داد بیداد …گپ شپ …ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی 

فردوس سینما سے چا چا یو نس پارک کی طرف جا تے ہوئے نو شو با با مسجد آئی تو شاہ صاحب نے گاڑی روکی ہم نے تجسس بھری نظروں سے دیکھا تو کہنے لگے نماز یہیں پڑھتے ہیں پشاور میں تین مساجد ایسی ہیں جن سے میری پرانی یا دیں وابستہ ہیں ایک تا لا ب والی مسجد نمک منڈی، دوسری حاجی طورہ قل بائے والی مسجد کا بلی کی چڑ ھا ئی پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ساتھ متصل ہے، تیسری نو شو با با کی مسجد، ہم نے کہا کیا مہابت خا ن کی مسجد اور قاسم علی خا ن کی مسجد تمہیں یا د نہیں آتے؟ اُ س نے قدرے توقف کے بعد کہا یاد بہت آتے ہیں لیکن ان سے کوئی یا د وابستہ نہیں، خد اکا گھر اور سجدہ گاہ سے زیا دہ کچھ یا د داشت میں محفوظ نہیں، ہم نے سر ہلایا گاڑی سے نیچے اترے تو اذان ہو رہی تھی، ہم مسجد میں داخل ہو رہے تھے فون کی گھنٹی بجنے لگی بیرون یکہ تو ت سے ہمارے دوست بول رہے تھے سلا م دعا کے بعد ہم نے انہیں بتا یا کہ مسجد میں داخل ہو رہے ہیں نما ز کا وقت ہے مگر وہ بات کر نے پر مصر تھے ہم نے پو چھا کیا بات ہے؟ کس لئے فو ن ملا یا وہ برابر کہے جا رہے تھے اور کیا حال چال ہے؟ کیا ہو رہا ہے؟ ہماری طرف کب چکر لگا و گے؟ میں کمبل سے جا ن چھڑا نا چاہتا تھا مگر کمبل مجھے نہیں چھوڑ رہا ہے میں نے کہا مسجد میں جماعت کا وقت ہوا، وہ بولے نماز کے بعد گپ شپ ہو گی، میں نے کہا ایمان بچ گیا میرے مو لا نے خیر کی، مصیبت سے جا ن چھوٹ گئی لیکن یہ میری خام خیالی تھی 10منٹ بعد دوبارہ فون آیا، وہی دوست تھے میں نے پو چھا آپ نے کس لئے دوبارہ فو ن کیا؟ وہ کہنے لگے یار! گپ شپ کے لئے! آدھ گھنٹہ بولتا رہا، باربار کہہ رہا تھا پرواہ مت کرو میرے پا س پیکیج ہے، خدا جا نے یہ مغز کھپا نے کا پیکیج اس نیک بخت کو کس نے دیا ہے! یہ بات میں نےشاہ صاحب کو بتا ئی کہنے لگے شکر ہے آدھہ گھنٹے میں تیری جان چھوٹ گئی، یہ صاحب مجھے فو ن کر تے ہیں تو ایک گھنٹے سے کم میں مجھے معا فی نہیں دیتے، مو سم کے حال سے سیا ست کے کو چے کا رخ کر تے ہیں پھر مذہبی عقائد پر بے تکان بولتے ہیں اس کے بعد مہنگا ئی کا ذکر اور بازار کے احوال جو سنا تے ہیں تو میں لا حول پڑھتا ہوں اور حیراں ہو تا ہوں کہ پیکیج کمپنی کا ہے دماغ میرا ہے تم کمپنی کا پیکیج لیکر میرا مغز کیوں کھپا تے ہو؟ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ مو بائل سیٹ ہاتھ آئے ہوئے 30برس بیت گئے، ہم لو گ بات کرنے کا سلیقہ کب سیکھینگے؟ ہیلو! سلا م دعا کے بعد مطلب کی دو باتیں پھر فون بند کر وگے تو اس میں ڈیڑھ سے دو منٹ لگینگے اس سے زیا دہ گپ شپ کی کیا ضرورت ہے؟ اگر تمہا رے پا س فالتو دماغ، فالتو وقت اور فالتو پیکیج ہے تو دوسرے بندے کے پا س اس قسم کی فالتو سہو لتیں نہیں ہو نگی شاہ صاحب کہتے ہیں مجھے بھا نہ ماڑی کے دن یا د آتے ہیں جب ہم گلو کا کا کے پا س بیٹھتے تھے اور گلو کا کا سے انگریزوں، ہندووں اور سکھوں کے زما نے کی باتیں سنتے تھے، مو صو ف گپ شپ کے ما ہرین میں سے تھے اپنی عمر گذار چکے تھے ہمارا وقت ضا ئع کرنے کے لئے بے تکان بولتے جا تے تھے قصہ خوا نی میں مسلما نوں کے جلو س پر فرنگی سر کار کے سپا ہیوں کی فائرنگ ان کے سامنے ہوئی تھی خیر سے فائرنگ کی زد میں آنے کے باو جو د مر نے سے بچ گئے تھے، بابڑہ فائرنگ کے واقعے سے با خبر تھے یہ خا ن قیوم کی وزارت کا زما نہ تھا گلو کا کا کے بارے میں کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ یہ شخص چلتا پھر تا سکول ہے، تاریخ کی کتاب سے زیا دہ معلو مات رکھتا ہے ان کی صحبت میں بیٹھنے سے فلم دیکھنے یا ڈرامہ سننے کے برابر مزہ آتا ہے، ایک دن میں نے پو چھا گلو کا کا کی باتوں میں صداقت کتنی ہو تی ہے رنگ آمیزی کتنی ہو تی ہے؟ بھا نہ ما ڑی کے بانکے نو جوانوں کو اس بات سے کوئی غر ض نہیں تھی، ان کا شوق یہ تھا کہ گپ شپ ہوتی ہے، گپ شپ کا لطف آتا ہے بعض بقراط قسم کے دوست کہتے تھے کہ بزرگ ہمارا قیمتی اثا ثہ ہیں ان کی صحبت ہمارے لئے باعث خیرو بر کت ہے، آج میں کو ہا ٹی بازار میں چارہ بیچنے والے کے پا س کھڑا ہو کے سوچتا ہوں تو عجیب لگتا ہے اس مصروف دور میں گپ شپ کی کوئی اہمیت نہیں آج بھی اگر کسی کو گپ شپ کا چسکا ہے تو وہ اپنا اور دوسروں کا سر اسر نقصان کر رہا ہے جا پا ن میں ایک ایک سیکنڈ کا حساب ہو تا ہے ہم ما ہ و سال گپ شپ میں ضا ئع کر تے ہیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔