دادبیداد ..گاوں میں قربانی…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

آج شہرمیں قربانی کاسماں دیکھ کرمیں حیران ہوا میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اگلی قربانی پرگاوں جاونگا اللہ پاک نے توفیق دی توگاوں میں قربانی ہوگی،قربانی نہ ہوئی توقربانی کا گوشت ضرور ملے گامیرا گاوں جنت کا نمونہ ہے لوگ فرض،سنت اور واجب پراپنی جان نثار کرتے ہیں سادہ لوح لوگ ہیں ہرقدم پرسوچتے ہیں کہ زیادہ ثواب کس کام میں ہے کونسا کام کرنا معیوب ہے؟کونسا کام گناہ ہے؟کس کام سے اللہ پاک راضی ہوتا ہے؟کونسا کام اللہ پاک کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے؟شہروں کے لوگ ایسا نہیں سوچتے،گاوں میں مولوی جی کی بڑی قدر ومنزلت اور عزت ہوتی ہے شہر میں ایسا نہیں ہے،گاوں میں قربانی سے 10دن پہلے فریج اور فریزر کی خریداری کا سیزن نہیں آتا،گاوں میں قربانی کا گوشت منجمد کرکے چار مہینوں تک چوری چھپے نہیں کھایا جاتا۔گاوں میں مولوی جی نے ایک بار سمجھایا ہے کہ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں برابر تقسیم کرو،ایک حصہ گھروالوں کو دو،دوسرا حصہ قریبی رشتہ داروں کو دیدو،تیسرا حصہ غریبوں،فقراء اور مساکین کو دیدو۔گاوں کے سادہ لوح اور سیدھے سادے لوگ چپ چاپ اس پرعمل کرتے ہیں اس عمل میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے میرے گاوں میں قربانی کا گوشت کچا بھی تقسیم ہوتا ہے اور پکا پکایا بھی تقسیم کیا جاتا ہے۔یہ مقامی تہذیب وثقافت کا اسلامی نمونہ ہے قربانی کا جانور پیدا ہوتے ہی نذر اور منت مانی جاتی ہے کہ یہ بچھڑا،دنبہ یا بکرا بڑا ہوگا تو اس کی قربانی ہوگی اپنے بچوں کی طرح اس جانور کو پالا پوسا جاتا ہے اس کا خاص خیال رکھا جاتا ہے ہرسال چھوٹے سے ریوڑ میں تین یاچار جانور ایسے ہوتے ہیں جو”قربانی“کے نام سے موسوم ہوتے ہیں۔قربانی کے دن سے دودن پہلے5سیر یا چھ سیر گندم کو پانی میں خوب گیلا کرنے کے بعد کوٹ کوٹ کراس کا دوبار بنایاجاتا ہے اس میں ریشہ الگ ہوتا ہے دانہ دویاتین ٹکڑے ہوجاتا ہے۔قربانی کا گوشت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کربڑے دیگ میں گندم کے دانوں کے ساتھ موٹے چاول کی طرح ہلکی آنچ پرتین یاچار گھنٹے پکایا جاتا ہے اس کا مقامی نام”لاژیک“ہے یہ ایسا طعام ہے جو دیگ میں 10گھنٹے گرم اور تازہ رہتا ہے باسی نہیں ہوتا۔گاوں کے سب لوگ شادی گھر کے کھانے کی طرح اس طعام سے لطف اندوز ہوتے ہیں رشتہ داروں،عزیزوں،غریبوں،فقیروں اور مسکینوں کے گھروں میں بھیجا جاتا ہے پڑوسیوں کے گھروں میں اور عبادت خانوں میں بھیجا جاتا ہے دن کے اختتام پر70یا80گھرانے اس گوشت سے مستفید ہوتے ہیں۔کچا گوشت تقسیم کرنے والے بھی اس ترتیب سے تقسیم کرتے ہیں،میرے گاوں میں قربانی کے کچے یا پکے گوشت کے لئے کوئی سوالی بن کرنہیں پھرتا،کچا گوشت سب کے گھروں میں پہنچایا جاتا ہے پکے پکائے گوشت کے لئے لوگوں کو دعوت دے کرباقاعدہ بلایا جاتا ہے،ہرایک کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھا جاتا ہے عبادت سمجھ کرقربانی کی جاتی ہے اور عبادت سمجھ کر قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے میرے شہر کا ایسا حال دیکھنے میں نہیں آتا شہر میں قربانی کا گوشت صرف ان رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو دیا جاتا ہے جن کے گھروں سے گوشت آیا ہو یا گوشت آنے کی پکی اُمید ہو اور ایسے گھر دوچارسے زیادہ نہیں ہوتے وہ بھی متمول،دولت مند اور امیرگھرانے ہوتے ہیں غریب رشتہ دار ہویاہمسایہ،اس کو قربانی کے گوشت میں حصہ نہیں ملتا قربانی کا سارا گوشت فریج اور فریزر میں منجمد کرکے مہینوں تک پکایا اور کھایا جاتا ہے اس میں رشتہ دار کا حصہ یا غریب کا حصہ کسی نے نہیں دیکھا یہ شہر کی تہذیب وثقافت ہے جس میں ایک اہم عبادت کی بڑی بڑی شرائط کو نظر انداز کیا جاتا ہے شہرمیں مولوی جی کی باتوں کوبھی سنجیدہ نہیں لیاجاتا جولوگ امیراور دولت مند ہوتے ہیں جو قربانی کی استطاعت رکھتے ہیں وہ مولوی جی کو خاطر میں نہیں لاتے اسلام کا جو اصول ہے اس کے تحت گاوں میں کوئی گوشت سے محروم نہیں رہتا قربانی کرنے والا اگردوتہائی گوشت تقسیم کرتا ہے تو اس کے گھر میں دوسروں کا بھیجا ہوا گوشت اس مقدار میں آجاتا ہے غربا اور مساکین کے گھروں میں بھی ایک ہفتے تک گوشت پکتا ہے یا پکاپکایا گوشت آجاتاہے۔اس لئے میں نے ہربقرعید پرگاوں جانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔