جشن شندور کے نقصانات۔..تحریر: کریم اللہ

دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں ہر سال تین روزہ جشن کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں چترال اور گلگت بلتستان کے درمیان فری اسٹائل پولو میچز کے کئی مقابلے ہوتے ہیں اس کے علاوہ موسیقی کے محافل سجتے ہیں پیراگلائیڈنگ، رسہ کشی ، رات کو روشنائی فضا میں بکھیرنا وغیرہ اس جشن میں شامل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق جشن شندور کے موقع پر چالیس ہزار سے ساٹھ ہزار لوگ شندور میں جمع ہوتے ہیں ۔ اس جشن کے فوائد پر بہت باتین کی جاتی ہے کہ اس کی وجہ سے چترال میں سیاحت کو فروع مل رہا ہے اور سیاحت کے فروع سے لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے کیا سچ مچ ایسا ہوتا بھی ہے۔؟ جشن شندور کی قیمت چترال بالخصوص ڑاسپور کے باسی کس طرح ادا کرتے ہیں اس پر ابھی تک کسی نے نہیں سوچا ہے ۔
ساڑھے بارہ ہزار فٹ اونچائی پر واقع شندور درحقیقت ڑاسپور کے عوام کی گرمائی چراگاہ ہے انتہائی بلندی پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی خاص گھاس پھوس بھی نہیں اگتے مگر ڑاسپور کے لوگوں کا زیادہ تر دارو مدار اس گرمائی چراگاہ پر ہے ، جون سے لے کر اکتوبر تک ڑاسپور کے عوام اپنی مال مویشیوں کے ساتھ شندور میں مقیم رہتے ہیں۔
جب جشن شندور ہوتا ہے تو چالیس سے ساٹھ ہزار افراد کا ہجوم وہاں جمع ہوتے ہیں جن کے لئے ٹوائلٹ کا کوئی انتطام نہیں نہ ہی ہوٹل وغیرہ کے حوالے سے کوئی جگہ مخصوص ہے ،اسی وجہ سے یہ ہجوم شندور کے کھلے فضا میں رفع حاجت کرتے ہیں۔ ہوٹل مالکان و دیگر سیاح اپنا کوڑا کریکٹ اور باسی خوراک وہاں کھلی فضا میں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ جسےبعد میں یہاں کے جنگلی جانور اور لوگوں کی مویشیاں کھاتے ہیں اور یوں ان سب کے بیمار پڑنے یا مرنے کے خدشات پیدا ہوجاتے ہیں۔یوں لوگوں کو بہت بڑا مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔
اس کے علاوہ چترال سے آگے ڑاسپور تک کی سڑک مکمل طور پر کچی ہے جب جشن شندور کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں گاڑیاں چترال میں داخل ہوکر شندور کی جانب روانہ ہوجاتے ہیں تواپنے پیچھے دھواں ، دھول مٹی ، اور صوتی آلوگی چھوڑ جاتے ہیں جس کی وجہ سے چترال ٹاؤن سے تا سور ڑاسپور تک سڑک کے کنارے آباد لوگوں کی صحت ، کھڑی فصلیں اور میوہ جاتے تباہ ہوجاتے ہیں، اس کے علاوہ اسی دھواں او ر دھول مٹی کی وجہ سے گلیشئیرز پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
اس جشن سے چترال بالخصوص ڑاسپور کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے البتہ نوکر شاہی کےلئے اوٹنگ کا بندوبست ہوتا اورپولو کے چند کھلاڑیوں کے لئے کچھ رقم و شعل میلا ہوتا ، جبکہ اس سب کی قیمت چترال اور ڑاسپور کے باسی اپنے مویشیوں کے مرنے یا بیمار ہونے ،دھول مٹی و دھواںکھانے، فضلوں و میوہ جاتے کے ڈسٹ کی وجہ سے تباہی ، شور کی آلودگی اور گلیشئیرز و ماحولیات کے تباہی کی صورت میں ادا کررہے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔