بجٹ تجاویز…تحریر: ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری

پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ترقی کا گراف  تسلسل کے ساتھ مثبت سمت میں نہیں بڑھ رہا اس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ منصوبہ بندی کے فقدان کا ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے اختیارات میں اضافہ کردیا گیا اور دستیاب وسائل کی تقسیم کا فارمولہ بھی بنا لیا گیا ۔ اب صوبوں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنی منصوبہ بندی کریں اور اپنے صوبہ کی ترقی میں پیش رفت کریں ۔ مالیاتی منصوبہ بندی ہمیشہ سالانہ بجٹ کے ذریعہ کی جاتی ہے ۔ ہمارے ملک میں یہ کام عموماً مالیات کے شعبہ کے چند بابوں کی سپردکیاجاتا ہے جو گزشتہ برس کے تخمینوں پر دس فیصد کا اضافہ کرکے ایک کتابچہ تیارکرتے ہیں جسے ہم بجٹ بک کہتے ہیں اور پھر دیگر محکمے اس کتاب کی روشنی میں جولائی سے جون تک صوبہ کے معاملات چلاتے ہیں ۔ بجٹ بنانا بذات خود ایک سائنس ہے اس کے لیے ایک الگ اور انتہائی صلاحتیوں کی حامل ٹیم ہونی چائیے جو ماہریں معاشیات پر مشتمل ہونی چائیے ۔ جیسے پوری دنیا میں ہوتا ہے ۔ سنگاپور جیسے چھوٹے سے ملک میں اس کام کے لیے سب سے بڑی ٹیم رکھی گئی ہے اور یہ ٹیم اپنی ملکی ضرورتوں اور دستیاب وسائل اور امکانات کو سامنے رکھ کر ملک کا بجٹ پیش کرتی ہے اور ان کی مساعی کی بدولت سنگاپور کی معاشی حالت اس وقت دنیا میں سب سے بہتر ہے ۔ ہمارے ملک کی بیوروکریسی بھی عجیب ہے اس کا کام ملکی انتظام سنبھالنا ہے جبکہ دیگر ٹیکنیکل شعبوں میں بیورکریسی معاونت کرتی ہے لیکن یہاں بجٹ بھی وہی بناتے ہیں منصوبہ بندی بھی وہی کرتے ہیں زرعت و صعنت و حرفت کا شعبہ بھی وہ دیکھ رہے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاملات چل تو رہے ہوتے ہیں لیکن حقیقی معنوں میں جو ترقی ہونی ہوتی ہے وہ نہیں ہوپاتی اور بے شمار لائبلیٹیز کا ہر برس اضافہ ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ بیوروکریسی کے دستور کے مطابق ہر برس افسران کی ٹرانسفر پوسٹنگ ہوتی ہے اس لیے منصوبوں میں استحکام نہیں رہتا یوں ان مالی معاملات کی  منسوبہ بندی نہیں ہو پاتی اس لیے ہر برس ہم خسارے کا بجٹ پیش کرتے ہیں ۔ بجٹ بنانے سے پہلے دنیا  میں  ماہرین مالیات سٹیک ہولڈرز کے ساتھ درجنوں نشستیں کرتے ہیں ان سے فیڈ بیک لیتے ہیں یہاں تک  کہ فیلڈ سٹڈیز اور سروے کراتے ہیں تب کہیں جاکر وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں کوئی فیصلہ کریں ۔ بلکہ ترقی یافتہ دنیا میں سینکڑوں کی تعداد میں تھنک ٹینکس ہوتے ہیں جو اس سلسلے میں اپنی تجاویز حکومت وقت کو پیش کرتے ہیں ۔ پاکستان میں اس کا عمومی رواج نہیں ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ فیڈریشن اف  پاکستان چمبرز اف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)نے اس برس اس سلسلے میں ایک کوشش کی ہے جس میں کاروبار و صنعت کے شعبوں میں آنے والے صوبائی بجٹ 22-23 کے لیے کچھ تجاویز پیش کی ہیں ۔ اس سلسلے میں FPCCIنے سرکاری اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے ساتھ کئی میٹنگز کی ہیں اور اپنے کاروباری اور صنعتئ حلقوں کے ساتھ مشاورت بھی کی ہے اور اس کی بنیاد پر اپنی تجاویز کا ایک کتابچہ بنا کر حکومت کو پیش کردیا ہے کہ ان کی تجاویز کو آنے والے صوبائی بجٹ میں شامل کیا جائے تا کہ صنعت و تجارت کے شعبہ میں درپیش مسائل کم ہوسکیں اور ترقی کا پہیہ آگے بڑھ سکے ۔ یہ تجاویز مندرجہ ذیل ہیں ۔

1۔ بجٹ کے لیے صعنت وتجارت کے شعبہ میں ایک ایڈوائزری کمیٹی بنائی جائے جو صعنت کاروں ،تاجروں ، ماہرین  اور حکومتی نمائندوں پر مشتمل ہو جو ہر برس بجٹ سے پہلے اپنی تجاویز فنانس ڈپارٹمنٹ کو پیش کرے تاکہ اس شعبہ کے لیے بجٹ سود مند اور فائدہ مند ثابت ہوسکے اس سے ملک کی معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا اور کاروبار و صنعت میں سہولت ہونے سے روزگار میں اضافہ ہوگا اور ملک کی ترقی کا پہیہ چل پڑے گا ۔

2۔ہر برس بجٹ سے دو ماہ پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل شروع کیا جائے تاکہ زمینی حقائق اور ضروریات کو بجٹ میں ایڈریس کیا جاسکے اس سلسلے میں ہر کاروبار اور صعنت سے وابستہ نمائندہ تنظیموں کو اعتماد میں لیا جائے ۔

3۔ بزنس پورٹل کو فعال کیا جائے اور اس میں مزید آسانیاں پید اکی جائیں تاکہ کاروباری اور صنعتی کمیونٹی کو سہولت ہو اور وہ اپنے کاروبار کا اندراج اور دیگر دستاویزی معاملات سہولت کے ساتھ گھر بیٹھےپورے کرسکیں۔

4۔ صوبہ میں ایک ٹیکنالوجی پارک بنانے کے لیے اس برس کی بجٹ میں فیزبیلٹی کے لیے رقم مختص کرے تاکہ بڑی بڑی عالمی کمپنیاں یہاں سرمایہ کاری کرسکیں اور یہاں کی اکیڈیمیہ اور مقامی تربیت یافتہ افراد ان سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ ٹیکنوپارک کی عدم موجودگی میں کوئی بھی ملٹی نیشنل یا انٹر نیشنل کمپنی یہا ںسرمایہ کاری نہیں کرے گی ۔ٹیکنوپارک بننے سے ہزاروں لوگوں کو روزگار مہیا ہوگا اور ملک کو کثیر زرمبادلہ حاصل ہوگا ۔

5۔ہمارے صوبہ میں نن ٹمبر پروڈکٹس کی تعداد دیگر صوبوں سے بہت زیادہ ہے مگر اس کے لیے کوئی مقررہ مارکیٹ پلیس نہیں ہے اس لیے نن ٹمبر پروڈکٹس کے لیے ایک منڈی قائم کی جائے اور اس کے لیے اس بجٹ میں رقم مختص کی جائے ۔

6۔ سپیشل اکنامک زون کے پلاٹوں کی قیمت کم کی جائے اور اس بجٹ میں اس سلسلے میں امدادی رقم رکھی جائے تاکہ لوگ صنعتوں اور کارخانے بنانے کی طرف راغب ہوں ۔ اور ساتھ ہی ان سپیشل اکنامک زونز میں بجلی ، گیس ، پانی اور دیگر ضروریات کی فراہمی کے لیے بھی اس بجٹ میں رقم مختص کی جائے تاکہ ان  اکنامک زونز میں کاروباری سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہو اور صوبہ میں معاشی سرگرمیاں کو فروغ ملے ۔

7۔منرلز اینڈ مائنزکمیٹی میں چمبر زاف کامرس اینڈ انڈسٹریز کو بھی نمائندگی دی جائے تاکہ بطور سٹیک ہولڈر ان کے مسائل اور کاروباری معاملات کو بطریق احسن انجام دیا جاسکے ۔

8۔ انرجی ویلنگ سسٹم جو کے پیڈو کے ذریعہ شروع کیا گیا تھا اس کو دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ مقامی سرمایہ کار اس میں حصہ لے سکیں اور بجلی کے بحران کوختم کرنے کا کوئی وسیلہ پیدا ہو بصورت دیگر بجلی کی عدم دستیابی یا پھر بہت زیادہ مہنگی بجلی کی وجہ سے صعنتوں کا لگنا ممکن نہیں رہے گا۔

9۔اربن ایمموئیبل ٹیکس کو رولر یعنی شہر ی علاقوں کے ٹیکسوں سے دیہی یا غیر شہری علاقوں کو الگ کیا جائے یہ ایک بہت بڑی وجہ ہے جس کی دیہی علاقوں میں  صنتعوں کا لگانا مشکل ہورہا ہے ۔

10۔ اس بجٹ میں  چھوٹے کارباریوں اور دکانداروں کے لیے بلا سود قرضوں کا پروگرام لایا جائے اس لیے کے یہ طبقہ ابھی تک اس قسم کی مراعات سے محروم ہے اس سے لاکھوں کی تعداد میں کاروباری اس سے مستفید ہوں گے بلکہ ہزاروں دیگر بے روزگار افراد بھی خودروزگاری کی طرف راغب ہوں گے ۔

11۔دبئی ایکسپومیں اٹھا ئے گئے اقدامات اور سہولیات جن کو وہاں سرمایہ کاروں کے لیے اعلان کیاگیا ہے وہ مقامی صنعت کاروں اور کاروباریوں کے ساتھ شئیر کی جائیں تاکہ وہ بھی ان مراعات اور سہولتوں سے مستفید ہوسکیں ۔

12۔افغانستان کے ساتھ 22 باقاعدہ منظور شدہ تجارتی بارڈر سٹیشنوں کو فعال کیا جائے اور وہاں سہولیات مہیا کرنے کے لیے اس بجٹ میں رقم مختص کی جائے تاکہ دو طرفہ تجارت کو فروغ ملے اور اس سرحدی سٹیشن کے لوگوں کو روزگار مہیا ہوسکے اور ملک میں زرمبادلہ آئے اور اسطرح سمگلنگ کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔چترال میں شاہ سلیم بارڈر سٹیشن کو توجہ دینے سے ہم سینٹرل ایشیا  کے ساتھ تجارتی روابط بذریعہ زمینی راستے بحال کرسکتے ہیں جس سے ملک ایک انقلاب آئے گا ۔

13۔جیمز سٹی کے لیے زمین کی خریداری کے لیے اس بجٹ میں رقم مختص کی جائے ۔ ہمارے صوبہ میں قیمتی پتھروں اور معدنیات کا کاروبار ہورہا ہے لیکن اس مقصد کے لیے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح حکومت نے ان کو ایک چھت کے نیچے سہولیات مہیا نہیں کیں اس وجہ سے اس اربوں روپے  کےکاربار کا وہ فائدہ جو حکومت کو اور مقامی لوگوں کوہوتا ہے وہ نہیں ہورہا ۔ جیمز سٹی کے قیام سے حکومتی ٹیکسوں کی باسہولت وصولی اور کاروبار کے قانونی صورت کو دوام حاصل ہوگا ۔

14۔ اس بجٹ میں پراپرٹی ٹیکسوں کا ازسر نو جائزہ لیا جائے تاکہ ڈوپلیکشنزختم ہو اور صنعت کاروں کو درپیش مسائل حل ہوں ۔

15۔ اس بجٹ میں کاروباروں کی دستاویز بندی او ررجسٹریشن کے لیے رقم مختص کی جائے اور اس سلسلے میں ان ہزاروں افغان باشندوں کی کاروباروں کی دستاویز بندی کی جائے اور ان کو رجسٹرڈ کیا جائے جو اس وقت صوبہ میں کاروبار کررہے ہیں ۔ اس آن رجسٹرڈ کاروبار کی وجہ سے ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا ہے ۔

16۔ انڈسٹریل زونز میں زمین لینے اور پلاٹوں کی خرید و فروخت کے لیے قانون سازی کی جائے اور بذریعہ قانون سازی اس عمل میں سٹیٹ ایجنٹوں کا رول ختم کیا جائے ۔ ان رئیل سٹیٹ ایجنٹوں کی وجہ سے انڈسٹریل زونز میں صرف پلاٹوں کی خرید و فروخت ہورہی ہے اور قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ پلاٹس اب اصل صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی قوت خرید سے بہت زیادہ بڑھ چکے ہیں ۔

17۔ زرعی زمینوں کے حوالے سے قوانین پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے ۔ تاکہ بے ہنگم ہاوسنگ سوسا ئٹیوں کا راستہ روکا جاسکے ۔ زرعی زمینوں کے خاتمہ سے اجناس کی قلت ہورہی ہے اور کاروبارپر منفی اثر پڑرہا ہے اور لوگوں کا پیسہ رئیل سٹیٹ میں جمع ہونے سے کاروبار بند ہوتے جارہے ہیں ۔

18۔ ERKF اورEDFکے فنڈز نئے فیز میں پروسسنگ پلانٹس تک بڑھائے جائیں ۔

19۔بزنس کمیونٹی کے لیے ٹیکس آگاہی مہم شروع کی جائے اور ٹیکس کے معاملات میں انہیں سہولیات بہم پہنچائی جائیں تاکہٹیکس نیٹ میں اضافہ ہو ۔

20۔ پلاسٹک میٹس اور پلاسٹک ری سائیکلنگ پلانٹس کو ٹیکسوں سے چھوٹ دی جائے ۔ اس لیے کہ اس شعبہ کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں بہت زیادہ کمی واقع ہوگی اور کثیر زرمبادلہ بچے گا اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع دستیاب ہوں گے اور ساتھ ہی پلاسٹک اشیا کی قیمتیں بہت کم ہوجائیں گی جو عموماً غریب لوگ استعمال کرتے ہیں ۔

21۔ ہمارے صوبہ کا سب سےقیمتی خزانہ سپرنگ واٹر یعنی نن بیکٹریا واٹر ہے جس کی اس وقت پوری دنیا میں مانگ ہے ، سپرنگ واٹر کی کمرشلائزیشن کے لیے اس بجٹ میں رقم مختص کی جائے تاکہ چترال اور دیگر علاقوں سے اس پانی کی پیکنگ اور ترسیل ملک کی دیگر حصوں کی طرف شروع ہو ۔ اس سے پاکستان بھر کے لوگوں کو مصنوعی منرل واٹر کے مقابلے میں صحت مند قدرتی چشموں کا پانی دستیاب ہوگا اور اسی پانی کو مڈل ا یسٹ اور دیگر دنیا کو برآمد کرکے ہم اربوں روپے کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ پانی صرف ہمارے صوبہ کے چند ایک مقامات پر دستیاب ہے اور پورے پاکستان میں اس کو پھیلا یا جاسکتا ہے ۔ اس وقت یہی پانی ناروے سے درآمد کرکے ملٹی نیشنل سٹورز ہزاروں روپے کی بیچ رہے ہیں ۔ جبکہ مقامی طور پر اس کی پیکنک کرکے اس کو منرل واٹر سے بھی کم قیمت پر بیچا جاسکتا ہے ۔

22۔TEVTAٹرینیگز کو فعال کیا جائے اور اس کو وسعت دی جائے ۔

23۔ جیمز ٹسٹنگ اینڈ سرٹیفیکشن لیبارٹری کے قیام کے لیے بھی بجٹ میں رقم مختص کی جائے ۔اس سہولت کے نہ ہونے سے اس کاروبار سے وابستہ لوگوں کو مالی اور وقت کے زیاں کا سامنے ہے اور اس سے اس کاروبار میں وسعت بھی نہیں آرہی ۔

24۔ بونیر میں ماربل کا پھیلا ہوا کاروباری سلسلہ ہے اس کو بہتر انداز میں ماحولیاتی تناظر میں لانے کے لیے وہاں ایک ماربل سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے ۔

25۔ ویمن بزنس سینٹرز اور بزنس پارک بنانے کے لیے بھی بجٹ میں رقم مختص کی جائے تاکہ خواتین کی کروڑوں آبادی بھی ملکی معیشت میں بہتر انداز میں اپنا حصہ ڈال سکیں ۔

26۔ صوبائی حکومت نے FPCCI کے لیے فنڈز منظور کیے ہیں یہ فنڈز بروقت ریلیز کیے جائیں تاکہ صوبہ کے تاجروں کو ایک مراکزمیں سہولیات مہیا ہوں اور صوبہ میں کاروباری اور صنعتی سرگرمیاں فعال ہوں ۔

سرخیاں

بجٹ ماہرین اور سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا جائے تو قابل عمل ہوتا ہے

خیبرپختونخوا میں نن ٹمبر مصنوعات کے خرید و فروخت کے لیے ایک منڈی پشاور میں بنائی جائے

صوبہ میں ٹیکنوپارک بنایا جائے جس میں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کریں گی اور صوبہ کی تیس سے زائد یونیورسٹیوں کی تحقیق کو عملی جامہ پہنا کر زرمبادلہ کمایاجاسکے گا اور لوگوں کو روزگار مہیا کیا جاسکے گا

خواتین کے کاروباروں اور صنعتوں کے لیے بزنس سینٹر اور ویمن بزنس پارک بنائے جائیں ۔

انرجی ویلنگ سسٹم کو بحال کیا جائے ۔

چھوٹے دوکانداروں کو بلاسود قرضے دئیے جائیں

22 منظور شدہ بارڈر ٹریڈ سٹیشن کھولے جائیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔