بھلا ماں کا بھی کوئی دن ہوتا ہے؟؟ ۔۔۔تحریر: شہاب ثنا۔۔۔۔

ماں کے بغیر تو .کوئی دن ہی نہیں ہوتا

تیرے ہاتھوں کی کرامت کی تو پھر کیا ہی بات ہے ماں۔۔

مجھ کو تو تیرے قدموں کی مٹی بھی سکون دیتی ہے۔۔

آج “ماں”سے محبت کے اظہار کا دن ہے۔۔

میری “ماں” میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔

“ماں” کہنے کو تو تین لفظوں کا مجموعہ ہے مگر اپنے اندر کل کائنات کو سمیٹے ہوئے ہیں ماں کی عظمت پر کچھہ لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔۔لفظ “ماں” دنیا کے جتنی زبانیں ہیں جس زبان میں بھی بولا جائے ماں کے لفظ میں مٹھاس ہے ۔ماں شفقت،خلوص،بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔۔ماں تپتی دھوپ میں بادنسیم کے جھونکوں کے مانند ہے ۔۔ابر برآں میں قوس قزاح کے رنگوں کی مانند ہے۔۔جس گھر میں ماں جیسی ہستی موجود ہے وہ گھر کسی جنت سے کم نہیں ہے۔۔ماں وہ ہستی ہے جس کی دعاؤں سے انسان دنیا میں بھی کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کی خدمت کرنے سے آخرت بھی سنور جاتی ہے۔۔ماں کے پیروں تلے باری تعالیٰ نے جنت رکھی ہے تو اس سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ماں کا کیا مقام ہے؟؟ارے ماں تو وہ ہستی ہے جو جب اپنے بچے کو پیدا کرتی ہے تو موت کے منہ میں جاکر بھی ہنستی ہے کہ میرے بچے کو دنیا میں آنکھ کھولنے میں تکلیف نہ ہو نہ شکوہ اور نہ شکایت کرتی ہے اور کبھی کبھی خوشی خوشی موت کو گلے لگا لیتی ہے۔۔ماں لفظ ہی بہت خوبصورت ہے جو محبت ، فروزاں،زعم سے مل کر بنتا ہے۔۔ماں خود قانع میں رہ لیتی ہے مگر اپنے بچے کے لیے تمام آسائشیں کا مطالبہ کرتی ہے ۔ماں کی زبان پر اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ دعائی کلمات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے انسان کی بخت میں تبدیلی آجاتی ہیں انسان فقیر سے بادشاہت تک پہنچ جاتا ہے۔۔

اس دنیا میں ہر چیز کا پیمانہ موجود ہے جیسے سورج، چاند،دن رات،زمین آسمان کے درمیان ہر چیز کا پیمانہ موجود ہے ۔۔۔مگر۔۔۔ماں کی محبت کا اپنی اولاد کے لیے کوئی آلہ آنے والے وقتوں میں ایجاد ہو جو ماں کی محبت کا حساب لگا سکے۔ماں کی محبت اپنے اولاد کے لیے بے حساب ہوتی ہے

روایت میں ہے !!کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ایک شخص نے دریافت کیا!!”یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم!! میرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق کون ہے؟؟رسول اللّٰہ نے فرمایا تیری ماں۔۔پھر پوچھا کون ہے؟؟پھر فرمایا تیری ماں۔۔تین بار رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے یہی جواب دیا۔۔چوتھی بار پوچھنے پر ارشاد فرمایا “تیرا باپ

ماں اللّٰہ پاک کی نصیحت عظیم،عقل و شعور کی پہلی درسگاہ ،خلوص کا سر چشمہ اور ایسا باغ جہاں ہر وقت اولاد کے لیے پھولوں کی پتوں کی طرح نرمی ہی نرمی ہے ۔۔ماں کی عظمت و تکریم کہ اس کے سخت اور تکلیف والے رویے پر بھی اولاد کو لفظ آف بھی کہنا ان کے مرتبے کے خلاف اور بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے۔اس لیے ان کے ساتھ بد اخلاقی،گستاخی اور بدسلوکی سے پیش نہ آیا کرے۔۔

ہم پر کچھ قرض ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں ہم چاہ کر بھی زندگی بر ادا نہیں کر سکتے۔۔

کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جن کو ماں کی محبت کی چھاؤں نصیب نہیں ہوتی ۔لیکن ماں چاہے پاس ہو یا دور اسے محبت کم نہیں ہو سکتی ۔۔کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے خود اس دنیا اس جنت کو اپنے سے دور کیے رکھا ہے۔۔لیکن جب تک اس کا احساس ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اللّٰہ پاک ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے آمین۔۔

آخر میں اللّٰہ تبارک وتعالیٰ کے حضور دعا ہے جن کی مائیں حیات ہیں اللّٰہ پاک انھیں اچھی صحت اور زندگی دے اور جن کی مائیں وفات پا گئی اللّٰہ پاک انھیں صبر دے آمین  بس اتنا ہی قلم نے ساتھ دیا۔

جو ہوا تجھ کو چھو کے آتی ہے ہم اسے بھی سلام کرتے ہیں۔

سوچتے ہیں ہم تجھے وضو کرکے یوں تیرا احترام کرتے ہیں۔

#HappyMothersDay#

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔