹے صنعتی یونٹ میں کام کرنے والوں، اینٹوں کی بھٹی میں مشقت کرنے والوں اور چھوٹے تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو پانچ سے دس ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔کسی حکومت نے محنت کشوں کو بہتر مشاہرہ اور مناسب کام کا ماحول فراہم کرنے کے لئے اقدامات نہیں کئے۔قلیل تنخواہ پر بچوں کا پیٹ پالنے والے محنت کش اپنے حقوق کے حصول کے لئے عدالتوں کے دروازے پر دستک دینے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اگر کوئی ایسی جرات کربھی لے۔تو کارخانے دار اور صنعت کار اپنے ملازم کو پانچ دس ہزار نہیں دے گا مگر کیس جیتنے کے لئے وکیل کو پانچ دس لاکھ ضرور دے گا۔ مہنگائی کے ہاتھوں آج غریب لوگ دو وقت کی روٹی کا بندوبست نہیں کرپاتے۔ ملک کی آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی سطح پر زندگی گذار رہی ہے۔ ان کے لئے روزمرہ ضرورت کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے۔ بجلی، گیس، ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بغیر اشیائے ضروریہ کے دام گھٹانا ممکن نہیں۔توقع ہے کہ نئی حکومت تجربہ کار سیاست دانوں اور معیشت دانوں پر مشتمل ہے وہ عام آدمی کو فوری ریلیف پہنچانے کے لئے جامع پالیسی وضع کریں گے۔ تاکہ سیاسی تبدیلی کے مثبت اثرات عوام تک پہنچ سکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔