ضلعی انتظامیہ اپر چترال سیلاب سے متاثرہ عوام کی جان مال کی حفاظت کی بھرپورکوشش کررہی ہیں،ڈی سی اپر چترال منظور احمد افریدی

اپرچترال(نمائندہ چترال ایکسپریس)ڈپٹی کمشنر اپر چترال منظوراحمدافریدی نے بتایاکہ دریائے چترال کےطغیانی میں مسلسل اضافہ ہونے سے مختلف ندی نالوں کے بہاو میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ اپر چترال کے حسین گاؤں ریشن میں مختلف مقامات پر دریائے یارخون نے زمینات کی کٹائی کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جسکی وجہ سے بھاری نقصانات ہوئے ہیں،متعدد مکانات کو خالی کرکے گھروں سے سامان منتقل کردئیے گئے ہیں۔ریشن شادیرکے مقام پردریائے چترال کے کٹاؤکی وجہ سے ایک مرتبہ پھرچترال بونی مستوج شندورروڈہرقسم کی ٹریفک کے لئے بندہوگیاہے ۔یوسی یارخون کے پاور،شوڑکوچ اوردوسرے مقامات پر گلیشئیرز کےپگھلاو میں غیرمعمولی اضافہ ہونے کے نتیجے میں بروغل روڈ بھی متاثرہوچکاہے ۔گذشتہ روز شوڑکوچ کووسم یارخون سے ملانے والا واحدپیدیل پل بھی دریابردہوچکاہے ۔انہوں نے بتایاکہ ضلعی انتظامیہ اپرچترال جہاں بھی سیلاب کے اطلاع ملتے ہیں وہاں جاکرڈیٹہ جمع کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کی جان مال کی حفاظت کی بھرپورکوشش کررہے ہیں ۔منظوراحمدافریدی نے بتایاکہ شوڑکوچ ،پاور،کھوژ اوروسم یارخون کے رابطہ پلوں کوبحال کرنے کےلئے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کوہدیات کی ہے کہ ایمرجنسی بنیادپرٹھیکہ دارہائیرکرکے ان پلوں پرفوری کام شروع کیاجائے۔ریشن اورلاسپورہرچین کے مقام پرروڈ کی بحالی کے حوالے سے این ایچ اے حکام سے تفصیلی میٹنگ کے بعدروڈ پرکام شروع کرنے کافیصلہ کیاگیاہے جس کی نگرانی میں خودکرونگا۔انہوں نے مزیدکہاکہ آبپاشی ،آبنوشی کے لائنوں اورنہروں کی بحالی کے لئے محکمہ ایری گیشن اورپبلک ہیلتھ کوہدایات کی ہےکہ لوگوں کوپینے کی صاف پانی کے ساتھ ساتھ کھڑی فصلوں اورباغات کوفوری پانی مہیاکیاجائے

ڈی سی اپرچترال نے مزیدکہاکہ اپرچترال کے مختلف علاقوں میں آغاخان ایجنسی فارہبیٹاٹ کے رضاکاروں نے ریشن کے مقام پرمتاثرہ خاندانوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کرنے ساتھ ساتھ ریلیف آئٹمزبھی پہنچا ئے گئے ہیں جوخراج تحسین کے مستحق ہیں ۔اور ریسکیو 1122 اپر چترال کی ٹیمیں مقامی آبادی کی منتقلی میں مدد فراہم کر نے میں مصروف عمل ہیں۔اوراسسٹنٹ کمشنر ہیڈکواٹراپرچترال شاہ عدنان ریشن کے مقام پرموجودہیں ۔

نوجوان سماجی کارکن افگن رضاء نے بتایاہے کہ دریاکی طغیانی اوربہاؤ کی وجہ سے ریشن شادیرکے مقام پربونی شندورروڈدریابرد ہونے پرآغاخان ایجنسی فارہیبٹاٹ نےصبحِ صادق سے وہاں پر موجود ، تقریباً 13خاندانوں کو دوسرے جگہوں پر منتقل کیا اورمتاثرہ خاندانوں کو 6 خیمے اوردیگرسامان فراہم کرنے کےساتھ ساتھ اپنے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آکاہ کے کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم ریشن ، زئیت اور دیگر علاقوں کے والنٹیئرز وہاں پر موجود ہے

منتخب نمائندہ وی سی ریشن وزیرمحمد،سماجی کارکن محمدنبی خان ،جے یوآئی کے رہنماشہزاد احمدشہزاد اوردوسروں نے بتایاکہ ریشن شادیرکے مقام پردریاکی کٹائی کا سلسلہ گذشتہ چار سالوں سے جاری ہے ہر موسم گرما میں دریا کی کٹائی کے باعث لوگوں کی زمینات، کھڑی فصلیں اور گھر بار دریا برد ہورہے ہیں۔ پچھلے سال دریا کے ان بے رحم لہروں نے لوگوں کی زمینات و مکانات کے ساتھ مین چترال شندور روڈ کو بھی بہا کے لے گیا تھا جسے بعد میں لوگوں کے گھروں اور کھڑی فصلوں کو تباہ کرکے دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر لوگوں کو تاحال اس کا معاوضہ نہیں ملاہے۔ جبکہ دریا کی چینیلائزینش اور پشتیں بنانے کے نام پہ کروڑوں روپے آنے کی خبرین بھی مسلسل گردش کرتی رہی۔ مگر ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار نے دریا کے ساتھ ریت ڈال کر اس کا رخ موڑ لیا تھا اب دریائے چترال میں اونچے درجے کا سیلاب آیا ہے جس کی وجہ سے ریت کی اس دیوار کو توڑ کر دوبارہ ریشن کی جانب آئے اور پھر سے زمینات کی کٹائی شروع ہو چکی ہے۔ دریا کی اس کٹائی کے باعث مقامی افراد ایک مرتبہ پھر بوری بستر لپیٹ کر خیموں میں منتقل ہوچکے ہیں جبکہ دوسری جانب مین چترال شندور روڈ ایک مرتبہ پھر بہا کر لے گیااورہرقسم کے ٹریفک کے لئے بندہوچکی ہے ۔دریاکارخ تبدیل ہوکرریشن کے آڑیان ،بیگالاندہ ،شادیراوردوسرے مقامات میں وسیع رقبے پرپھیلے زمینات اورگھروں کومزیدنقصان پہنچنے کاخدشہ ہے ۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طورپرمنصوبہ بندی کی جائے ۔ گرمی کی شدت میں روز بروز اضافہ ہو رہاہے۔ جس سے دریا کی سطح مزید بلند ہو نے کے خدشات ہیں۔

منیجرایمرجنسی مینجمنٹ ڈیپارمنٹ آغاخان ایجنسی فارہیبٹاٹ چترال ولی محمدخان نے بتایاکہ آکاہ قدرتی آفات کے موقع پرحکومت کے شانہ بشانہ متاثرہ علاقوں کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ۔آغاخان ایجنسی فارہیبٹاٹ(آکاہ) چترال میں قدرتی آفات سے فوری نمٹنے کے لئے مقامی سطح پرکمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔جس کے تحت ہزاروں نوجوان قدرتی آفات کے موقع پر رضاکارانہ طور پر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمیونٹی ایمرجنسی رسپانس ٹیم کے رضاکار معاشرے کے ایسے قابل اعتماد سپاہی ہوتے ہیں جو بغیر کسی مفاد کے عوامی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ جہاں بھی قدرتی آفا ت کے اطلاع ملتے ہیں ہمارے ٹیم موقع پرپہنچ کرلوگوں کی جان مال بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اپرچترال شوڑکوچ یارخون سے تعلق رکھنے والاسماجی کارکن فیاض احمدفیاض نے بتایاکہ اسسٹنٹ کمشنر اپرچترال اپنے ٹیم کے ہمراہ پاور،وسم اورشوڑکوچ کے متاثرہ سڑکوں اورنہروں کامعائنہ کرتے ہوئے حالات کاجائزہ لیاتھامگرابھی تک کوئی عملی کام نظرنہیں آرہے ہیں یوسی یارخون کے عوام انتہائی مشکلات سے زندگی گزاررہے ہیں ایشاء خوردونوش نایاب ہونے کااندیشہ ہے اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں ان سڑکوں اورنہروں پرفوری کام شروع کیاجائے

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔