گذشتہ تین سالوں کے دوران چترال میں مختلف نوعیت کے اربوں روپے کےمنصوبے تعمیر ہو چکے ہیں ۔ اور کئی زیر تعمیرہیں.معاون خصوصی وزیرزادہ

چترال ( محکم الدین ) معاون خصوصی وزیر اعلی خیبر پختونخوا برائے اقلیتی امور و چیرمین ڈیڈک وزیر زادہ نے کہا ہے ۔ کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران چترال میں مختلف نوعیت کے اربوں روپے کےمنصوبے تعمیر ہو چکے ہیں ۔ اور کئی زیر تعمیرہیں ۔ یہ صرف چترال کےعوام کے مسائل کم کرنے اور انہیں سہولت دینے کی خاطر کئے جارہےہیں ۔ اس لئے تمام ادارے ان منصوبوں کی اہمیت کے تحت ان کی تکمیل کو اولیت دیں ۔ اور صرف ان ٹھیکہ داروں کو آدائیگی کئےجائیں ۔ جو عوامی مفاد کے ان منصوبوں میں دلچسپی سے کام کریں ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز انہوں نے ڈیڈک کی مٹینگ کے موقع پر آفیسران سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال انوارالحق،چیرمین تحصیل کونسل شہزادہ امان الرحمن اور مختلف اداروں کے آفیسران موجود تھے ۔ وزیر زادہ نے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمیں عوام کی خدمت کیلئے چن لیا ہے ۔ چاہے ہم سیاسی عہدہ رکھتے ہیں ۔ یا ادارے کے ذمہ دارکی حیثیت سے کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال شندور روڈ ، چترال کالاش ویلیز روڈ عمران خان حکومت کے بڑے کارنامے ہیں ۔ جن کی تکمیل کے بعد چترال میں سیاحت کو ترقی ملے گی ۔اور مقامی لوگ سہولت کے ساتھ سفر کر سکیں گے ۔ وزیر زادہ نےچترال کے تمام اداروں سے منصوبوں سے متعلق پراگرس رپورٹ طلب کی ۔ اور سب سے پہلے محکمہ ایجوکیشن کے تعمیراتی منصوبوں سے متعلق ایکسین سی اینڈ ڈبلیو سے تفصیلات سننے کے بعد کہا۔ کہ دمیڑ سکول کی تعمیر کیلئے فنڈ موجود ہونے کے باوجود کام مکمل نہیں کیا گیا ہے ۔ اسی طرح گورین گول شیشی کوہ میں سکول کی تعمیر نامکمل اور بمبوریت گرلز ہاسٹل میں بھی کام باقی ہے۔ انہوں نے ڈی ای او ایجوکیشن کو ہدایت کی ۔ کہ مذکورہ سکولوں کی وزٹ کرکے رپورٹ آیندہ اجلاس میں پیش کریں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تمام منصوبوں کی پراگریس رپورٹ تصاویر کے ہمراہ پیش کریں ۔ تاکہ کام کی رفتار کا اندازہ لگایا جاسکے۔ اس موقع پر ریسکیو 1122 دروش و چترال کے بلڈنگز کی تعمیر میں سست روی پر امجد خان نے تشویش کا اظہار کیا ۔ اور مطالبہ کیا ۔ کہ تعمیر میں تیزی لائی جائے ۔ جبکہ ہون فیض آباد روڈ ، کندوجال لٹکوہ روڈ ، جنجریت کوہ روڈ ، آفیسرز مس روڈ کے بارے میں معاون خصوصی نے ایکسین سی اینڈ ڈبلیو کو خصوصی توجہ دینے اور نامکمل کام مکمل کرنے کی ہدایات دیں ۔اجلاس میں ہائیر سکینڈری کے ایک ماڈل سکول کی تعمیر کیلئے مدک لشٹ کو فزیبل قرار دیا گیا ۔ اجلاس میں سوشل ویلفئیر کی طرف سے ویمن کمپلیکس کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا ۔ تاکہ سو شل ویلفیر کے دفاتر کو کرایے کےمکانات سے نکال کر وہاں منتقل کیا جا سکے ۔ اجلاس میں صحت کے حوالے سے گبور میں ڈسپنسری کے قیام اور پاپولیشن ویلفیر کے مختلف مقامات میں سنٹرز کے قیام کے سلسلے میں بات کی گئی۔ اور وزیر زادہ نےڈی ایچ اوچترال کو ہدایت کی ۔کہ گبور کے لوگوں کو صحت کی سہولت فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن کو شش کی جائے ۔ اس حوالے سے کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کا تعاون حاصل کرنے کی بھی کوشش کی جائے ۔ اجلاس میں آر ڈی ڈی ، ٹی ایم اے دروش اور ٹی ایم اے چترال کی زیر نگرانی منصوبوں پر تفصیلی بات ہوئی ۔ جس میں بتایا گیا ۔ کہ اے ڈی پی نمبر 666 میں 98 فیصد فنڈ ریلیز ہو ہوچکے ہیں ۔ صرف دو فیصد کی ادائیگی باقی ہیں ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ۔ کہ جو ٹھیکہ دار کام میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے ۔ اسے بلیک لسٹ کیا جائے ۔ اجلاس میں آغوش سنٹر کے سولرائزیشن پر بھی بات کی گئی ۔ وزیر زادہ نے دروش میں انجام پانے والے منصوبوں کی تعریف کی ۔ کہ وہ بہترین معیار میں تیار ہوئےہیں ۔اجلاس میں فارسٹ کے حوالے سے ڈی ایف او نے کہا ۔ کہ وہاں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے ۔ انتظامیہ کے آفیسران پر فائرنگ ہوئی ہے ۔ وہاں جنگلات کو بچانے کیلئے فل پروف سیکیورٹی کی ضرورت ہے ۔ سکیورٹی فورسز اور لیویز کے جوانوں کی تعیناتی کے ساتھ ٹاپ پر چیک پوسٹ تعمیر کئے جانے چائیں ۔ اس پر معاون خصوصی وزیر زادہ نے ہدایت کی ۔ کہ کمیونٹی کے عمائدین کو ا عتماد میں لیا جائے ۔ اور ان کے ذریعے سے حالات کنٹرول کرنے کی کوشش کی جائے ۔ وزیر زادہ نے ترقیاتی منصوبوں کے حامل اداروں کے تمام آفیسران کو ہدایت کی ۔ کہ وہ پراگریس رپورٹ کے ساتھ پکچر بھی ریکارڈ کا حصہ بنائیں ۔ تاکہ کام کے مقدار دیکھنے میں آسانی ہو ۔ اور اسی کے مطابق آدائیگیاں کی جا سکیں ۔ اجلاس میں واٹر سپلائی سکیموں ، لائیو سٹاک ، ایریگیشن کے منصوبے بھی زیر بحث آئے ۔ معاون خصوصی وزیر زادہ نے اس امر کا بھی اظہار کیا ۔ کہ بہت سے منصوبے ایسے ہیں ۔ جن کی وزٹ انجینئرز ایک مرتبہ بھی نہیں کر تے ۔ ایسے منصوبوں کے معیار کے بارے کیا کہا جا سکتا ہے ۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔