چترال کے اندر لوڈ شیڈنگ کی صورت حال پر غورکے لئےپاور کمیٹی کا اجلاس

چترال(نمائندہ چترال ایکسپریس )مورخہ 8 جون کو پاؤر کمیٹی چترال کا اجلاس زیر صدارت خان حیات اللہ خان بازار مسجد چترال میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں چترال کے اندر پیدا ہونے والی لوڈ شیڈنگ کی صورت حال پر غورکیا گیا اجلاس میں قرارداد کے ذریعے کہا گیا کہ چترال جملہ حکومتی سہولیات سے محروم ایک پسماندہ ضلع ہے اس پر مستزاد یہاں پیدا ہونے والی بجلی سے بھی یہاں کے صارفین محروم رکھا جارہا ہے ۔ حالانکہ گولین گول ہائیڈرو پراجیکٹ کی بجلی سے متعلق حکومت کی طرف سے فیصلہ ہوا تھا کہ چترال کی ضروریات کے لئے 30 میگاواٹ بجلی علیحدہ گریڈ اسٹیشن کے زریعے مختص کی جائے گی ۔ اس مقصد کے لیے جوٹی لشٹ کے مقام پر گریڈ اسٹیشن قائم بھی کیا گیا ہے لیکن اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چترال میں لوڈ شیڈنگ کا تکلیف دہ سلسلہ شروع کردیا گیا ہے ۔

 واپڈا کی پالیسی کے مطابق جس ضلع میں بلوں کی ادائیگی 80 فیصد ہو اس ضلع کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ریکارڈ کے مطابق چترال میں بلوں کی ادائیگی کا ریشو 90سے 95فیصد ہے ۔ لہذا واپڈا کے رول کے مطابق یہاں لوڈشیڈنگ کا جواز نہیں بنتا اور جن اداروں یا افراد پر بجلی کےبلوں کی بقایاجات ہے واپڈا پورے عوام کو سزا دینے کے بجائے ان لوگوں کی بجلی منقطع کرے بااثر لوگوں کی لاپرواہی کی سزا غریب عوام کو دینا نہ۔انصافی ہے لہذا چترال میں لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور عوام الناس کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ ختم کر دیا جائے بصورت چترال کے عوام واپڈا کے خلاف میدان میں آنے پر مجبور ہوں گے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔