خیبر صوبائی کابینہ نے صحت کارڈ پروگرام کو مستقل طور پر چلانے کیلئے قانونی تحفظ کی فراہمی کیلئے قانون میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبر پختونخوا صوبائی کابینہ نے صوبے میں عوام کو صحت کی سہولیات فراہمی میں مزیدآسانی اور استقلال پیدا کرنے کیلئے صحت کارڈ پروگرام کو مستقل طور پر چلانے کیلئے قانونی تحفظ کی فراہمی کیلئے قانون میں ضروری ترامیم کی منظوری دیدی جس کا مقصدمستقبل میں عوام کو صحت سے متعلق مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرنا اورانہیں ذہنی سکون فراہم کرنا ہے۔یہ بات وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ بیرسٹر محمد علی سیف نے کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا70واں اجلاس منگل کے روز سول سیکرٹریٹ پشاور میں منعقد ہوا ۔اجلاس میں صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو اور انتظامی سیکرٹریز بھی موجود تھے۔صوبائی کابینہ نے6 سرکاری یونیورسٹیزکو1.9بلین گرانٹ کی بھی منظوری دی ۔تاہم عبدالولی خان یونیورسٹی مردان اور پشاور یونیورسٹی کو بہترین مالی نظم ضبط اوراچھی انتظامی کارکردگی کی بناءپر 50,50 لاکھ روپے کی اضافی گرانٹ کی منظوری دی تھی۔کابینہ نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے ہسپتالوں کو فنڈز کی فراہمی کیلئے سہل طریقہ کار اور رولز کی بھی منظوری دیدی۔صوبائی کابینہ نے چیریٹی کمیشن میں نوجوانوں اور ماہر قانون کو نمائندگی دینے کی منظوری دیدی ہے۔ صوبائی کابینہ نے تحصیل رستم مردان کو سب ڈویژن کا درجہ دینے کی منظوری دیدی۔ صوبائی کا بینہ نے تیز تر ترقیاتی پروگرام کے تحت جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹوں اور پکڑے گئے جنگلی حیات کیلئے حفاظتی پنجروں وغیرہ کے قیام کے ساتھ ساتھ ڈویثرنل فارسٹ آفیسرز اور رینج آفیسرز نارتھ وزیرستان کے لیے دفتروں اور رہائش گاہوں کی تعمیر کیلئے 6کنال اراضی محکمہ جنگلی حیات کے نام منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کا بینہ نے 18ویں ترمیم کے تناظر میں ما حو لیاتی قوانین اور ماحولیاتی پالیسی پر موئثر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے خیبر پختونخوا ماحولیاتی تحفظ کونسل کی تشکیل کی منظوری دے دی ہے جو وزیراعلیٰ کی سربراہی میں کام کرےگی۔ کونسل میں چیف سیکرٹری ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری متعلقہ انتظامی سیکرٹریز اور مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے 10پرائیویٹ ممبران کوبھی نمائندگی دی گئی ہے۔ صوبائی کا بینہ نے موضع دامان پبی ضلع نوشہرہ میںعوام کو ان کی دہلیز پر خدمات کی فراہمی اور آفات و حادثات کی صورت میں فوری امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ریسکیو 1122اسٹیشن کی قیام کی منظوری دیتے ہوئے 4کنال اراضی محکمے کو مستقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کا بینہ نے صوبے کے دور درازمقامات پر سیاحوں کی سہولت کیلئے سیاحتی مقامات پر عارضی قیام گاہوں (Camping Pods)کے قیام کے لیے سینگل سورسنگ کی منظوری دے دی ہے۔صوبائی کا بینہ نے پیہور ہائی لیول کینال کے کمانڈ ایریا توسیعی پراجیکٹ کے تحت کمانڈ ایریا کو صوابی کے بعض مزید علاقوں تک تو سیع دینے کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کا بینہ نے خیبر پختونخوا کمیشن برائے سٹیٹس آف وومن کے آفیشل فیمیل ممبر کے طور پر ممبر صوبائی اسمبلی زینت بی بی کی باقیماندہ عرصہ کیلئے نامزدگی کی منظوری دے دی ہے۔ صوبائی کا بینہ نے معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات باالخصوص یتیموں کی بہتر تعلیم و تربیت یقینی بنانے کیلئے چار باغ سوات میں یتیم بچوں کیلئے سکول اور ہاسٹل کی تعمیر کی منظوری دی اور اس مقصد کیلئے 10کینال اراضی محکمہ سوشل ویلفئیر کے نام منتقل کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ضلع باجوڑ میں دو سب ڈویژنوں کی تشکیل نو اور ایک نئے سب ڈویژن کے قیام کی بھی منظوری دیدی۔ پہلے سے موجود سب ڈویژن خار میں تحصیل خاراور تحصیل برنگ شامل ہوں گے جبکہ سب ڈویژن ناواگئی تحصیل لوئی ماموند، تحصیل واڑہ ماموند اور تحصیل ناواگئی پر مشتمل ہوگا۔اسی طرح نئے سب ڈویژن اتمان سالارزئی میں تحصیل سالارزئی اور تحصیل اتمانخیل شامل ہوں گے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔