بچوں کے تحفظ کا قانون…محمد شریف شکیب

خیبر پختونخوا اسمبلی نے چائلڈ پروٹیکشن ترمیمی بل 2022کی منظوری دیدی جس کے تحت بچوں پر جنسی تشدد کے مرتکب مجرموں کوسزائے موت دی جائے گی۔بچوں کیساتھ غیر انسانی سلوک میں ملوث افرادکو20لاکھ سے 50لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ہوگا، بچوں کی فحش ویڈیو بنانے پر 10سال تک قید اور70لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا بچوں کی اسمگلنگ پر عمر قید یا 25سال تک قید کی سزا کیساتھ مجرم سے 50 لاکھ روپے تک جرمانے بھی وصول کیا جائیگا ٗ بچوں کیساتھ جنسی تشدد کے مقدمات کی سماعت ”تحفظ اطفال عدالتوں“ میں ہوگی مقدمہ کی سماعت 30دن کے اندر مکمل کی جائے گی بل کے مطابق جنسی تشدد کیس میں عمر قید کی سزا پانے والا مجرم کسی قسم کی قید معافی کا حقدار نہیں ہوگا، جنسی تشدد ثابت ہونے پر مجرم کا نام رجسٹر مجرمان جنسی جرائم میں درج ہوگا اور ایسے شخص کو بچوں سے متعلق صوبہ میں کام کرنے والے کسی ادارے میں ملازمت نہیں دی جائیگی، اگر صوبہ میں کوئی نجی یا سرکاری ادارہ جان بوجھ کر جنسی جرائم کے مجرم کو ملازمت پر رکھیے گا تو متعلقہ ادارے کے سربراہ کو پانچ سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگاکسی بھی جنسی سرگرمی، فحاشی، بے شرمی کو ابھارنے والے کسی بھی دستاویز،بصری فلم یا کمپیوٹر پر بنائی گئی کوئی تصویر یا مذکورہ بالا عمل کرنے کی کوشش کرنے والے کو 10سال تک قید کی سزا دی جاسکتی ہے اور20لاکھ روپے تک جرمانہ کیاجاسکتا ہے۔جو شخص بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث پایاگیااسے عمر قید کی سزا دی جائے گی جس کی معیاد25سال تک ہوسکتی ہے اوراسے50لاکھ روپے تک جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔مجرموں کے نام سرکاری ویب سائٹ پر مشتہر کئے جائیں گے اور نادراکو بھی تفصیلات دی جائیں گی تاکہ ان معلومات تک عام عوام کی رسائی حاصل ہو۔گذشتہ چند سالوں کے دوران نوعمر بچوں اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں راز افشا ہونے کے خوف سے قتل کئے جانے کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ ہوا ہے۔بچوں کو شیطانی ہوس کا نشانہ بنانے والوں کو نشان عبرت بنانے کے لئے سخت قوانین ناگزیر تھے خیبر پختونخوا اسمبلی نے چائلڈ پروٹیکشن بل کی منظوری دے کر معصوم بچوں کو زیادتی کا نشانہ بننے سے بچانے کا اہم قدم اٹھایا ہے۔پھول جیسے بچوں کو ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد گلاگھونٹ کر قتل کرناانتہائی سنگین اور وحشیانہ عمل ہے۔ جو نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ قانون فطرت کے بھی منافی ہے۔ کوئی پالتو جانور، جنگلی درندہ اور چرند پرند بھی اپنی جنس کے بچوں کو ہوس کا نشانہ نہیں بناتے۔اس بربریت کا تدارک بے رحمانہ سزاؤں کا متقاضی تھا۔بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی تحفظ اطفال عدالتوں کا فوری قیام ناگزیر ہے۔جہاں تک بچوں کو جنسی طور پر تحفظ فراہم کرنے کا تعلق ہے اس سلسلے میں والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی نگرانی سے کسی بھی لمحے غفلت نہ برتیں۔بچوں کی سمگلنگ بھی ایک سنگین مسئلہ چلا آرہا ہے۔ معصوم بچوں کو اغوا کرکے انہیں معذور بناکر بھیک مانگنے کا کام لیاجاتا ہے۔ کچھ بچوں کو مشرق وسطیٰ سمگل کیاجاتا ہے جہاں انہیں اونٹ ریس میں استعمال کیاجاتا ہے۔بعض کم عمر بچے دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں جنہیں برین واش کرکے خود کش بمبار بنایاجاتا ہے۔ہمارے ملک میں قوانین تو بنائے جاتے ہیں مگر ان پر عمل درآمد بوجوہ نہیں ہوپاتا۔اس کی وجوہات میں وسائل اور انفراسٹرکچر کی کمی بھی شامل ہے توقع ہے کہ حکومت چائلڈ پروٹیکشن کے قانون پر عمل درآمد کرنے میں وسائل کی کمی کو آڑے نہیں آنے دے گی تاکہ قوم کے مستقبل کے معماروں کو محفوظ ماحول فراہم کیاجاسکے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔