پس و پیش— ایک کاوش — اے.ایم.خان

اپنی نوعیت کے اعتبار سے دُنیا اور پاکستان میں عالمی حدت اور موسمی تبدیلی کے اثرات مختلف ہونے کے ساتھ  روز بروز زیادہ اور تشویشناک ہوتے جار ہے ہیں ۔ پاکستان کے گرم ترین علاقے : جیکب آباد، نواب شاہ اور سبی ، اب دُنیا کے گرم ترین جہگوں میں شامل ہوگئے ہیں جہاں درجہ حرارت اوسط پانچ ڈگری سیلسیس سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔
غور کیا جائے تو عالمی حدت اور موسمی تبدیلی کا اثر نہایت وسیع ہے۔ فصل، پیداوار، صحت، روزگار، کمائی، پانی کے وسائل،  رہن سہن کا انداز  اور ذرائع و وسائل پر اسکا ناگزیر اثر ہو چُکا ہے جو دیکھنے میں آرہا ہے۔
چترال میں موسمی تبدیلی اور عالمی حدت کا اثر  گزشتہ چند سالوں سے سیلاب اور گرمی کی لہر تک محدود کرکے دیکھا جاتا ہے جوکہ اس سے بڑھ کر ہے۔  درحقیقت چترال کے لوگوں کا بودوباش، فصل اور  پیداوار، پانی کے وسائل، گرمی کی لہر، خشک سالی اور صحت کے غور طلب مسائل رونما ہو رہے ہیں۔  اگر ایک  وادی یا  چند جہگےجسمیں فصل اور پیداوار بہتر ہو رہا ہے ، موسم معتدل ہوگئی ہے تو دوسرے علاقے موسمی تبدیلی سے متاثر ہورہے ہیں۔ زیریں چترال میں موسم گرما میں اب جو گرمی ہورہی ہے، جوکہ غیر متوقع ہے، سے بالائی چترال میں لوگ اب تک نہیں گزر چکے ہیں۔
تورکہو کی وادی میں مڑپ ایک درہ ہے جسکی آبادی اودیر مڑپ اور مڑپ میں رہائش پذیر ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق  اسکی سرحد ایک طرف کھوت تو دوسری طرف میراگرام اور دیزگ گاوں سے جاملتی ہے۔ مڑپ موسم سرما میں برف باری اور ٹھند کی  وجہ سے جانا جاتا ہے تو موسم گرما میں اپنے سرسبز و شادابی  اور خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ،مقامی لوگوں کے مطابق،  مڑپ میں سیزن ایک مہینے پہلے آچُکی ہے۔ ایک زمانے میں وہاں فصل اور پودے نہیں ہوتے تھے اب اودیر مڑپ میں اکثر پودے موسم سرما کی سردی برداشت کرتے ہیں اور گرما میں اُن کے لئے ضروری گرمی ہوجاتی ہے اور پھل پکتے بھی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق اودیر مڑپ میں  ایک زمانے میں  آلو کی فصل کے لئے مشہور تھا  اب یہ فصل وہاں خراب ہوجاتاہے جوکہ مڑپ میں اب ایک بہتر فصل ہے جو ایک وقت میں وہاں ہو نہیں رہا تھا۔
بالکل اسی طرح چترال کے وہ علاقے جو ایک زمانے میں سیب، انگور، خوبانی اور ناشپاتی کے لئے مشہور تھے اب گزشتہ چند سالوں سے یہ پھل وہاں خراب ہو رہے ہیں ۔  یاد رہے کہ گرمی زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے اُن علاقوں میں یہ پھل خراب ہو رہے تھے اس سال  دوبارہ نظر آرہے ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف حدت کا اثر بلکہ غیر یقینی موسمی تبدیلی کو بھی واضح کر دیتی ہے۔
 اس سال  موسم سرما میں چترال کے اکثر علاقوں میں برف باری ہوگئی لیکن بعد میں گرمی نہ ہونے کے وجہ سے اکثر علاقوں میں پانی کی کمی ہے۔  موڑکہو اور  چترال کے دوسرے علاقے جہاں پانی کی کمی ہوتی ہے وہاں فصل پانی نہ ہونے کی وجہ سے خراب ہوگئے۔  اسی طرح چترال کے وہ علاقے جہاں پانی کی فروانی ہوتی  تھی وہاں پانی کی کمی کی وجہ سے ایک بار پھر لوگ باری باری پانی سے فصل سیراب کرنے کا نظام ( سوروغ )  کو بحال کر چکے ہیں۔
بالائی چترال میں چرون ، جوکہ گندم اور چاول کے فصل کے لئے مشہور ہوتا ہے وہاں گندم اور چاول کے فصل کی کاشت اور کٹائی کے وقت میں واضح تبدیلی آچکی ہے۔تقریبا ایک دہائی پہلے چرون میں گندم کی کٹائی  جولائی کے پہلے ہفتے سے شروع ہوجاتی تھی اور اس کے چند دن بعد چاول کی کاشت بھی ہوجاتی تھی لیکن گزشتہ چند سال کی طرح  اس سال بھی جون کے پندرہ کے بعد گندم کی کٹائی جاری ہے۔ اگرچہ گندم کی پیداوار پر موسمی تبدیلی کا خاطر خواہ اثر دیکھنے میں نہیں آرہا لیکن بیج بونے اور فصل کاٹنے کے سیزن میں واضح فرق آچُکا ہے۔
چترال ایک پہاڑی علاقہ ہے یہاں روز بروز آبادی بڑھ رہی ہے جس سے دو فیصد کے برابر  موجود قابل کاشت زمین کم ہوتی جارہی ہے۔ گلیشیرز پگھل رہے ہیں۔ قدرتی جنگلات کی کٹائی اور جلنے کا رجحان بڑھ چُکا ہے۔ لوگوں کے اپنے مصنوعی جنگلات بھی کم ہو رہے ہیں۔ علاقے میں پہلے کی نسبت مشین زیادہ ہونے اور استعمال کرنے کی وجہ سے حدت مزید زیادہ ہو رہا ہے۔ چند سال بعد چترال میں گھریلو استعمال کے لئے جلانے کی لکڑی کی شدید قلت کا اندیشہ ہے۔ اس سے پہلے کہ ضرورت سے چیزیں قلت کی حد تک پہنچ جائیں موجود  قدرتی اور مصنوعی جنگلات کا تحفظ ضروری ہے۔ چترال کے اکثر مقامات پر پانی کی بہت بڑی مقدار موجود ہے جسمیں پانی سے بجلی پیدا کرکے کم قیمت پر لوگوں کو فراہم کیا  جائے تو ایک طرف لکڑی کا استعمال کم ہوگا جس سے کاربن کا اخراج بھی محدود ہوسکتا ہے  تو دوسری طرف موجود جنگلات بچ سکتے ہیں جس سے عالمی حدت کو محدود کرنے کے حوالےسے یہ چترال سے ایک کاوش ہوسکتی ہے جسمیں اسکی اپنی بقا بھی پوشیدہ ہے۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔