دھڑکنوں کی زبان…‘‘بیٹی کے آنسو ’’…محمد جاوید حیات

بیٹی کو رحمت کہا گیا ۔یہ محبت سے لبریز ایک رشتہ ہے اس کےآنسو بڑے قیمتی ہوتے ہیں ۔۔فخر موجوداتﷺ کی پیٹھ مبارک پر سجدے کی حالت میں دشمنان خدا نے اونٹ کی اجھڑی لاء کے رکھی ۔فاطمہؓ کو خبر ہوٸ دوڑی آٸی بابا کو سنبھالا اور کافر اعظم ابو جہل کو کھری کھریہ سناٸی ۔دشمن خدا اس تیرہ سال کی بچی کے جذبے کا تاب نہ لا سکا اس کا غرور خاک میں مل گیا ۔بیٹی کے آنسو بہت قیمتی ہوا کرتے ہیں ۔بیٹی جب روتی ہے تو یہ زمین لرزہ برآندام ہوتی ہے اس کے آنسووں کی تاب کاٸنات نہیں لاء سکتی ۔یہ عظیم اور پاکیزہ رشتہ انمول ہے ۔باپ کا چہرہ تک کر بیٹی روتی ہے ماں کا ہاتھ بٹاتے بیٹی روتی ہے ۔بھاٸی کےکپڑے دھوتی ہوٸی بیٹی روتی ہے۔گھر کو جھاڑو دیتی ہوٸی بیٹی روتی یے ۔عید کے نۓ کپڑے پہنتی ہوٸی بیٹی روتی ہے یہ رونا کہیں ظلم یا محرومی کی وجہ سے نہیں ہوتا یہ اس سرگرمیوں اپنے لۓ اعزاز سمجھتی ہے اور خدمت احترام اور محبت کے جذبے کا اظہار آنسووں کے زریعے کرتی ہے ۔جوان ہو جاۓ۔۔ اس کے لۓ رشتہ آجاۓ ۔۔باپ اس کو سامنے بیٹھا کرجب راۓ پوچھے تو بیٹی کے رخساروں پہ گرم گرم آنسو روان ہوتےہیں۔۔۔۔ لب خاموش۔۔۔ یہ منظر ناقابل بیان ہوتا ہے ۔۔۔بیٹی کے آنسو بہت قیمتی ہوتے ہیں ۔دلہن بنتی یے یہ خوشی اور مسرت کا موقع ہوتا ہے مگر بیٹی روتی ہے۔میکے سے “بیدا” ہوتے ہوۓ بیٹی روتی ہے۔ماں کے سینے سے لگ کے بیٹی روتی ہے باپ کے گلے لگ کے بیٹی روتی ہے ۔بھاٸی کے سینے میں سر رکھ کے بیٹی روتی ہے ۔باپ کے سرہانے بیٹھ کے بیٹی روتی ہے۔۔یہ آنسو بیٹی کی شناخت ہیں اور پہچان ہیں ۔۔لیکن زمانے کے تقاضے بدلے اقدار بدلے ۔۔اب بیٹی کے آنسو کم کم بہتے ہیں ۔یہ بیٹی” ماڈرن” ہوگٸ ہے یہ “تعلیم یافتہ” ہوگٸ ہے یہ جدید دورکے تقاضوں میں ڈھل گٸ ہے ۔۔شاید یونیورسٹی جاتی ہوٸی بیٹی اگر روۓ تو یہ اس کی سبکی ہے ۔۔شاید ایک ” ان سروس ” یعنی کوٸی ٹیچر, کوٸی پروفیسر, کوٸی پی ایم ایس آفیسر, کوٸی ڈاکٹر بیٹی روۓ تو اس کے ساتھ برا لگے ۔اس کا جو مقام ہے اس کے ساتھ آنسو نہ سجیں ۔اس کے سج دھج کو ٹھیس پہنچے ۔۔مگر کاش ایسا کچھ نہیں ۔۔بیٹی کے لۓ” بیٹی” ہونا ہی بہت بڑا مقام ہے ۔۔اگر بیٹی وزیر اعظم ہے تب بھی اس کا عورت ہونا, بیٹی , بہن ہونا اس کی فطرت ہے ۔اگر وزیر اعظم بیٹی اپنی ماں کے گلے لگ کے روۓ تو اس کا مقام اوربلند ہوگا ۔اگر ڈاکٹر بیٹی اپنے باپ کے سرہانے بیٹھ کر آنسو بہاۓ تو وہ بیٹی انمول بن جاتی ہے اگر یونیورسٹی جاتی ہوٸی بیٹی ماں سے اجازت لے کے آنکھوں میں آنسو لاۓ تو ان آنسووں کی قیمت کا اندازہ لگایا نہیں جاسکتا ۔بیٹی جتنی بھی “ماڈرن” بننا چاہے وہ “بیٹی ” ہی رہے گی ۔آج کی بیٹیوں کو اپنے آنسووں کی قدر کرنی چاہیۓ ۔یہی ان کے اثاثے ہیں ۔۔۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔