ڈی ایچ ڈی سی چترال کی جانب سے ہسپتال سالڈویسٹ مینجمنٹ کے موضوع پردوروزہ ورکشاپ

چترال(نامہ نگار)ڈسٹرکٹ ہیلتھ ڈیویلپمنٹ سنٹر(ڈی ایچ ڈی سی)چترال کی جانب سے پراونشل ہیلتھ سروسز اکیڈیمی (پی ایچ ایس اے) پشاوراورگورنمنٹ فنانس ڈیپارنمنٹ کی مالی تعاون سے ہسپتال سالڈویسٹ مینجمنٹ کے موضوع پردوروزہ ورکشاپ ڈی ایچ ڈی سی افس میں اختیام پذیرہوئی ۔جس میں ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹرہسپتال چترال کے ڈاکٹرز،نرسسز،پیرامیڈیکل اسٹاف، میڈیکل ٹیکنیشن کے علاوہ بی ایچ یو ہسپتال مروئے ،کوغذی ،ایون ،بروزکےڈاکٹرحضرات اوردوسروں نے شرکت کی۔پروگرام سہولت کار گائینکالوجسٹ چلڈرن ہسپتال چترال ڈاکٹرارم حسین اور ڈاکٹر محمدشمیم نے شرکاورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ویسٹ مینجمنٹ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اورمحکمہ صحت ہسپتالوں کا مضر صحت کو ڑا کرکٹ تلف کرنے کے لیے ایک مربوط پروگرام تشکیل دے رہاہے۔ورکشاپ میں کچرے کواکھٹاکرنے،اسے ترسیل کرنے،اس کے اجزاء کوالگ الگ کرنا،کچرے کی ری سائیکلنگ اورکچرے کی مقدارکوکنٹرول کرنے بارے میں تفصیلی آگاہی فرام کی گئی ۔اس موقع پرشرکاء کوورکشاپ سے پہلے اورورکشاپ کے بعدٹیسٹ لے کران کے حاصل کردہ علم کوناپاگیا۔
ڈپٹی ڈائریکٹرڈی ایچ ڈی سی چترال ڈاکٹرمحمدشمیم نے کہاکہ ہم اپنی بساط کے مطابق کوشش کررہے ہیں کہ سرکاری طبی عملے کوزیادہ سے زیادہ تربیت فراہم کی جاسکے تاکہ ہسپتالوں کے کوڑا کرکٹ کوصحیح طریقےسے تلف کرسکیں ۔ پروگرام کے مہمان خصوصی منیجرنیشنل بینک لوئرچترال امجدعلی ثانی نے اپنے خطاب میں ڈی ایچ ڈی سی چترال کاشکریہ اداکیااورکہاکہ کچروں سے ماحول میں آلودگی کوبچانے کے لئے اورخاص کرہسپتالوں میں کچروں کی تلفی یاکنٹرول کے حوالے سے یہ بہت اہم نشست رکھی گئی ہے اورمیں تمام شرکاء سے اُمیدکرتاہوں کہ اس ورکشاپ کووہ اپنے روزمرہ کے کاموں کے دوران عمل میں لائیں تاکہ ہسپتالوں میں کچروں کوکم یاکنٹرول کی جاسکے ۔اس موقع پر سپرڈینڈنٹ ڈی ایچ ڈی سی چترال شاکرالدین نے مہمانوں کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ ہسپتالوںمیں جمع ہونے والے کچرے کومناسب اندازمیں ٹھکانہ لگانے کی ضرورت ہے اورکوڑاکرکٹ کوسائنسی اندازمیں حفظان صحت کے عین اصولوں کے مطابق ری ئیکلنگ کرنے کے لئے متعلقہ اسٹاف کوتربیت حاصل کرناچاہیے ۔ڈی ایچ ڈی سی چترال میں اپنے محدودوسائل کے اندرطبی عملوں کے لئے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیاہے ۔ ٹریننگ کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفیکٹ تقسیم کئے گئے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔