کوشش کرکے چترال کےہر نوعیت کے مسائل سے عوام کو نجات دلائیں گے،کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کی کھلی کچہری سے خطاب

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی نے کہا ہے کہ وہ سرخ فیتہ کے سخت مخالف ہیں اور سرکاری دفاتر میں عوام کے کام بلاتاخیر اور بغیر کسی مشکل اور رکاوٹ کے حل کرنے اور کروانے پر یقین رکھتے ہیں اور کاغذی ترقی اسکیم اور غیر معیاری کام بالکل برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے علاقہ اختیار میں منشیات فروشوں کا وجود برداشت کرتے ہیں۔ اتوار کے روز ٹاؤن ہال چترال میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ چترال کی پسماندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس نے بطور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کا چارج سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے چترال کا دورہ کرکے یہاں عوام سے ان کے مسائل کے بارے میں جاننے کے لئے چلے آئے ہیں اور اپنے مقدور بھر کوشش کرکے ہر نوعیت کے مسائل سے عوام کو نجات دلائیں گے جبکہ چیف منسٹر محمود خان بھی چترال کے اضلاع کی ترقی میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے مختلف شکایات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے چترال میں معدنیات کی لیز نگ پالیسی میں تبدیلی لاکر مقامی درخواست دہندگان کو دلانے، دی لینگ لینڈز سکول اینڈ کالج کے بارے میں متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے مسائل کا حل نکالنے اور افغانستان کے صوبہ بدخشان کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے ارندو بارڈر کھولنے کے بارے میں بھی متعلقہ حکام کے نوٹس میں لانے کی یقین دہانی کرائی۔ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر لویر چترال انوار الحق نے بھی مختلف شکایات کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ این ایچ اے کے ذریعے لواری ٹنل اپروچ روڈ سمیت شندور روڈپر کام جاری ہے جبکہ گرم چشمہ روڈ کو عید الفطر کے موقع پر بارش کے فوراً بعد ٹریفک کے لئے کھول دیا گیا۔ انہوں نے پرائس کنٹرول کو مزید مربوط بنانے، بازار اور بائی پاس روڈ کے ایریا میں پارکنگ کا مسئلہ حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ منشیات کے بارے میں انہوں نے کہاکہ مقامی پولیس نے اگر تعاون کیا تو اس دھندے میں شامل تمام افراد کو ڈی آئی خان جیل بھیجنے میں ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر نہیں کریں گے تاکہ معاشرے کو ان کی تباہ کاریوں سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے معذور افراد کے جملہ مسائل کو ترجیحی بنیادوں پرحل کرنے اور ہر سرکاری بلڈنگ میں معذور افراد کی آسانی کے لئے ریمپ کی تعمیر کے لئے سی اینڈ ڈبلیو ڈیپارٹمنٹ کے ایگزیکٹیو انجینئر کو ہدایت کردی۔ اس موقع پر اپر چترال ضلع کی تخلیق کی وجہ سے ملازمین کی بائی فرکیشن کے مسئلے کے حل کے لئے کمیٹی تشکیل دینے، ارندو دمیڑ میں محکمہ جنگلات میں ملازمتوں میں مقامی افراد کو ترجیح دلوانے اور چترال ٹاؤن میں پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔ عوامی مسائل کی نشاندہی کرنے والوں میں سابق ایم پی اے سعید احمد خان، الحاج عید الحسین، صدر تجار یونین بشیر احمد، وجیہ الدین، حاجی یوسف، حاجی جلیل، قاضی وقار ایڈوکیٹ، مولانا گلاب الدین، ثناء اللہ، شیر مراد، لیاقت علی، اظہر اقبال، خورشید احمد، منیر احمد چارویلو، فضل الرحمن، غلام حسین، اخلا ق حسین، قاری عبدالرحمن گوجر، محمد اسلام، شبیر احمد خان شامل تھے۔ کھلی کچہری میں تحصیل لوکل گورنمنٹ دروش کے منتخب چیرمین شہزادہ خالد پرویز، اسسٹنٹ کمشنر چترال وقاص چودھری، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شہزادہ حیدر الملک، ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر فیاض رومی، ڈی ایف او فارسٹ آصف علی شاہ، ایکسئن سی اینڈ ڈبلیو ریاض ولی شاہ، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افیسر 1122امجد خان، ڈسٹرکٹ افیسر سوشل ویلفئیر نصرت جبین، ڈپٹی ڈائرکٹر زراعت رفیق احمدموجود تھے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔