انصاف فوڈ کارڈ” کے تحت جولائی سے مستحق خاندانوں کو راشن کیلئے نقد ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا

پشاور(چترال ایکسپریس)خیبرپختونخوا حکومت کے ایک اور فلیگ شپ اور غریب پرور منصوبے ” انصاف فوڈ کارڈ” کے تحت مستحق خاندانوں کو کارڈزکے اجراءکیلئے تیاریوں اور انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ہے اور کارڈز کی تقسیم کا عمل رواں سال جون کے پہلے ہفتے میں مکمل کرلیا جائے گا جبکہ جولائی سے مستحق خاندانوں کو راشن کیلئے نقد ادائیگیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے گا ۔ یہ بات گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیرصدارت انصاف فوڈ کارڈسے متعلق منعقدہ ایک اجلاس میں بتائی گئی ۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر شہزاد بنگش ،وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خانمتعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، کمشنر پشاور اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں مستحق خاندانوں کو انصاف فوڈ کارڈ اسکیم کے اجراءکیلئے تیاریوں اور انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس کے شرکاءکو بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مستحق خاندانوں کو انصاف فوڈ کارڈ کی تقسیم کا عمل جون کے پہلے ہفتے میں مکمل کیا جائے گا جبکہ اس مقصد کیلئے صوبے کے 10 لاکھ مستحق خاندانوں کا ڈیٹا اکھٹا کر لیا گیا ہے ۔ مزید بتایا گیا کہ فوڈ کارڈ سکیم پر عمل درآمد کیلئے محکمہ خوراک اور بینک آف خیبر کے درمیان مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے جاچکے ہیں۔ سکیم پر سالانہ ساڑھے پچیس ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ صوبائی کابینہ نے اس مقصد کیلئے فنڈز کی منظوری بھی دے دی ہے ۔ فوڈ کارڈ سکیم کے تحت کم آمدنی والے گھرانوں کو راشن کی خریداری کیلئے ماہانہ 2100 روپے دیئے جائیں گے جبکہ اس منصوبے سے صوبے کے 50 لاکھ افراد یعنی 12 فیصد آبادی مستفید ہو گی ۔اجلاس میں رعایتی نر خ پر صوبے کے عوام کو آٹے کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور وزیراعلیٰ نے 20 کلوآٹے کا تھیلا980 روپے پر فراہم کرنے کی تجویز سے اُصولی اتفاق کیا ۔ اجلاس میں اگلے مالی سال کیلئے گندم کی خریداری کیلئے پلان کی بھی منظوری دی گئی ہے ۔اس کے علاوہ اجلاس میں صوبہ بھر میں اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔شرکاءکو بتایا گیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 62ہزار سے زائد دکانوں کا معائنہ کیا گیا جن میں سے 927 دُکانداروں کے خلاف مقدمے درج کرائے گئے ، 87 افراد کو جیل منتقل کیا گیا ،دو ہزار سے زائد دکانوں کو سیل کیا گیاجبکہ 10ہزار سے زائد دکانداروں کو وارننگز جاری کی گئیں۔ مزید بتایا گیا کہ متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی پر دُکانداروں پرایک کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے بھی عائد کئے گئے ہیں ۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ صحت کارڈ اسکیم کے بعد انصاف فوڈ کارڈ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا ایک فلیگ شپ اور غریب پرور منصوبہ اورعمران خان کے اسلامی فلاحی ریاست کے وژن کی جانب ایک اہم قدم ہے ۔ اُنہوںنے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت صوبے کے عوام کو ہر ممکن ریلیف کی فراہمی کیلئے پر عزم ہے اور اس مقصد کیلئے تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت ایک اور اہم سکیم ایجوکیشن کارڈ پر بھی کام کر رہی ہے اور عنقریب ایجوکیشن کارڈ کا بھی اجراءکیا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔