لاسپور کے عوام کا روایہ اور جشن شندور۔..تحریر: ناصر علی شاہ

مجھے یہ نہیں پتا جشن شندور کب شروع ہوا اور مشہور کرانے میں کس عظیم انسان کا ہاتھ ہے مگر یہ سمجھ آرہا ہے کہ جشن شندور کی وجہ سے رونق آتی ہے ہر طرف خوشیاں ہوتے ہیں تماشائی پسندیدہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لئے زہنی و جسمانی طور موجود رہ کر کھلم کھلا سپورٹ کرتے ہیں جشن شندور سے لطف اندوز ہونے نہ صرف پاکستانی بلکہ عالمی دنیا سے سیاح پہنچ جاتے ہیں اور چترال کی خوبصورتی اور لوگوں کے بہترین برتاؤ کا قصہ اپنے علاقے کے لوگوں کو سناتے ہیں جس کی وجہ سے چترال اور چترالیوں کا اچھا نام رہا ہے۔

جشن شندور پولو فیسٹیول کے لئے دو راستے ہیں ایک چترال مستوج سے لاسپور پھر شندور اور دوسرا بہ راستہ گلگت۔
چترال کے راستے مشکل ،کٹھن اور دشوار گزار ہونے کے باوجود نہ صرف چترال کے عوام بلکہ باہر سے آئے ہوئے سیرو سیاحت کے شوقین بھی اسی راستے کا چناؤ کرتے ہیں اور لاسپور سے گزرتے ہوئے منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔۔

جشن شندور پولو ٹورنامنٹ دیکھنے پاکستان کے وزرائے اعظم و صدور، گورنرز، جنرلز ،وزرائے اعلی بہ نفس نفیس ہیلی کاپٹر میں تشریف لاچکے ہیں سڑکوں کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی ہوگی مگر عملی کام نہیں کئے جو انتہائی افسوس ناک اور لوگوں کے ساتھ کھلم کھلا مذاق ہے۔

ان تمام صورتحال کے باوجود لاسپور کے غیور عوام جو رہائش پزیر ہیں بہت ہی صابر ،مہمان نواز اور ایماندار ہیں جنہوں نے یہ نہیں کہا کہ کم سے کم اپنے جشن کی خاطر سارا دھول مٹی ہمارے اوپر مت گراؤ، کیونکہ اس دھول مٹی سے فصل بھی تباہ ہو جاتے ہیں مکانات کے اندر اتنی دھول جم جاتی ہے لگے گا برسوں بعد کسی نے دروازہ کھولا ہو کیونکہ لاکھوں گاڑیاں روزمرہ کی معمولات زندگی بسر کرنے والے راستے سے گزر جائے تو خود ہی اندازہ لگائے کیا حشر ہوگا اپنی مدد آپ کے تحت راستے اور نالے بنانے کا کام شروع ہوگا صفائی میں الگ وقت کا ضیاع اور فصلوں کا تو پوچھنا بھی مت۔

واقع میں لاسپور ویلی محبتوں کی زبان ہے اور اجنبیت اسی زبان سے ختم ہو جاتا ہے جس کی زندہ مثال جشن شندور سے لطف اندوز وہ تماشائی اور سیاح ہیں جن کی موج و مستی لاسپور شائداس نام کا نالہ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ۔ منزل دور اور نالے میں شدید طغیانی کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا کھلا آسماں روشنی سے اندھرے کے طرف بڑھ رہا تھا مگر وہاں سے نکلنے کی امیدیں ٹوٹ چکی تھی لوگ تھک کر بنجر زمیں پر چہرہ آسماں کی طرف کرکے لیٹے سوچ رہے تھے کیوں ائے؟ نہیں آنا چاہئے تھا۔ اب ہوٹل بھی نہیں بس تسلی تھی کہ ٹینٹ اور بسترے موجود ہیں۔
اسی دوران لاسپور کے عوام بیدار ہوگئے اور ہر گاوں سے بندے پہنچ کر سب کو اپنے ساتھ لے گئے اور نہ بسترے کھولنے دی اور نہ کھلے آسمان کے نیچے بے یارو مددگار چھوڑے ، واقع قدیم الایام سے جو مہماں نوازی اور ہمدردی کا قصہ سنا تھا وہ غیور عوام نے کر دیکھائے۔ مری کا سانحہ تازہ کر سکتے تھے مگر نہیں ان کے قدر ،خلوص محبت ،جذبہ خدمت نے موقع خدمت کو ہاتھ سے جانے نہ دیئے اور دل کے دروازوں سمیت گھر کے دروازے کھول کر بھر پور طریقے سے مہمان نوازی کرکے چترال کا نام مزید روشن کر دئے اور ثابت کر دیئے کہ چترال میں غیرت خدمت، ایمانداری اور مہماں نوازی اب بھی زندہ ہے۔
زندہ باد

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔