سنو شہزادیو۔۔۔تحریر ( شہاب ثنا)..برغوزی

مرد کا درجہ بلند ہے بہت۔۔
لیکن کبھی کسی کی بیٹی کو نیچا مت دیکھانا تم۔۔
کل وہ کہہ رہی تھی ۔۔
“ماں میں اب بڑی ہو گئی ہوں ماں میں اب پڑھ لکھ گئی ہوں میں اپنا اچھا برا خود سوچ سکتی ہوں میں اب بچی نہیں رہی کہ آپ لوگ مجھ پر پابندی کرے ۔۔یہ میری زندگی ہے میں اپنے انداز میں جینا چاہتی ہوں آپ اولڈ زمانے کی باتیں میرے سامنے نہ کرے زمانہ اب بدل چکا ہے اپنے وقت کی پابندی مجھے مت دیکھائیں یہ وہ زمانہ نہیں ہے جب لڑکیاں چپ چاپ ہر ظلم ہر بات برداشت کرتی تھیں ۔۔اب مجھے اپنی سننی ہے آپ لوگ مجھ پر زبردستی نہیں کرسکتے مجھے ابو اور آپ کی نہیں اپنی پسند سے شادی کرنی ہے اگر آپ اور لڑکے کے گھر والے نہیں مان رہے ہیں تو ہم کورٹ میرج کریں گے بھاگ کر شادی کریں گے اسلام میں پسند اور نہ پسند کی اجازت دی ہے پھر آپ لوگ کون ہوتے ہیں ہمیں روکنے والے؟؟ یہ میری زندگی ہے چاہے دنیا والے کچھ بھی کہے مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں وہ مجھے خوش رکھے گا اور آپ لوگوں نے مجھے دیا ہی کیا ہے۔؟؟ بیچاری ماں باپ بیٹی کی باتوں پر رو رہے تھے فریاد کررہے تھے ہم سے ایسی کیا خطا ہوئی۔۔”
دو سال بعد وہ دو بچے اور طلاق لے کر پھر سے ماں کے گھر اچکی تھی اور کہہ رہی تھی کہ ماں مرد ہوتے ہی برے ہیں ۔۔۔ دروازے کے باہر اس کا والد محترم لاٹھی کے سہارے کھڑا ہاتھ میں نواسی کے کھلونے اٹھائے رو رہا تھا ۔۔۔
میری پیاری بہنو!!ہر مرد برے نہیں ہوتے کچھ عظیم ماؤوں کے بیٹے بہت عظیم ہوتے ہیں ۔۔اور وہ آپ کا باپ بھی مرد ہے آپ کو دنیا میں لانے والا بھی مرد ہے آپ ایک بدنسل کی وجہ سے سارے مرد پر انگلی تو نہیں اٹھا سکتے وہ تو آپ کی پسند تھی اگر وہ اچھا ہوتا تو آپ کو یوں بھاگا کر نہیں لے جاتا آپ کو عزت کا چادر پہنا کر لے جاتا ۔۔۔یہ تھا آنکھوں دیکھا حال۔۔۔
سنو پیاری بہنو!!!
کبھی بھاگ کر شادی نہ کرنا کیونکہ بہت کم چانس ہے کہ دوسروں کی عزت سے کھیلنے والا کبھی وفادار شوہر ثابت ہوگا اور تمہاری زندگی خوشگوار گزرے گی اور بالفرض مجال کہ سب کچھ ٹھیک بھی رہا تو بھگوڑی کا طعنہ تمہارے اور تمہاری آنے والی نسلوں کے لیے کلنک کا ٹیکہ بن جائے گا بات بات پر یہ بھی کہنے کو ملے گا میرے ساتھ چکر چلا سکتی ہے تو کسی کے ساتھ بھی چلا سکتی۔۔اپنی سگی ماں کو دھوکہ دیا تو کسی کو بھی دے سکتی ۔۔اور ہاں دوسروں کی عزت سے کھیلنے والا مرد کبھی بھی وفادار شوہر ثابت نہیں ہو سکتا ۔۔
پیاری بہنو!! باپ نے پالا شہزادیوں کی طرح ،ماں نے رکھا ملکہ کی طرح لیکن بیٹی۔۔۔۔نے عزت خاک میں ملاتی ہے ۔۔
سنو پیاری بہنو!!ایک بار ماں باپ ، بھائیوں سے پیار سے کہہ دینا کہ اے امی میں آپ کے گھر مہمان ہوں آپ نے میری اچھی طرح سے دیکھ بھال کی ہے مجھے کوئی دکھ تکلیف نہیں دی مجھے ہمیشہ آنکھوں کا تارا بنایا رکھا مجھے جو کچھ چاہئیے تھا آپ نے مجھے دیا ۔۔میرے پیارے ابو اور بھائیو!! میں نے ساری زندگی آپ کی عزت کی رکھوالی کی ہے میں برے لوگوں سے بچ بچ کے رہی ہوں ۔۔اگر ابو کو نہیں کہہ سکتی تو ماں کو کہو ماں تو ماں ہوتی ہے نا ۔۔اے میری ماں ایک لڑکا ہے جو آپ کی بیٹی کو بہت اچھا لگتا ہے وہ مجھے ساری زندگی خوش رکھنے کے وعدے کرتا ہے ماں میں چاہتی ہوں آپ لوگ میری خوشی کے لیے ایک بار اس کو دیکھ لو اسکو آزما لو اگر وہ آپ کو میرے لائق لگتا ہے تو مجھے اس کےساتھ اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کرنا اگر آپ کو وہ میرے قابل نہیں لگتا تو پھر مجھے اس سے اچھا اس سے زیادہ محبت کرنے والا تلاش کرو۔۔
پیاری بہنو!! میں سمجھتی ہوں یہ بہت مشکل ہے کسی لڑکی میں بھی یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے گھر والوں کے سامنے اپنی پسند کا اظہار کرے پر پیاری۔۔ گھر سے بھاگنے کی ہمت ہوتی ہے تو یہ سب بتانے میں ہمت کیوں نہیں ہوگی۔اپ کو بھاگنے پر بھی گھر والے قبول کرتے ہیں تو بتانے پر آپ کو ماریں گے تو نہیں نا۔۔
پیاری!! ماں باپ ،بہن بھائیوں کی عزت بہت خاص ہوتی ہے اپنی ماں باپ ،بہن بھائیوں کی عزت اور زندگی خراب اور برباد کر کے خود کی زندگی میں خوشیاں نہیں لے آؤ گی اپنی زندگی جیتے جی جہنم مت بناؤ ۔۔بھاگتے وقت اپنے ماں باپ کی اس لمحے کو یاد کرو جس نے کتنی آزمائشوں،تکالیف اور درد سے گزار کر تمہیں اس دنیا میں لائے۔جس نے تمہیں جینا سیکھایا،تمہاری انگلی پکڑ کر چلنا سیکھایا،تمہاری منہ سے نکلی ہوئی ہر بات کو پورا کیا وہ تمہاری خوشی کے لیے اپنی خوشی قربان کی پھر تم اپنی چند لمحوں کی خوشی کے لیے کیسے ان خوبصورت لمحوں کو بھول سکتے ہو؟؟یہ چند لمحوں کی خوشی ہے پھر یہ زندگی بھر کا طعنہ ہوگا ۔۔
میرے بھائیو!! تم تو مرد ہو پھر کیسے کسی کی بیٹی کو باپ کی اجازت اور مرضی کے بغیر لے جا سکتے ہو ؟؟کل آپ کو بھی ایک بیٹی کا باپ بننا ہوگا ڈرو اس دن سے۔۔ یہ دنیا مکافات عمل ہے کسی کی بیٹی بہن کے ساتھ کھیلنے والوں کو میں نے تباہ ہوتے ہوئے دیکھا ہے ۔۔خدا کے لیے بیٹا ہو یا بیٹی بڑھاپے میں اپنے ماں باپ کا سہارا بنو چند دنوں کی خوشی کے لیے اپنے ماں باپ کو وہ دکھ ،رسوائی نہ دو جو معاشرہ ان کو اگنور کرے۔۔خود بھی جیو اور اپنے ماں باپ کو بھی جینے دو۔۔۔
اپنے عاشق کے ساتھ گھر سے بھاگ کر تو نے۔۔
نام کا جھنڈا کوہ عشق پر لگا دیا۔۔
تیری پسند کی شادی تو ہو گئی لیکن
تو نے ماں باپ کا سر شرم سے جھکا دیا۔۔۔
۔۔۔کوئی بات بری لگی تو معذرت چاہتی ہوں ۔۔
اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔