جماعت اسلامی چترال کے زیر اہتمام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں توہین کے خلاف چترال بازار میں احتجاجی مظاہرہ

چترال(چترال ایکسپریس) جماعت اسلامی چترال کے زیر اہتمام آقائے نامدار حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان میں توہین کی کوششوں کے خلاف چترال بازار میں احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا۔ مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی چترال لوئر اخونزادہ رحمت اللہ کر رہے تھے۔
جماعت اسلامی چترال کے سیکرٹری جنرل وجیہ الدین،نائب امیر مولانا جمشید،مولانا اسرار الدین الہلال، قاضی سلامت اللہ و دیگر ضلعی قائدین نے اپنے خطابات میں حکومت ہندوستان کی سرپرستی میں ہونے والی اس زہر پاشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا اب وقت آگیا ہے کہ مسلم ممالک اپنے مراکز محبت کے تقدس کی خاطر یکجا ہوکر عالم کفر کی ریشہ دوانیوں اور شرارتوں کا مقابلہ کریں۔
مظاہرے کے آخر میں قرارداد پیش کی گئی۔
کہ عالم کفر کی طرف سے بار بار شان رسالت میں جو توہین کی کوشش کی جاتی ہے، در اصل وہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا کرنے، ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور انھیں یہ بتانے کے لیے دہرایا جاتا ہے کہ تم لاکھ چیخو، چلاؤ اور شور مچاؤ بے سود ہے کیونکہ تمہارا حکمران طبقہ اس معاملے میں تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا۔ یہ احساس بجائے خود امت مسلمہ کے لیے سخت تکلیف دہ ہے کہ ان کے حکمران مذہبی معاملات میں ان کی نمائندگی کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ اس بار عرب دنیا کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور انڈیا کی حکومت پریشان ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ امید کی ایک کرن ہے اور ہوا کا تازہ جھونکا ہے، ہو سکتا ہے اس شر سے اتحاد امت کی خیر برآمد ہو۔ لہذا ہم پاکستانی حکومت کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ انڈیا سے سارا اگلا پچھلا حساب برابر کرنے کا یہ ایک بہترین موقع ہاتھ آیا ہے۔ عرب دنیا میں انڈیا کے خلاف غم و غصّے کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔ بعض ممالک سے انڈین کو نکالنے کی خبریں آرہی ہیں۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ اس موقع سے فایدہ اٹھاتے ہوئے فوری طور پر او آئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے اور انڈیا سے مکمل بائیکاٹ پر انھیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ دوبارہ کسی ہندو کو نہ صرف توہین رسالت کی جرات ہو بلکہ وہاں کے ہمارے مسلمان بھائی ہندؤں کی اذیتوں سے محفوظ ہو کر زندگی گزار سکیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔