وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت محکمہ آبنوشی کا جائزہ اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)صوبے کے مختلف اضلاع میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے محکمہ آبنوشی خیبر پختونخوا کے تحت 134 مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں سے 21 منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ تکمیل کے قریب منصوبوں میں ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد کی مختلف یونین کونسلز میں واٹر سپلائی سکیموں کی تعمیر ، لکی مروت میں مختلف واٹر سپلائی سکیموں کی تعمیر و سولرائزیشن ، ضلع خیبر میں سولر بیسڈ واٹر سپلائی سکیم ، گریوٹی بیسڈ واٹر سپلائی سکیم اور ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن ، ضلع مہمند میں موجودہ واٹر سپلائی سکیموں کی سولرائزیشن ، ڈیرہ اسماعیل خان میں سولر پریشرپمپس کی تعمیر و بحالی،تیمر گرہ گریوٹی واٹر سپلائی سکیم کی فزیبلٹی اور دیگر شامل ہیں۔ تکمیل کے قریب منصوبوں پر مجموعی طور پردو ارب روپے سے زائد لاگت آئے گی ۔ یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت محکمہ آبنوشی کے جائزہ اجلاس میں بتائی گئی ۔ صوبائی وزیر برائے آبنوشی شکیل خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، سیکرٹری آبنوشی ادریس خان اور محکمہ آبنوشی کے دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو محکمہ آبنوشی کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت ، محکمے میں اصلاحات اوردیگر اُمور پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس کو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے 134 منصوبوں پر کام جاری ہے جن میں 114 جاری اور 20 نئے منصوبے شامل ہیں۔ ان منصوبوں میں39 ارب روپے مالیت کے 29 ترجیحی منصوبے بھی شامل ہیں جن میں ضلع مانسہرہ میں گریوٹی فلو واٹر سپلائی سکیم کوہاٹ میں دریائے سندھ سے ویلج رحمن آباد، شکردرہ اور دیگر ملحقہ علاقوں کو پانی کی فراہمی ، بنوںمیں تحصیل بکہ خیل اور ملحقہ علاقوں کو پانی کی فراہمی ، لکی مروت کی مختلف یونین کونسلز میں ٹیوب ویلز کی سولرائزیشن ، لواغر ڈیم سے کرک سٹی کو پانی کی فراہمی کیلئے گریوٹی فلو واٹر سپلائی سکیم ، شلمان گریٹر واٹر سپلائی اسکیم اور دیگر شامل ہیں ۔علی مسجد واٹر سپلائی سکیم کی لاگت 194 ملین روپے ہے جبکہ 30 ہزار افراد اس سے مستفید ہوں گے ۔ مانسہرہ واٹر سپلائی سکیم سے دو لاکھ سے زائد افراد مستفید ہوں گے ۔ لواغر ڈیم واٹر سپلائی سکیم سے54 ہزار سے زائد لوگ مستفید ہوں گے۔ شلمان واٹر سپلائی سکیم سے 2 لاکھ 80 ہزا ر افرادمستفید ہوںگے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پینے کے پانی کے معیارکی مانیٹرنگ کیلئے مختلف اضلاع میں آٹھ لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں جبکہ ضم اضلاع میں تین لیبارٹریوں کے قیام پر کام جاری ہے ۔ اس کے علاوہ آٹھ موبائل واٹر کوالٹی لیبز بھی کام کر رہی ہیں ۔مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران اب تک 3984 نمونے ٹیسٹ کئے گئے ہیں جن میں سے 3676 پینے کے قابل قرار پائے گئے ہیں ۔اجلاس کے شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ اب تک1351 واٹرسپلائی سکیموں کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے جس سے سالانہ دو ارب روپے سے زائد کی بچت ہوگی۔اس کے علاوہ واٹر چارجز کی مد میں محکمے نے اپنے ہدف کا 84 فیصد حاصل کرلیا ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک سو فیصد ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ محکمہ کے تحت ای بڈنگ سسٹم مکمل کر لیاگیا ہے جبکہ رواں سال مئی کے آخر تک ای ورک آرڈر بھی مکمل کر لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے آبنوشی کے ترقیاتی منصوبوں پر اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو عوامی فلاح کے ان منصوبوں کی مقررہ مدت تک تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔