وزیراعلی محمود خان کا پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا دورہ،,تین نئے کیتھ لیبارٹریز اور سی ایس ایس ڈی کا افتتاح،

وزیر اعلی کا پی آئی سی کی کارکردگی کی تعریف اور ہسپتال کے لئے 550 ملین روپے فنڈز فراہم کرنے کا اعلان

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے جمعرات کے روز پشاور کے علاقے حیات آباد میں واقع پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی(پی آئی سی) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ساڑھے 51 کروڑ روپے کی لاگت سے نو قائم شدہ تین کارڈیک کیتھ لیبارٹیوں کا افتتاح کیا جن سے پی آئی سی میں کیتھ لیبارٹیوں کی مجموعی تعداد چھ ہوگئی ہے ۔ نئی لیبارٹیوں کے قیام سے پی آئی سی میں انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی کی استعداد کاردوگنی ہوجائے گی ۔اس کے علاوہ وزیراعلیٰ نے پی آئی سی میں تقریباً آٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے قائم کئے گئے سنٹرلائزڈ سٹیرالائزیشن سروسز ڈیپارٹمنٹ(CSSD) کا بھی افتتاح کیا۔ سی ایس ایس ڈی کے قیام سے ہسپتال میں انجیو گرافی ، انجیو پلاسٹی اور سرجری میں استعمال ہونے والے آلات کو جراثیم سے پاک کرنے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے صوبے میں اقتدار میں آتے ہی عمران خان کی قیادت میں صحت اور تعلیم کے شعبے کو پہلی ترجیح دی اور ان شعبوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے ہنگامی بنیادوں پر دوررس اقدامات اٹھائے جن کے بڑے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں محدود پیمانے پر شروع کئے گئے صحت کارڈاسکیم کو صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع ان اقدامات میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے اس اقدام سے صوبے کی سو فیصد آبادی بلا امتیاز مستفید ہو رہی ہے اور صحت کارڈ اسکیم کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے بھی قانون سازی کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے پی آئی سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی صوبائی حکومت کا ایک ایساادارہ ہے جس نے انتہائی قلیل مدت میں اپنا ایک بڑا نام پیدا کیا ہے جس پر ہم سب بجا طور پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پی آئی سی پورے صوبے میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد ادارہ ہے جو صوبے کے عوام کو دل کے امراض کے علاج معالجے کے حوالے سے شاندر اور بہترین خدمات فراہم کر رہا ہے جس کی گواہی لوگ خود دے رہے رہیں۔ پی آئی سی نے اپنے قیام کے ڈیڑھ سال کے اندر پاکستان کا پہلا سرکاری ہسپتال بن گیا جسے انٹر نیشنل سٹینڈرڈ آرگنائزیشن کی طرف سے سرٹیفیکیٹ جاری کیا گیا جو یقینا ہم سب کے لئے ایک اعزاز کی بات ہے۔ محمود خان نے کہا کہ ساڑھے تین سال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جو اصلاحات کی ہے ان کی مثال نہیں ملتی ۔ ہمیں سلیکٹڈ ہونے کا طعنہ دینے والے خود بین الاقوامی سلیکٹڈ بن گئے ہیں ۔ عمران خان نے ملکی خودداری کے لئے اپنے اقتدار کی قربانی دی لیکن ملکی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد عام انتخابات منعقد ہوں گے اور عمران خان دو تہائی اکثریت سے دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوکر اس قوم کی تقدیر بدل دیں گے۔ عمران خان کی کال پر لاکھوں لوگوں کا نکلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان آج بھی ملک کے عظیم ترین لیڈر ہے اور وہی ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنان کو ہدایت کی ہے کہ پاک فوج ملک کا ایک عظیم ادارہ ہے اور ہم سب نے ملکر اس ادارے کو مضبوط بنانا ہے ۔ پارٹی کارکنان پاک فوج پر تنقید کرنے سے گریز کریں ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان جس مقصد کے لئے بنا ہے عمران خان کی قیادت میں ہم اسے حاصل کرکے رہیں گے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرنے والے سندھ پر توجہ دیں ، سندھ کا شعبہ صحت تباہ حالی کا شکار ہے ۔ صوبائی کابینہ اراکین تیمور سلیم جھگڑا ، اشتیاق ارمڑ، بیرسٹر محمد علی سیف بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے صحت کے شعبے میں متعارف کرائی گئی اصلاحات اور اس شعبے کے فروغ کے لئے اٹھائے گئے اقدامات اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر شاہکار نے پی آئی سی کی اب تک کی کارکردگی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سولہ ماہ کے دوران 43 ہزار سے زائد امراض قلب کے مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔ آٹھ ہزار سے زائد انجیو گرافی اور انجیو پلاسٹی پروسیجرز کئے گئے جن میں 230 سے زائد بچے بھی شامل ہیں۔ سولہ ماہ کے قلیل عرصے میں 1500 سے زائد دل کے آپریشن کئے گئے ہیں جن میں 307بچے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسی سال پی آئی سی میں بغیر سینہ چاک کئے گئے پروسیجرز بھی کئے گئے ہیں۔ پی آئی سی واحد سرکاری ہسپتال ہے جس نے پانچ ماہ کے عرصے میں کالج آف فزیشنز اور سرجنز آف پاکستان سے پوسٹ گریجویٹ کورسز کی منظوری حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر شاہکار نے بتایا کہ 95 فیصد مریضوں کا علاج صحت کارڈ کے تحت بالکل مفت کیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے پی آئی سی کے معیار کو مزید بڑھانے اور جی سی آئی اے کی ایکریڈیشن کے لئے 550 ملین روپے کے فنڈز کی فراہم کااعلان کیا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔