“” وادی کیلاش کے سڑکوں کی خستہ حالی اور فیسبکی دعوے۔۔”” تحریر ۔۔۔۔۔۔ فتح اللہ

وادی کیلاش سیاحت کے اعتبار سے پاکستان کا اہم سیاحتی مرکز ہے لیکن وادی کیلاش میں تمام سہولتوں کا فقدان ہے سڑکین خستہ حال ہیں حکومتی دعووں اور اعلانات کے باوجود سڑکوں کی حالت جوں کے توں ہے۔ سیاح لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے بے شمار مشکالات سے دوچار ہونے کے باجود عید اور دیگر فیسٹولو ں میں سالانہ لاکھوں سیاح سیر و تفریح کے لیے یہاں آتے ہیں ۔ وادی کیلاش میں مال مایوشی پالنے اور زمینداری کرکے روزگار کمانے سے زیادہ کیلاش لوگ سیاحت سے وابستگی اختیار کر چکی ہے اور خوب کما رہے ہیں کیلاش کا 70 ٪ لوگ سیاحت کے ساتھ وابسط ہیں ۔ سیاحت کی ترقی میں راستوں کا کلیدی کردار ہے جہاں بھی سیاحت کی رجحان بڑھانا ہے ہو وہاں پر سکون اور آرام دہ سفر کے لئے آرم دہ روڈ بننے چاہے مگر وادی کیلاش میں پاکستان کی آزادی سے لے کر اب تک پکی سڑک نہیں بنا ہے جو کہ قابل افسوس ہے کیونکہ یہاں غیر ملکی شہری سیاحت کے لئے آتے ہیں اور وہ اس پر حیرانی کا اظہار کرتے ہیں کہ عالمی شہریت یافتہ سیاحتی مرکز وادی کیلاش میں اب بھی آمدروٖفت کے لئے پر سکون روڈ نہیں ۔ موجودہ حکومت کی طرف سے سوشل میڈیا کے پلٹ فارم فس بک پر چار سالوں سے بے شمار پوسٹیس دیکھنے کو ملے کہ بہت جلد روڈ پر کام کا آغاز کیا جائے گا اور کئی مرتبہ زمین کی خرایداری کے لئے پیسے مختص کرنے کے بڑے بڑے دعوے دیکھنے کو ملتے رہے مگر عملی طور پر کوئ کام نہیں کر پائے ۔ پوسٹیس اور دعووں کا یہ سلسلہ کبھی کم نہیں ہوئی تو لوگ سڑکوں پر آگئے اور احتجاج کیا ، یہاں تک کہ خواتین بھی سڑکوں پر نکلی اور چترال پریس کلب میں پریس کانفریس بھی کیں ۔ مقامی لوگوں کی محنت رنگ لے آئی اور تمام تر صورت حال پر وزیر اعلی محمود خان نے برہمی کا اظہار کیا کہ ایم اپی اے وزیر زادہ اقلیتی وزیر ہونے کے باجود بھی اپنے علاقے کا بنیادی مسلہ حال نہیں کر سکے، جس پر وزیر زادہ کافی پریشان ہوگئے اور روڈ تعمیر کرنے کے لئے سر توڑ کوشش کی مگر ناکامی اور نااہلی مقدر بنی اور کامیاب نہ ہو سکا۔ اقلیتی نشیت پر ایم پی اے بننے کے بعد وزیر زادہ کیلاش کا اقلیتی اموار کا عہدہ سنبھالتے ہی فس بک پر روڈ تعمیر کرنے کے دعووےاب تک جاری ہیں ۔ انہوں نے فس بک کی پلٹ فارم سے کئی مرتبہ روڈ تعمیر کرنے کی تسلی دی۔ وزیر زادہ کی طرف سے کیے گئے وعدوں کے دن ہفتوں میں گزر گئے، ہفتے مہنوں میں گزر گئے ، مہنے سالوں میں گزر گئے اور ملک میں سیاسی بحران پیدا ہوگئے مگر موصوف نے اب تک فس بکی دعوے نہیں چھوڑے ہیں۔ جب بلدیاتی الیکشن قریب آگئے تب موصوف نے آختیارت کے بل بوتے پر روڈ پر کام کا آغاز کروایا جس کے بعد ایلکشن ختم ہوگئے لوگوں نے یقین کر لیا کہ مشنیری آگئے ہیں اب باقاعدہ طور پر روڈ پر کام شروع ہوگئ ۔ سیاسی پالیسی کے تحت ایلکشن کے فوری بعد کام بند کر دیا گیا ہے ۔ اس تمام تر صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہچتے ہیں کہ وزیر زادہ صاحب روڈ تعمیر کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اس ناکامی کو چھپانے کے لئے اس سے مزید دعوے فیس بک پر کرنے ہونگے۔ اگر وقعی میں روڈ تعمیر کی جا رہی ہے تو حکومت نے روڈ کے حدود میں موجو د عوامی املاک کی قیمت ادا کیوں نہیں کی۔۔۔؟ الیکشن کے دوران کیلاش وادی میں کام کا آغاز ہوا تھا اب وہاں پر کام کیوں نہیں ہو رہی ہے۔ ؟
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔