نظام تعلیم ۔۔۔۔۔۔۔۔آوے کا آوا ہی بگڑا ہے ۔۔۔تحریر : فداالرحمن

ہمارے ملک میں تعلیم واحد شعبہ ہے جس کے لئے کوئ فکر مند نظر نہیں آرہا ہے ۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کوئی روڈ میپ نظر نہیں آتا ہے ۔ اس ملک میں تعلیم آج بھی کسی کی ترجیح نہیں ہے ۔ یہاں آنے والی نسلوں کا تعلیمی مستقبل تاریکیوں میں جاتا واضح نظر آرہا ہے ۔ یہاں کے تعلیمی ماہرین آج بھی ایک فرسودہ نظام کے تحت چلنے میں عافیت محسوس کر رہے ہیں ۔ تعلیمی پالیسی بنانے اور بگاڑنے والے پالیسی میکرز یہاں کے نظام تعلیم کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں ۔ یہاں کا نظام تعلیم صرف ڈگری ہولڈرز بے روزگار پیدا کرتا ہے ۔ ہمارے تعلیمی ادارے اسناد بانٹنے کا دربار بنے ہوئے ہیں ۔ دنیا کے اکثر ملکوں میں اطوار کے ساتھ ساتھ روزگار بھی ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے ۔ وہاں کمرہ جماعت کو سکول کی سطح پر ہی ٹیکنالوجی کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے ۔ ان ملکوں میں جو کچھ سکول اور کالج کی سطح پر طلبا کو پڑھایا جاتا ہے اسی سے متعلق روزگار کے مواقع کے بارے ان کو آگاہ بھی رکھا جاتا ہے ۔ باہر کے ملکوں کی نظام تعلیم میں کیرئیر کونسلنگ کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ کیرئیر کونسلنگ کا شعبہ زندگی کے انتخاب میں انتہائی اہم کردار ہے ۔ لیکن ہمارے یہاں شعبہ زندگی کے انتخاب کا کوئی مناسب اور واضح طریقہ موجود نہیں ہے ۔سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں آج بھی کیرئیر کونسلنگ پر کام بالکل بھی نہیں ہو رہا ہے ۔ حکومت اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے ۔ تعلیمی اداروں میں کیرئیر کونسلنگ کا شعبہ نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم شعبہ زندگی کے انتخاب کے حوالے سے ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں ۔ یہاں کے طالب علم کسی سے سن کر ، کسی کے کہنے پر یا کسی کو دیکھ کر شعبہ زندگی کا انتخاب کرتے ہیں ۔ اکثر طالب علم والدین کی پسند کے مطابق شعبے کا انتخاب کرتے ہیں ۔ جو اکثر ان کی ذہنی اپٹیچیوڈ کے خلاف ہوتی ہے اور زندگی کا نصف حصہ گزارنے کے بعد انہیں ادراک ہوتا ہے کہ وہ کوئ اور کام اس سے بہتر طور پر کر سکتے تھے ۔ سکلز اور ایپٹیچیوڈ جس شعبے کے ساتھ مطابق رکھتے ہوں اس شعبے کے انتخاب کے حوالے سے طلباء کی رہنمائی کے لئے نہ یہاں لوگ موجود ہیں اور نہ ہی ادارے کام کر رہے ہیں ۔ تعلیمی اداروں میں کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے طالب علم ان اداروں سے فارغ ہونے کے بعد کیرئیرز کے حوالے سے ہمیشہ پریشان نظر آتے ہیں ۔ ایک سٹوڈنٹ اچھا وکیل بن سکتا تھا لیکن کونسلنگ نہ ہونے کی وجہ سے وہ ایک نالائق ڈاکٹر بن کر لوگوں کی بد دعائیں لیتا ہے۔ ایک اچھے استاد کو یہ سسٹم نااہل انجنئیر بنا کر معاشرے کو سپرد کرتا ہے ۔ ایک طالب علم سکلز اور ایپٹیچیوڈ کے مطابق میوزیشئین بننے کا اہل ہے لیکن ہمارا سسٹم اس کو نالائق کلرک بنا دیتا ہے ۔ غرض یہ کہ پھر آوے کا آوا بگڑ جاتا ہے ۔ اور ہم ترقی کے حوالے سے ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ ہمارے ملک میں لوگ فزکس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے کے بعد دفاعی تجزیہ کار بن جاتے ہیں ۔ کیمسٹری میں گریجویشین کرنے بعد کاروبار کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں ۔ میں ایسے لوگوں کو بھی جانتا ہوں جو بیالوجی پڑھنے کے بعد بزنس کر رہے ہوتے ہیں ۔ کئی انجنئیرز کلرک کی جاب کے لئے اپلائی کرتے ہیں ۔
اساتذہ، والدین اور تعلیمی پالیسی بنانے والے جب تک اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہوں گے اوپر والے مسائل اس طرح کے تجربات سے اس قوم کو تخت مشق بنائے رکھیں گے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔