دادبیداد۔۔۔خوشی کاراز۔۔۔۔۔۔ڈاکٹرعنایت اللہ فیضی

خوشی کس کوملتی ہے؟خوشی کا راز کیا ہے اس پر ہارورڈیونیورسٹی کے تازہ ترین سروے میں تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے اور مغرب میں ہونے والا یہ سروے مشرقی روایات کے ساتھ اسلامی تعلیمات کی صداقت اور افادیت پر مہر تصدیق ثبت کرتا ہے۔گذشتہ سال ایک ڈاکٹر کا عجیب طریقہ علاج سوشل میڈیا کی زینت بناتھا۔ایک کھرب پتی شخص باربار ڈاکٹر سے علاج کرواتا تھا لیکن علاج کا فائدہ نہیں ہوتا تھا تنگ آکر ڈاکٹر نے دوائیاں بندکرکے مریض کو گاؤں جاکر تین ماہ گذارنے کا مشورہ دیا۔مریض کو بے خوابی،پریشانی،ذہنی تناؤ،دماغی بیماری اور دل کی بے سکونی کا مرض لاحق تھا۔مریض 50سال بعدشہر،کاروبار اور شہری زندگی کی تمام مصروفیات کو چھوڑ کرگاؤں چلاگیا۔ٹیلیفون،ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ کی سہولیات سے محروم ہوا۔گاؤں میں ماں اور باپ کے پرانے رشتہ داروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ان کی سادہ زندگی کو دیکھا،چچا زاد اور ماموں زاد بھائیوں سے ملاقاتوں میں پتہ چلا کہ ان کوبچوں کی تعلیم،بیماروں کے علاج اور گھر کا چولہا چلانے میں کتنی تکلیف ہوتی ہے کس غربت میں وہ زندگی گذاررہے ہیں۔کوئی ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ بعد اس کو خیال آیا کہ مجھے ان رشتہ داروں کی مدد کرنی چاہیئے چنانچہ اُس نے سب کی کچھ نہ کچھ مدد کی۔اس طرح تین ماہ گذارنے کے بعد وہ مکمل صحت یاب اور تندرست ہوکر ڈاکٹر کے پاس آیا،ڈاکٹر نے اس کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا دل کا سکون،دماغ کی مسرت اور خوشی رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی میں رکھی گئی ہے ہم اس کو نیند کی گولیوں میں تلاش کرتے ہیں۔گاؤں میں ماں باپ کے قرابت داروں کے ساتھ جڑے رہیئے کبھی آپ کو بے سکونی اور ذہنی تناؤ کی شکایت نہیں ہوگی۔ہارورڈ یونیورسٹی نے76سالوں کے اندر فارغ التحصیل ہونے والے طالب علموں پرایک جامع سروے کرایا،جن طالب علموں کو سروے میں شامل کیاگیا ان میں چاند پراُترنے والے خلاباز،نوبل انعام لینے والے سائنسدان،شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے اداکار،عالمی سطح پر خود کو منوانے والے کھلاڑی،امریکی صدارت پرفائز ہونے والے سیاستدان اور کاروبار کی دنیا میں نام پیدا کرنے والے کھرب پتی تاجر شامل تھے۔ان لوگوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا تفصیلی سروے ہوا توپتہ لگاکہ ان میں سے82فیصد وہ خواتین وحضرات تھے جن کو زندگی میں کبھی خوشی نہیں ملی،سکون کا سانس نصیب نہیں ہوا۔وہ سکون کی نیند کو ترستے رہے۔نیند کی گولیاں کھاکھاکر پاگل ہوگئے اور ایڑیاں رگڑ کرمرگئے جن18فیصد خوش نصیبوں کو سکون قلب کی دولت نصیب ہوئی وہ ڈالروں کی چکا چوند میں نصیب نہیں ہوئی،رشتہ داروں کی قربت کی وجہ سے نصیب ہوئی،جن لوگوں نے دولت اور شہرت ملنے کے بعد رشتے نبھائے،اپنوں کو گلے لگایا،قرابت داروں کو اپنے پاس بٹھا یا،رشتہ داروں کی دل جوئی کی،قرابت داروں کی حوصلہ افزائی کی،اپنوں اور غیروں میں فرق کیا،اپنوں کو قریب لایا غیروں کو فاصلے پررکھا۔ان کو سکون ملا،ان کو خوشی کی دولت نصیب ہوئی۔جن شخصیات نے اپنوں سے منہ موڑ لیا،رشتہ داروں اور قرابت داروں سے دوری اختیار کی ان کو کو نہ خوشی ملی نہ سکون ملا،یہاں تک کہ دولت اور شہرت ان کے کسی کام نہیں آئی،عہدہ اور اختیار سے انہیں کچھ بھی نہیں ملا،مغرب میں انتہائی ترقی یافتہ معاشرے کی سب سے بڑی یونیورسٹی سے بڑی بڑی ڈگریاں لیکر فارغ ہونے کے بعد سوسائیٹی میں اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے چیدہ چیدہ لوگوں پرجوسروے کیا گیا اس کے نتائیج سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مشرقی روایات کے مطابق مشترکہ خاندان انفرادی خوشی اور سکون قلب کی کنجی ہے،سروے کے نتائج سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں قرابت داروں کے ساتھ بھلائی اور رشتہ داروں کے احترام کا جودرس دیا گیا ہے وہ حکمت اور صداقت سے خالی نہیں۔دنیا میں جو ریسرچ ہوتی ہے وہ سبق حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتی ہے بڑا سبق یہ ہے خوشی کا راز رشتے نبھانے میں ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔