اگیگا چترال لوئر کے ضلعی عہدیداران کی چترال اپر اور لوئر کے ضلعی کیڈر کے ملازمین کے بائیفرکیشن کے حوالے سے وضاحت

چترال(چترال ایکسپریس)آل گورنمنٹ ایملائیز گرینڈ الائنس اگیگا چترال لوئر کے ضلعی عہدیداران، چئیرمین امیرالملک اور جنرل سیکرٹری ضیاءالرحمان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں چترال اپر اور لوئر کے ضلعی کیڈر کے ملازمین کے بائیفرکیشن کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ مینگورہ بنچ کے جج جسٹس اشتیاق ابراہیم اورجسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بنچ نے چترال لوئر اور اپر کے ضلعی کیڈر کے ملازمین کی تقسیم کو سول سرونٹس رولز کے مطابق تین مہینے کے اندر نمٹانے کے لیے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ خیبرپختونخوا کو ارسال کر دیا ہے۔ عدالت عالیہ نےدونوں ضلعوں کے ملازمین کو اپنے اپنے اضلاع میں بھیجنے کے لیے جو رولز اور ٹی او آرز بنائے گئے ہیں ان پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے مذکورہ دورانیے کے دوران ان کے اپنے آبائی اضلاع میں بھیجنے کا حکم صادر فرمایا ہے۔

اس بابت چند نکات وضاحت کیلیے پیش خدمت ہیں
1۔ یہ کہ اس فیصلے کا اطلاق ان ملازمین پر ہوگا۔ جن کی تعیناتی اور تقرری اس ضلع کے ڈومیسائل کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یا جن کی سینیارٹی اور پروموشن ضلعی سطح پر ہوتا ہے۔ 1973 کے سروس رولز کے مطابق ضلعی کیڈر کے ملازمین بھرتی کے وقت جس ضلعے کا باشندہ تھا وہ اسی ضلعے میں ملازمت کا پابند ہوگا۔ اس کی سنیارٹی اور پروموشن اسی ضلعے کے مطابق ہونگی۔
2۔ یہ کہ ضلعی کیڈر کے ملازمین کے علاوہ صوبائی کیڈر کے ملازمین کسی بھی ضلعے میں ملازمت کے اہل ہیں۔ حالیہ عدالتی فیصلے کا اطلاق صوبائی کیڈر کے ملازمین پر نہیں ہوگا۔
3۔ صوبائی کیڈر کے کسی ملازم کی اہلیہ اگر ضلعی کیڈر میں ملازم ہو اس پر بھی حالیہ عدالتی فیصلے کا اثر نہیں پڑے گا۔کیونکہ spouse policy کے تحت وہ اپنے خاوند کے ساتھ اسی ضلعے میں ملازمت کر سکتی ہے۔جنھیں کوئی بھی ان کے آبائی ضلعےمیں بھیجنے کا مجاز نہیں۔
4۔ یہ کہ ضلعی کیڈرکا کوئی بھی ملازم کسی دوسرے ضلعے میں ملازمت کرنا چاہتا ہو تو اسے پہلے اپنے ضلعے کا ڈومیسائل منسوخ کرنے کے بعد اپنی سینیارٹی کی قربانی دیکر ہی بحیثیت جونئر نئے ضلعے میں ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے۔
مثلا اگر کوئی ملازم SCT کے عہدے پر فائز ہے تو دوسرے ضلعے میں ٹرانسفر سے پہلے اس کو CT پوسٹ پر demote کیا جائیگا۔ جس کے بعد ہی اس کی درخواست پر غور کیا جائیگا۔
چونکہ عدالتی حکم کے مطابق چترال لوئر اور اپر کے تمام محکمے اپنے اپنے ملازمین کو ان کے ڈومیسائل کی بنیاد پر بائرفرکیٹ کرنے میں مصروف ہیں۔ اس صورتحال میں چترال اپر کے چند خود غرض اور مفاد پرست ملازمین اپنے ذاتی مفاد کی خاطر چترال اپر اور لوئر کے ملازمین اور عوام کے درمیان مخاصمت پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپر چترال کے لوگوں اور ملازمین کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ضلعے کی تقسیم کے بعد بلا تفریق تمام ملازمین کو جبراً بےدخل کیا جارہا ہے جو کھلم کھلا منافقت ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ چترال لوئر کے ملازمین ماورائے قانون کوئی مطالبہ نیہں کررہے۔ بلکہ بائیفرکیشن کے حوالے سے خیبرپختونخوا کے مروجہ قوانین کو نافذ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ جس کی تائید عدالت عالیہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بھی کی ہے۔
بائیفرکیشن کا عمل ایک خالصتا قانونی معاملہ ہے۔ سروس رولز کے مطابق دونوں اضلاع کے ملازمین کو بائیفرکیٹ نہ کرنے کی وجہ سے دونوں اضلاع کے ملازمین اور عوام کا نا قابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔ ان حالات کے پیش نظر تمام محکموں کو ایک بار پھر یاددہانی کرائی جاتی ہے کہ بلا تاخیر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات کی روشنی میں بائیفرکیشن کے عمل کو مذکورہ دورانیے کے اندر مکمل کیا جائے تاکہ مزید کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
یہاں پر اس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ ریاستی قوانین کا اطلاق بلا تفریق سب پر ہوتا ہے۔ کسی کی طرف سے بھی اگر سینہ زوری، غلط اپروچ یا ماورائے قانون کام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ تو مجبورا توہین عدالت کے لیے درخواست دینے میں حق بجانب ہونگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔