شندور میں منعقدہ تین روزہ فری اسٹا ئل پولو فیسٹول اتوار کے روز اپنی تمام رنگینوں کے ساتھ اختتام پذیر،چترال کی گلگت کے خلاف شاندارفتح

چترال( چترال ایکسپریس ) کرہ ارض کے بلند ترین پولو گراونڈ اور سیاحتی مقام شندور میں منعقدہ تین روزہ فری اسٹا ئل پولو فیسٹول اتوار کے روز اپنی تمام رنگینوں کے ساتھ اختتام پذیرہوا ۔ ہزاروں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے شندور کے سبزہ زار وں پہاڑوں اور منفر د فری سٹائل پولو کے مقابلوں کا لطف اٹھایا۔ شندور پولو میلےکا اختتامی میچ چترال اے ٹیم اور گلگت اے ٹیم کے مابین کھیلا گیا ۔ جس کے مہمان خصوصی آئی جی ایف سی نارتھ میجر جنرل عادل یامین تھے ۔ انہوں نے گیند پھینک کر فائنل میچ کا افتتاح کیا ۔ شندور پولو فیسٹول کا یہ فائنل میچ انتہائی سنسنی خیز اور دلچسپ رہا ۔ پہلے ہاف میں گلگت کے کھلاڑیوں نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرکے چترال کے 4 گولوں کے مقابلے 7 گولوں کی برتری حاصل کر لی ۔ لیکن دوسرے ہاف میں وہ اپنا یہ معیار برقرار نہیں رکھ سکے ۔جس پر چترال ٹیم نے موقع سے فائدہ اٹھا یا ۔ اور کھیل ختم ہونے تک 6 مزید گول کرکے سکور 10 تک پہنچا دیا ۔ جب گلگت کی ٹیم دوسرے ہاف صرف 2 گول ہی کرنے میں کامیاب ہوئی ۔ یوں چترال نے ہارا ہوا میچ جیت کر تماشائیوں کو حیران کر دیا ۔ اور چترال اے ٹیم نے یہ میچ 9 کے مقابلے میں 10 گولوں سے جیت کر اپنا سابقہ دس سالہ ٹائٹل برقرار رکھا ۔ میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے سپورٹرز نے سیٹیان بجاتے اور کھلاڑیوں کو داد دیتے آسمان سر پر اٹھا ئے رکھے ۔ جس کی گونج شندور کے پہاڑوں میں سنائی دے رہی تھی۔

تین روزہ شندور پولو فیسٹول میں کل سات میچز کھیلے گئے ۔ جن میں سے پانچ میچوں میں چترال کی ٹیموں نے کامیابی حاصل کی ۔ جبکہ گلگت کے حصے میں صرف دو ٹرافیاں آئیں ۔ سات میچوں میں چترال کی ٹیمو ں نے پینتالیس گول کئے۔ جبکہ گلگت کی ٹیمیں صرف بتتیس گول کرنے میں کامیاب ہو سکے ۔ چترال کی ٹیموں کا پلہ تمام میچوں میں بھاری رہا ۔ اور چترال کے تمام کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر شاندار کھیل کا مظاہرہ کیا ۔ اس لئے ٹیم سلیکشن کمیٹی کو بہت داد دی جارہی ہے ۔

شندور پولو فائنل میچ کے موقع پر پیرا گلائڈنگ کا شاندار مظاہرہ کیا گیا ۔ جس میں پاک آرمی اور دیگر پیراگلائڈرز نے حصہ لیا ۔ اسی طر ح بینڈ باجے و کلاش خواتین نے بھی کلچرل شو کا شاندار مظاہرہ کیا ۔ جس سے تماشائی بہت محظوظ ہوئے ۔ تاہم سکیورٹی کے فوج ظفر موج کی وجہ سے شندور پر تفریحی مقام کا نہیں بلکہ جنگی محاذ کا گمان ہوتا رہا ۔ درین اثنا چترال کے عوامی حلقوں نے کہا ہے ۔ کہ ایک طرف حکومت ملکی خراب معاشی حالات کا رونا رو رہا ہے ۔ اور دوسری طرف غریب عوام کی ہڈیوں سے نچوڑی گئی ٹیکس کی رقم کو مفت کا مال سمجھ کر عیاشیوں پر لٹایا جارہا ہے ۔ جوکہ نہ صرف قابل مذمت ہے۔ بلکہ قابل مواخذہ بھی ہے ۔ انہوں نےکہا کہ اس قسم کے فیسٹولز سے سرکاری آفیسران کی عیاشیوں کے سوا غریب عوام کواب تک کچھ حاصل نہیں ہوا ہے اگر فیسٹول منانا ہے ۔ تو اسے پرا ئیوٹائز کیا جائے ۔ تاکہ عوام کے ٹیکسوں کی آمدنی سے عیاشی کرنے کے راستے مسدود ہو سکیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔