میری فورس خیبر پختونخوا کے غیور عوام ہیں جو ڈٹ کے میرے اور میرے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔وزیراعلی محمود خان

عمران خان دوبارہ مارچ کی کال دیں گے تو میں صوبے کے عوام کو ساتھ لیکر اسلام آباد پہنچوں گا اور ہم خیبر پختونخوا کے عوام کا حق چھین کر لیں گے۔

اپردیر(چترال ایکسپریس)وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں جب میں نے فورس کے ساتھ اسلام آباد آنے کی بات کی تو میری اس ایک بات سے امپورٹڈ حکومت کی ٹانگیں کانپنے لگی تھیں، میں میڈیا کے توسط سے بتانا چاہتا ہوں کہ

میری فورس خیبر پختونخوا کے غیور عوام ہیں جو ڈٹ کے میرے اور میرے قائد عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں اور جب عمران خان دوبارہ مارچ کی کال دیں گے تو میں صوبے کے عوام کو ساتھ لیکر اسلام آباد پہنچوں گا اور ہم خیبر پختونخوا کے عوام کا حق چھین کر لیں گے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز ضلع اپر دیر کی تحصیل واڑی میں پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ملک میں جاری حالیہ مہنگائی کی لہر پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے آنے سے اب تک پیٹرول 150 روپے لیٹر سے بڑھ کر 210 روپے، ڈیزل 145 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 205 روپے، گھی 380 روپے فی کلو سے بڑھ کر 555 روپے، خودرنی تیل 400 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 600 روپے ہو گئے جبکہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 14 روپے اضافہ ہوا ہے جو اس نااہل اور امپورٹڈ حکومت کے پچاس دنوں کے کارنامے ہیں۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ جب عمران خان حکومت چھوڑ کر جا رہے تھے تو خزانے میں 22 ارب ڈالر چھوڑ کر گئے تھے جو امپورٹڈ حکومت نو ارب روپے پر لے آئی ہے جبکہ صحت کارڈ پروگرام، بلاسود قرضہ پروگرام ، احساس پناہ گاہیں، لنگرخانے اور احساس پروگرام بند کیا گیا اور عمران خان کے دور حکومت میں مستحق گھرانوں کو جو چودہ ہزار روپے ملتے تھے انہیں کم کرکے دو ہزار روپے کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع کے لئے 60 ارب روپے مختص کئے تھے جنہیں امپورٹڈ حکومت نے کم کرکے 40 ارب روپے کردیا جو خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ محمود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت عوامی حکومت ہے اور ہمیشہ عوام کی فلاح کا سوچتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت نے صحت کارڈ پروگرام کو باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے مستقل حیثیت دی ہے جسے مسقبل میں کوئی بھی حکومت ختم نہیں کر سکتی۔ وزیر اعلی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کے پیش نظر سرکاری محکموں کے پی او ایل اخراجات پر 35 فیصد کٹ لگانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سرکاری خزانے کا ذیادہ سے زیادہ حصہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وسطی دیر ضلع کا قیام دیر کے عوام کا دیرینہ مطالبہ ہے، صوبائی حکومت دیر کے عوام کا مطالبہ پورا کرے گی اور بہت جلد واڑی کو ضلع جبکہ کارو درہ کو تحصیل کا درجہ دیا جائے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔