سول آرمڈفورس پنشنرزکی پنشن میں100فیصد اضافہ کرنے کامطالبہ

چترال(نمائندہ آئین)ضلع اپراورلوئرچترال کی سول آرمڈفورسزکے ریٹائرڈ ملازمین سوسائٹی کے عہدہ دار اورممبران نے موجودہ کمرتوڑمہنگائی کے خلاف اورسول آرمڈفورس پنشنرزکی پنشن 100فی صد اضافہ کامطالبہ کرتے ہوئے ایک پرامن ریلی نکالی بعدمیں چترال پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سول آرمڈفورس لوئرچترال کے چیئرمین (ر)کیپٹن عبدالصمدخان ،چیئرمین اپرچترال (ر)صوبیدارمحمداسلم ،صدرلٹکوہ امیراللہ،ریٹائرڈ خطیب کفایت اللہ،لفٹینٹ ریٹائرڈ شیراعظم (ر)حوالدارعبداللہ خان،حوالدار(ر)جنادلہ خان اوردوسروں نے کہاکہ سول سروس میں سوسائٹی کے تمام اہلکاراپنی نوجوانی اورزندگی برف پوش،نسگلاح پہاڑوں اورتپتی ہوئی صحراؤں اورریگستانوں میں وطن عزیزکی حفاظت کے لئے معلوم نامعلوم دشمنوں کاسامناسیسہ پلائی دیواربن کرکئے بحیثیت غازی ریٹائرڈ ہوئے ہیں ۔اورابھی بھی خون کے آخری قطرے تک اورہڈیوں میں حرکت باقی رہنے تک وطن کی حفاظت کے لئے ہردم تیاروفادارہیں ۔انہوں نے کہاکہ ستم ظریفی ہے کہ تمام ریٹائرڈملازمین میں سب سے کم تنخواہ لینے والے بھی یہ ہی سول آرمڈفورسزکے ریٹائرڈ اہلکارہیں۔مہنگائی کے اس ناقابل برداشت حالات میں سول آرمڈفورسزکے ریٹائرڈ اہلکاربچوں کی پرورش سے لیکرتعلیمی اخراجات برداشت کرنے قابل نہیں رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت وقت سے پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ حالیہ بجٹ میں سول آرمڈفورسزکےریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہوں میں 100فی صداضافہ کیاجائے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ سول آرمڈفورسزکے ریٹائرڈ ملازمین کی مراعات دوسرے سول ملازمین کے برابرکیاجائے تاکہ اس مہنگائی کے دورمیں ہمیں بھی زندہ رہنے کاحق مل جائے ۔انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیاکہ جولوگ چترال سکاوٹس کے علاوہ دوسرے اضلاع یعنی دیر،باجوڑ،وزیرستا ن اوردوسرے فورسز میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں اُن کی پنشن بروقت نہیں ملتی ہے وہ پندہ سے بیس تاریخ تک لیٹ ہونے کی وجہ سے ان کے بچوں کے فیس گھریلواخراجات چلانے میں کافی مشکلات درپیش ہوتے ہیں ان کی پیش چترال ٹرانسفرکیاجائے یابروقت ادائیگی کی جائے ۔انہوں نے کہاکہ موجودہ کمرتوڑمہنگائی کی وجہ سے جن مراحل سے گزررہے ہیں وہ ہمیں پتہ ہے ہماری جوقلیل پنشن ہے س میں گزارہ ناممکن ہے اگرحکومت اس پرغورنہیں کیاگیاتویہ احتجاج جاری رہے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔