انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے زیراہتمام لوئر اور اپر چترال کے اضلاع میں الگ الگ دو روزہ ورکشاپس

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے زیراہتمام لوئر اور اپر چترال کے اضلاع کے ہیڈ کوارٹرز میں الگ الگ منعقد شدہ دو روزہ ورکشاپس میں مقامی اسٹیک ہولڈرز سے رائے حاصل کرنے کے لیے انہیں مقامی حالات کے مطابق ایکشن پلان کے حتمی مسودے میں شامل کیا جائے گا۔ منظوری اور عملدرآمد کے لیے صوبائی کابینہ کو پیش کیا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے GLOF-ٹو پراجیکٹ کی مالی مدد سے منعقد ہونے والی اس ورکشاپ میں حکومت کے لائن ڈپارٹمنٹس کے نمائندوں اور مقامی کمیونٹیز نے شرکت کی جنہوں نے اپنے تجربے اور مقامی دانشمندی کی بنیاد پرموسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی رائے دی۔

ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل انور خان، محکمہ ماحولیات کے ایڈیشنل سیکرٹری منہاس الدین، کے پی حکومت کے اسسٹنٹ چیف فارن ایڈ عزیر رحیم اور ای پی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر افسر خان نے حاضرین کو مجوزہ اڈاپٹیشن ایکشن پلان کی جزئیات اور نقطہ نظر کے بارے میں بتایا جو اڈاپٹیشن اور مٹیگیشنپر مبنی تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جعرافیہ کی بنیاد پر صوبے کو نو ماحولیاتی زونز میں تقسیم کیا گیا ہے تاکہ ہر زون کو اس کی ماحولیاتی ضروریات اور وہاں موجود خطرات کے مطابق ایکشن پلان بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ چترال کے دونوں اضلاع کو برفانی جھیلوں کے سیلاب کے خطرے کا سامنا ہے جس سے انسانی بستیوں اور فزیکل انفراسٹرکچر کو خوفناک نوعیت کے خطرات لاحق ہیں اور اس وجہ سے متاثرہ علاقے کے مصائب کو کم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کے ہر محکمے کے کردار کو ایکشن پلان میں متعین اور بیان کیا گیا ہے اور مقامی کمیونٹیز کی ذمہ داریوں کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے سلسلے میں سول سوسائٹی اور مقامی حکومت کے منتخب نمائندوں کا کردار بھی اہم ہے اور کوئی بھی پالیسی مقامی لوگوں کے تعاون اور تعاون کے بغیر ثمر آور نہیں ہو سکتی۔ گلوف ٹو پراجیکٹ کے فیلڈ افسیر شہزادہ اقتدار الملک ا ور دونوں اضلاع میں ڈپٹی کمشنر اور ان کے نمائندے بھی پروگرام میں حاضر رہے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔