صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں انسداد پولیومہم کا افتتاح کوآرڈینیٹرایمرجنسی آپریشن سنٹر عبدالباسط نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاکر کیا

پشاور(چترال ایکسپریس) صوبہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع میں انسداد پولیومہم کا افتتاح کوآرڈینیٹرایمرجنسی آپریشن سنٹر عبدالباسط نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلاکر کیا۔ اس موقع پر اُنہوں نے کہا کہ شمالی وزیرستان سے 3پولیو کیسز کا سامنے آنا تشویش ناک ہے۔وائرس کی ترسیل کو روکنے کے لیے انسداد پولیو مہم 23مئی سے شروع کی جارہی ہے جس کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے72لا کھ85ہزار797بچوں کو پولیو سے بچاوء کے قطرے پلوائے جائیں گے اس موقع پر ڈپٹی کوآرڈینیٹر زمین خان، یونیسیف، این سٹاپ، ڈبلیو ایچ او اور ای او سی کے نمائند ے موجود تھے عبدالباسط نے و الدین سے اپیل کی کہ پیر سے شروع ہونے والی انسدادپولیو مہم میں والدین پولیو ورکرز کے ساتھ تعاون یقینی بنائیں تاکہ ہمارے بچے اس موضی مرض سے محفوظ رہیں انہوں نے کہا ہمیں کیسزرپورٹ ہونے پر مایوسی ہوئی ہے تاہم ہم پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں ” انھوں نے مذید کہا کہ ” کیسزخیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں جہاں سے ماحولیاتی نمونوں سے وائرس کی نشاندھی کی گئی تھی، یہاں پر پہلے سے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں مہمات میں کامیابی کے لئے موثر حکمت عملی بنائی گئی ہے تاہم سیکیورٹی سمیت بعض مسائل کا تاحال سامنا ہے ان مشکلات کے باوجود ہمارے بہادر فرنٹ لائن ورکرز بچوں تک ویکسین کی رسائی ممکن بنا رہے ہیں بیان کے مطابق دنیا بھر سے پولیو وائرس ٹائپ ون اور ٹو کا خاتمہ ہوچکا ہے جبکہ ڈبلیو پی وی ون میں تاریخی کمی واقع ہوئی ہے رواں برس ایک کیس افغانستان اور ایک کیس ملاوی اور تین پاکستان کے ضلع شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں۔انسداد پولیومہم کے لئے تربیت یافتہ پولیو ورکرز کی 30ہزار981ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جس میں 27ہزار763موبائل، 1ہزار908 فکسڈ، 1ہزار 161ٹرانزٹ اور 149رومنگ ٹیمیں شامل ہیں ان ٹیموں کی موثر نگرانی کے لیے 7ہزار481ایریا انچاجزکی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ان ٹیموں کی سیکورٹی کے لئے 40ہزارپولیس اہلکاورں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہیں۔وائرس کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت اپنی بھرپور جدو جہد جاری رکھے ہوے ہے مگر والدین ہر مہم میں اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں پاکستان اور افغانستان دنیا کے دو ممالک ہیں جہاں پر پولیو وائرس ابھی بھی موجود ہے جب تک اس وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتاتب تک بچوں کی معذوری کا خطرہ موجود رہے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔