بچے اور ان کی پرورش…تحریر: اقبال حیات اف برغذی

بچے گلشن حیات کے وہ پھول ہیں جن کی مہک سے معاشرتی زندگی معطر رہتی ہے۔ ان پھولوں کا رنگ اگرچہ مختلف ہوتے ہیں ۔مگر ان کی طرف میلان میں فرق محسوس نہیں کیا جائے گا۔ اوران پھولوں کی آبیاری کے سلسلے میں بھی کسی تمیز اور فرق کا احساس نہ ہوگا۔

پھول کلیوں سے مجھے محبت ہے لوگو

بچہ دشمن کا بھی لخت جگر لگتا ہے مجھے

یہی وہ احساس اور جذبہ ہے جس کی دین اسلام ہمیں تعلیم دیتی ہے۔معصومیت کے اس دور میں مذہبی جذبات اور تصورات کی نظر سے نہیں دیکھا جاے گا۔ بلکہ پیارومحبت کے پھول بلاتخصیص سب پر نچھاور کرنے ہونگے۔ اور کسی بھی طرح سے معصوم دل کو ٹھیس پہنچانے سے احتراز کرنا ہوگا۔ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ جو ہمارے بڑوں کی تعظیم وتکریم اور چھوٹوں سے پیار نہیں کریگا۔وہ ہم میں سے نہیں۔بچوں کی تربیت کے سلسلے میں خاندان کے بڑوں کا کردار باغ کے مالی کی طرح ہوگا۔جس طرح مالی وقتاً فوقتاً پھولو ں اور دیگر پودوں کی شاخ تراشی کرتا رہتا ہے۔ اور باغ کی خوبصورتی  کا تصور اس عمل کا محرک ہوتا ہے۔ اسی طرح بچوں  کو بھی ناشائستہ حرکات وسکنات پر وقتاً فوقتاً سرزنش کرنےکی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ خاندان کے مکینوں کے باہمی طرز عمل اور گھر کے باہر بچوں کی صحبت کے اثرات سے بچوں کا متاثر ہونا لازمی امر ہے۔

بچوں کی تربیت کے سلسلے میں جہاں بہت سی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔وہاں نظروں  سے گزرا ہوا تربیت کا ایک انوکھا واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے قابل ذکر ہے۔ ایک عالم دین پنسل سے کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا ۔اس کا چھوٹا لڑکا قریب آکر ان سے دریافت کرتے ہیں کہ “بابا کیالکھ رہے ہیں” عالم دین مسکراتے ہوے کہتے ہیں کہ بیٹا میرے کچھ لکھنے سے زیادہ اہم یہ کہ اس پنسل کے اوصاف کا حامل بنو۔ بچہ تعجب آمیز نگاہوں سے پنسل کی طرف دیکھنے لگا۔ اور بڑی دیر تک گھورنے کے بعد بھی اس کا کوئی خاص وصف اسے متاثر نہ کرسکا۔ اپ بچے سے رہا نہ گیا۔ اور اپنے باپ سے پنسل کے قابل تقلید اوصاف کے بارے میں دریافت کیا۔

باپ بچے کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پیار کے انداز میں پکڑتے ہوئے کہنے لگا کہ میری جان اس پنسل میں پانچ ایسی خوبیاں ہیں جن کے بڑے ہونے کے بعد آپ کے وجود میں دیکھنا چاہتا ہوں۔

1۔      تم بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہو لیکن یہ مت بھولنا کہ کوئی ہاتھ ہے جو تمہیں چلا رہا ہے اور تم سے یہ کارنامے کروارہا ہے ۔وہ اللہ تعالی کا دست قدرت ہے۔

2۔      جب کبھی اس کی نوک گھس جاتی ہے تو چاقو یاکڑسے اسے تراشا جاتا ہے ۔یہ اگرچہ ایک اذیت ناک چیز ہے ۔مگر اس کی نوک تیز ہونے پر یہ اچھے کام کرنے لگتی ہے۔ پس تمہیں بھی یہ جان لینا چاہیے کہ جو دکھ اور صدمہ زندگی میں پہنچتا ہے۔ وہ تمہاری بہتر کارکردگی کاذریعہ بنے گا۔

3۔      پنسل یہ اجازت دیتی ہے کہ اس سے اگر کوئی غلطی ہوجائے تو ربڑ سے اسے مٹاکر اپنی غلطی کی اصلاح کرسکو۔ تم یہ سمجھ لو کہ ایک غلطی کو صحیح کرنا غلطی نہیں ہوتی۔

4۔      یہ بات ذہین نشین رہے کہ پنسل کا خول اور لکڑی تحریر کرنے کے کام نہیں آتے بلکہ لکھنے میں ہمیشہ وہ معز کام آتا ہے۔ جو اس لکڑی کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ بس تم بھی یہ یاد رکھو کہ تمہارے جسم کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی روح اور ضمیر قدوقیمت کے حامل ہیں۔

5۔      پنسل جب کچھ لکھتی ہے تو اپنے کچھ نقوش کا غذ پر چھوڑ دیتی ہےجو مدتوں کا غذ پردیکھےجاسکتے ہیں پس تم بھی یہ بات یاد رکھو کہ تم جو بھی کام کروگے ان کے نقوش تمہارے بعد باقی رہینگے ۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم کیسے نقوش چھوڑ کر جاتے ہو اسلئے کسی کام کی انجام دہی سے قبل خوب سوچ لو کہ میں کہیں غلط کام تو نہیں کررہا ہوں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔