وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت سینٹر آف ایکسیلنس برائے کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم کے بورڈ آف گورنرز کا دوسرا اجلاس

پشاور(چترال ایکسپریس)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت سینٹر آف ایکسیلنس برائے کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریم ازم(Centre of Excellence on Countering Violent Extremism) کے بورڈ آف گورنرز کا دوسرا اجلاس جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوا ۔ صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران بنگش اور ایم پی اے ڈاکٹر عائشہ اسدکے علاوہ متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، چیف کوآرڈنیشن آفیسر برائے سنٹر آف ایکسلینس اور دیگر بورڈ اراکین نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس کے شرکاءکو آگاہ کیا گیا کہ بورڈ آف گورنرز کے سابقہ اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں بورڈ کے تحت ہیومین ریسورس اینڈ فنانس کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں۔ چیف کوآرڈنیشن آفیسر برائے سنٹر آف ایکسلنس کی سربراہی میں تشکیل دی گئی یہ کمیٹیاں پانچ ، پانچ اراکین پر مشتمل ہیں جن میں محکمہ قانون، محکمہ خزانہ ، محکمہ داخلہ ، محکمہ اسٹبلشمنٹ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم کے نمائندے شامل ہیں۔ اجلاس میں کمیٹیوں کی مجوزہ تشکیل سے اتفاق کرتے ہوئے بورڈ کے تحت ہیومین ریسورس اینڈ فنانشل ریگولیشنز 2022 کی باضابطہ منظوری دی گئی۔اس موقع پر سنٹر آف ایکسیلنس کو فعال بنانے کیلئے مطلوبہ سٹاف کی بھرتی کا عمل شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی اور ہدایت کی گئی کہ سٹاف کی بھرتی متعلقہ قواعد وضوابط کے مطابق یقینی بنائی جائے ۔ قبل ازیں اجلاس کو ” سنٹر آف ایکسلینس برائے کاونٹرنگ وائیلنٹ ایکسٹریم ازم” کے قیام کے اغراض و مقاصد ، سنٹر کے مجوزہ فنکشنز اور دیگر اہم پہلوﺅں پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ سنٹر صوبے میں پر تشدد سرگرمیوں ، تخریبی رویوں، نفرت اور انتہاءپسندی کی روک تھام کیلئے ایک تحقیقی ادارے کے طور پر کام کرے گا ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مذکورہ سنٹر کا قیام نہ صرف پاکستان بلکہ ایشیاءبھر میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد اقدام ہے۔ یہ ایک ریسرچ بیسڈ سنٹر ہو گا جس کا مقصد دہشت گردی ، شدت پسندی ، بنیاد پرستی اور پر تشدد رویوں سے پیدا ہونے والے مسائل کا خاتمہ کرکے دہشت اور تشدد سے پاک ایک پرامن معاشرے کی تشکیل ہے ۔وزیراعلیٰ نے سنٹر کو جلد فعال بنانے کیلئے تیز رفتاری سے ضروری اقدامات اُٹھانے کی ہدایت کی ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبائی حکومت پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق ایک خوشحال اور پرامن معاشرے کے قیام کیلئے ہر ممکن اقدامات اُٹھا رہی ہے ۔ اُنہوں نے کہاکہ سنٹر آف ایکسلنس کا قیام بھی انہی کوششوں کی ایک کڑی ہے جو صوبے میں شدت پسندی ، تخریبی اور پرتشدد سرگرمیوں اوررویوں کے خاتمے اور پرامن معاشرے کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کی کاوشوں کو نتیجہ خیز بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔