دادبیداد…آفت ،سڑک اورسرکار…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اگرسیلاب آئے،سڑک یاپلوں کو بہالے جائے،نہروں کو توڑدے پینے کے پانی کی سکیموں کا صفایا کردے،بجلی گھروں کو بند کردے،کھڑی فصلوں ،پھلدار درختوں اور ہنستی بستی آبادی کے مکانات کو تہ وبالا کردے تو اس واقعے کو آفت کہا جاتا ہے،ایسی آفت سات سالوں تک کسی بستی کا پیچھا نہ چھوڑے توقدرت کے ساتھ ساتھ اس میں سرکار کا بھی ہاتھ ہوتا ہے خیبرپختونخواہ کے ضلع اپر اور لوئر چترال کی6لاکھ آبادی کے ساتھ چکدرہ اور گلگت کے درمیان ٹریفک کی سڑک اگر7سالوں میں 7بار سیلاب کی نذر ہوکر بند ہوجائے تو اس کو سرکاری آفت کا نام دیاجاتا ہے گذشتہ کئی سالوں سے ریشن کے خوبصورت گاوں کو ندی نالوں کے سیلاب اور دریا کے کٹاو کاسامنا ہے7سالوں میں چار بار یہ مصروف سڑک سیلاب میں بہہ چکی ہے،یہ واحد سڑک نہیں جو اس طرح کی آفت سے مسلسل دوچار ہے وطن عزیز میں کراچی اور گوادر سے شانگلہ،بنوں اور گلگت بلتستان تک ہزاروں منصوبے اسی طرح آفتوں کی زد میں ہیں ایک ہی سکیم باربار آفت سے دوچار ہوتی ہے2005کے زلزلے کو23سال گذرے لیکن بالاکوٹ جیسے سینکڑوں دیہات میں تعمیر نو کاکام اب تک ادھوراہے ملاکنڈ ڈویژن کے8اضلاع میں 2010کے سیلاب کے بعد بنیادی ڈھانچے کی بحالی پرکام نہیں ہوا 13مقامات پرپاک فوج کی طرف سے لگائے گئے عارضی آہنی پلوں کا کرایہ اداکیا جارہا ہے اس لئے باخبر حلقے کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں ایک بار قدرتی آفت آتی ہے اس کے بعد سرکاری’’آفت‘‘ہی ہوتی ہے جو عوام کا جینا دوبھر کردیتی ہے،ریشن میں روڈ بلاک کا موجودہ سانحہ بلاشبہ سرکاری آفت ہے اس میں کوئی فرد،کوئی آفیسر،کوئی شہری یا کوئی شخص انفرادی طورپر ملوث نہیں اس جرم میں ہماری حکومت کا سسٹم یا نظام ملوث ہے اس سسٹم کی چا ربڑی بڑی خرابیاں ملوث ہیں ،اختیارات کا ارتکاز،غیر متعلقہ لوگوں کے ہاتھوں میں ذمہ داریاں حکومت اور عوام کی درمیان ناقابل عبور دوریاں اور ضلعی انتظامیہ کی بے بسی اس طرح کے سانحات کی نمایاں وجوہات ہیں اختیارات کے ارتکاز کی صورت حال یہ ہے کہ ایمرجسنی ہو،لوگوں کے جان ومال خطرے میں ہو تومتعلقہ محکمے کے پاس لوگوں کے مسائل حل کرنے کا اختیار نہیں سارے اختیارات وزیراعلیٰ،وزیراعظم اور کابینہ کو دے دئیے گئے ہیں کسی جگہ سیلاب آیا ہو یا آگ لگی ہو موقع پر موجود حکام کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے اس وجہ سے عوام کو ہمیشہ یہ شکایت رہتی ہے کہ حکومت کدھر ہےریشن میں دریا کے کٹاو کو روکنے کے لئے ستمبر2015 میں فند ریلیز کرنے کی ضرورت تھی 7سالوں میں فنڈ ریلیز نہیں ہوئے ۔ متعلقہ محکمہ بالکل بے بس ہے،غیر متعلقہ لوگوں کے ہاتھوں میں ذمہ داریوں کی مثال این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کامتوازن سسٹم ہے اس سسٹم کا حکومت،عوام،انتظامیہ اور متعلقہ محکمے سے کوئی تعلق نہیں ۔ عوامی مسائل اور عوامی شکایات سے کوئی تعلق نہیں پارلیمنٹ کی کمیٹیوں سے کوئی تعلق نہیں ،اخبارات میں آنے والی خبروں سے کوئی تعلق نہیں اس کے باوجود سرکاری وسائل کا بڑا حصہ اس ادارے کے پاس ہے جس کا دروازہ کسی نے نہیں دیکھا ۔ عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ ٹوٹنے کی مثال یہ ہے کہ متعداد ایجنسیاں حکومت کوعوامی شکایات اور مسائل پررپورٹیں بھیجا کرتی تھیں حکومت ان رپورٹوں اور ڈائریوں ،روزنامچوں کی مدد سے عوامی مسائل کو حل کرتی تھی1980کے بعد تمام اداروں کو سیاسی مخالفین کی سرکوبی کاکام سونپ دیا گیا عوامی مشکلات اور مسائل پر رپورٹیں نہ بھیجی جاتی ہیں نہ ایسی رپورٹوں پرعمل ہوتا ہے اس طرح حکومت اور عوام میں دوری پیدا ہوگئی ہے ضلعی انتظامیہ کے پاس ایمرجنسی رسپانس کے اختیارات ہوتے تھے،ڈپٹی کمشنر تمام محکموں کا سربراہ ہوتا تھا2001ء میں ضلعی انتظامیہ کے اختیارات ختم کئے گئے 2005ء میں ہنگامی منصوبہ بندی(Contingency Plan)کوبھی ختم کیا گیا،13ماہ پہلے ہنگامی بنیادوں پرجن لوگوں کے لئے راستہ بنایا گیا تھا ان کا معاوضہ اب تک نہیں ملا،7سالوں کے اندر چار سو ایکڑ زرعی زمین فصلوں کے ساتھ دریا برد ہوگئی اب وہاں 400فٹ گہری شگاف بن گئی ہے ۔ 400ایکڑ زمین پرخوبانی،سیپ،ناشپاتی،آخروٹ،شہتوت،آنار اور انگور کے باغات دریاکی کٹائی کی زد میں آکر برباد ہوگئے ۔ 55 گھرانوں کی آبادی اپنے مکانات سے محروم ہوکر کھلے آسمان تلے آگئی اس کو نظم، ونسق کی ناکامی اورغیر متعلقہ لوگوں کے ہاتھوں میں اختیار دینے کا شاخسانہ قرار دیاجاسکتا ہے ۔ حل یہ ہے کہ1980تک جونظام کام کررہا تھا اس کو دوبارہ بحال کرکے غیرمتعلقہ لوگوں کو سسٹم سے باہر کیا جائے ۔ فنڈ پرسیاسی لوگوں کے اختیارات ختم کئے جائیں ،این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو تحلیل کرکے ضلعی انتظامیہ کو اختیارات منتقل کئے جائیں ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔