چترالی خواتین کا کاروبار کی طرف رجحان خوش آئند ہے۔…تحریر:اشتیاق چترالی

گلابلائزیشن کے اس دور میں دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے افراد کے ساتھ رابطہ اور میل جول اتنا سہل ہو گیا ہے گویا کہ وہ ہمارے Next Door Neighbor ہوں۔

سوشل میڈیا فیسبک،انسٹاگرام،ٹوئٹر،واٹس آپ وغیرہ کے استعمال سے اپنی ذاتی کاروبار اور باقی تعلقات اور میل جول بھی اتنا ہی آسان ہوگیا ہے کہ ہم گھر بیٹھے دنیا کے کسی کونے سے کوئی بھی چیز با آسانی منگوا سکتے ہیں۔

چترال چونکہ اپنی قدرتی حسن،اپنی الگ ثقافت و پہچان،دستکاری اور دیگر دیسی مصنوعات کی وجہ سے مشہور ہے ہی،وہیں پہ چترال کی خواتین بھی کا بھی کاروبار کی طرف راغب ہونا انتہائی خوش آئند ہے تاکہ وہ باعزت روزگار سے خود بھی اپنے پاؤں پہ کھڑی اور خوشحال زندگی گزار سکیں وہیں پہ اپنے ساتھ معاشرے کے دیگر مختلف ہنر سے لیس خواتین کو شامل کرکے معاشی طور پر پریشان حال افراد کے مسائل میں کمی کا سامان کر سکتی ہیں۔

آلوینہ حکیم کا تعلق اپر چترال یارخون کے علاقے چپاڑی سے ہے،پشاور یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کر چکی ہیں۔دوران طالب علمی سے ہی کاروبار کی جانب رغبت رکھتی تھیں اور یونیورسٹی میں دوران طالب علمی دستکاری کے فن میں مہارت اور مختلف ٹریننگ حاصل کر چکی ہیں۔تعلیم سے فراغت کے بعد بجائے گھر میں بیٹھے روزگار کی تلاش میں گھر والوں پہ مزید بوجھ بننے کے(جاب کب ملتی ہے نہیں ملتی کیونکہ پاکستان میں جابز کا ملنا بھی کافی مشکل ہو گیا ہے اور آبادی میں اضافے کے باعث کچھ زیادہ ہی) اپنی ذاتی کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کو AREES Collection کا نام دیا اور خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ اس کا پشاور میں باقاعدہ افتتاح بھی کر دیا۔

آلوینہ حکیم کا بنیادی مقصد چترال کے کلچرل مصنوعات کو مزید بہتر انداز میں پیش کرنے کا ہے،چترال کے ہاتھ سے بنے ہوئے آشیاء کو پورے پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں اپنے اس کاروبار کی وساطت سے پھیلانا چاہتی ہیں۔پشاور میں یا اس سے باہر کسی بھی ثقافتی شو میں چترالی مصنوعات(ڈریسز،ٹوپیاں، پرس، جوتےوغیرہ جو آرڈر پہ بھی تیار کئے جاتے ہیں) کا ڈسپلے کریں اور مزید لوگوں کی توجہ حاصل کر سکیں۔

ان کا اپنے کاروبار میں وسعت کے ساتھ ساتھ Women Empowerment اور چترال کی اپنی بہن بیٹیوں کیلئے بھی کچھ کرنے کا ارادہ ہے جو باوجود تعلیم کے گھروں میں جابز کے انتظار میں بیٹھی ہوں اس کا دائرہ کار بڑھا کر پشاور سے چترال میں بھی اس کے شاخ۔کھول لیں تاکہ یہ افراد بھی معاشرے کی بہتری میں اپنے حصہ ڈال سکیں اور خود بھی اور اپنے خاندان کے ساتھ ساتھ دیگر افراد کو بھی خوشحال بنا سکیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے خواتین کی بھرپور حوصلہ آفزائی ہو سکے اور ہر طرح سے ان کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے تاکہ وہ خود بھی خوشحال ہونے کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دیگر خواتین کو ہنر مند بنا سکیں اور یہ سرکل آگے بڑھتی رہے اور وہ دن بھی جلد یا بدیر آئے گا جب چترال کے ہر گھر میں اپنے اپنے سنٹرزبنے ہوئے ہونگے جو پاکستان کے کسی کونے میں دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے ہوئے افراد کو چترای مصنوعات بھجواسکیں،چترالی مصنوعات کی بہتر انداز میں ترویج ہو سکے اور معاشرہ کی سمت ایک بہتر اور مثبت سمت میں آگے بڑھ سکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔