مالی سال کے آخر میں چترال یونیورسٹی اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا

چترال یونیورسٹی کے زمہ دار حکام نے ملازمین کو آگاہ کردیا ہے کہ مئی کے مہینے کی تنخواہ نہیں ملے گی

چترال(چترال ایکسپریس)چترال یونیورسٹی کا بحران مزیدگھمبیر ہوگیاہے گذشتہ ایک سال سے صوبائی حکومت نے چترال یونیورسٹی کوجاری اخراجات کی مد میں فنڈ دینا بندکردیا ہے۔ذرائع کے مطابق مالی سال کے آخر میں چترال یونیورسٹی اپنے ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا.صوبائی حکومت کے ذرائع کی رو سے کہا جارہا ہے کہ وزیراعلی محمودخان نے دوسری یونیورسٹیوں کے ساتھ چترال یونیورسٹی کے لئے بھی فنڈ کی منظوری دی تھی مگروزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا نےچترال یونیورسٹی کے فنڈ روکنے کا حکم دیا ہے۔اس وجہ سے چترال یونیورسٹی کے مالی بحران نے شدت اختیار کی۔

چترال یونیورسٹی کے زمہ دار حکام نے ملازمین کو آگاہ کردیا ہے کہ مئی کے مہینے کی تنخواہ نہیں ملے گی اس وجہ سے یونیورسٹی ملازمین اور طلبہ وطالبات کے ساتھ عوام میں بھی مایوسی پھیل گئی ہے۔یہی حالت رہی تویونیورسٹی بندہوجائیگی۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔