کاروباراور صنعت سے وابستہ چھوٹے بڑے کاروباری افراد کو ٹیکسز اور نوٹسز کی بجائے سہولیات دی جائیں ۔کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی پشاور سرتاج احمد خان 

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبر پختونخوا کے کاروباری طبقے نے آنے والے بجٹ 2022-23 کے لیے تجاویز محکمہ خزانہ کے سپیشل سیکرٹری فنانس احمد سفیر کو دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک اعلیٰ سطحی ایڈوائزری کونسل کا قیام عمل میں لایا جائے جس میں حکومت اور متعلقہ اداروں سمیت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اورصوبے کے چیمبرز سے نمائندے شامل ہوں ، کاروباری طبقے کو ٹیکسز کی بھر مار ، کسٹم اہلکاروں کے نامناسب رویے ، بلا سود قرضوں کے حصول میں مشکلات ، بارڈر سٹیشنز پر تجارت میں کمی اور بجلی کے انتہائی مہنگے یونٹس سمیت دیگر مسائل کا سامنے ہے جنکا فوری حل کاروبار کی ترقی اور معیشت کے استحکام کے لیے ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز صوبے کے مختلف چیمبرز آف کامرس کے عہدیداروں کے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے ریجنل دفتر میں بجٹ 2022-23 بارے منعقدہ مشاورتی اجلاس کے بعد سپیشل سیکرٹری فنانس سفیر احمد سے ملاقات کے دوران کیا گیا ۔ اس ملاقات میںسیکرٹری فنانس اکرام اللہ، ہیڈ آف منیجمنٹ یونٹ فنانس قیوم خان ، کارپوریٹ گورننس یونٹ فنانس راحت گل، محکمہ خزانہ ٹیم ، ایف پی سی سی آئی پشاور ، سرحد چیمبر آف کامرس سمیت صوبہ بھر کے چیمبرز سے آئے عہدیداروں نے شرکت کی اور بجٹ بارے اپنی تجاویز سے بھی آگاہ کیا جبکہ کاروباری طبقے کو موجودہ درپیش مسائل بارے بھی ذکر کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے میں بزنس کمیونٹی کو کئی ایک مسائل کا سامنہ کرنا پڑ رہا ہے جس میں ٹیکسز کی بھر مار اور ٹیکس کا غیر منصفانہ طریقہ کار سر فہرست ہے جسکی وجہ سے کاروبار میں مندی کا رجحان زیادہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اکنامک زونز تو بنائے جارہے ہیں تاہم انکو چلانے کے لیے بجلی کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے اور بجلی کے فی یونٹ کی قیمت بھی زیادہ ہے ۔ بیرون دنیا میں ترقی کرنے والے ممالک نے کاروباری طبقے کو سہولیات دیں تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جاسکے تاہم بد قسمتی سے دہشت گردی سے متاثرہ صوبہ خیبر پختونخوا میں کاروبار کی ترقی میں روکاوٹیں حائل ہیں جسکی وجہ سے نا ہی کاروبار ترقی کر سکا اور نا ہی معیشت کو مضبوط کیا جاسکا ہے ۔ اجلاس میں ایز آف بزنس کو یقینی بنانے کے لیے ون ونڈو آپریشن کی تجویز بھی پیش کی گئی جسکے تحت کاروبار شروع کرنے والے یا اس سے منسلک افراد اور سرمایہ کاروں کو دستاویزی معاملات میں مختلف دفاتر کے دھکے کھانے سے بچانے کا کہا گیا۔ صوبے میں قیمتی پتھروں کے کاروبار سے وابستہ افراد کے لیے جیمز سٹی کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے 100 کنال زمین کی فراہمی بجٹ کا حصہ بنانے کی سفارش کی گئی جسے ریوینیو جنریشن کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا گیا۔ صوبے کے بارڈر سٹیشنز پر خصوصی توجہ دینے اور وہاں تجارت کو تیز کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی تجویز بھی دی گئی ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ کوہاٹ ، مہمند ، صوابی ، دیر ، چترال ملاکنڈ اور دیگر اضلاع کے چیمبرز سے آئے عہدیداروں نے بھی بزنس کمیونٹی کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا اور تجاویز دیں جنہیں محکمہ خزانہ کے متعلقہ افسران نے درج کرتے ہوئے اس حوالے سے بجٹ کے فوری بعد ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔ سپیشل سیکرٹری فنانس سفیر احمد نے یقین دلایا کہ کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کے حل اور رابطوں کی مضبوطی کے لیے بزنس ایڈوائزری کونسل کے قیام کی تجویز قابل غور اور لائق تحسین ہے جس پر جلد از جلد عملی پیش قدمی کی جائیگی ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔