سرخ مٹی کی سرزمین۔..محمد شریف شکیب

ضلع اپر چترال کا خوبصورت گائوں ریشن مختلف حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل رہا ہے کہوار اور فارسی کے نامور صوفی شاعر اور کہوار لوک گیت یارمن ہمین کے خالق بابا محمد سیار نے ریشن کی سرخ مٹی کو اپنے محبوب کے گلابی ہونٹوں سے تشبیہ دے کر کہا تھا کہ ” ریشنو بوم رنگ گنی شیر مہ خوشو یاقوت شوناری” ریشن کی مٹی نے میرے محبوب کے یاقوتی ہونٹوں کا رنگ چرایا ہے۔ریشن کی مردم خیز سرزمین نے ہر دور میں مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے والی ہستیاں پیدا کیں۔فرنگی دور میں یہ علاقہ حریت پسندوں کا مسکن رہا۔کہتے ہیں کہ ریشن کے پانی میں یہ خاصیت ہے کہ اسے پینے والےمست رہتے ہیں۔لیکن ریشن کے پانی، یہاں کی گلابی مٹی اور حسن کو نجانے کس کی نظر لگ گئی۔شاکوہ اور لوٹ شال سے آنے والی ندیاں گلیشئر پھٹنے سے اچانک بپھر گئیں اور پے درپے سیلابوں سے آدھے گائوں کو اجاڑ کر رکھ دیا۔درجنوں مکانات، دکانیں، سکول، ہسپتال، پھلدار درختوں کے باغات اور سینکڑوں ایکڑ رقبے پر تیار فصلیں بھی سیلاب برد ہو گیئں۔بات صرف ریشن نالے میں طغیانی پر ختم نہیں ہوئی۔ دریائے چترال کی تند وتیز لہروں کو بھی ریشن کی گلابی مٹی بھا گئی دریا کے کٹائو کی وجہ سے اب تک 50 خاندان اپنے گھر بار اور زریعہ معاش سے محروم اور کھلے آسمان تلے بے یارومددگار زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے ہیں۔گزشتہ تین سالوں کے دوران تین درجن مکانات، باغات اور زرخیز اراضی کے علاوہ اپر چترال کو ملک کے دوسرے حصوں سے ملانے والی سڑک تین بار دریا برد ہو چکی ہے۔ پچھلے سال جب پورے ضلع کا واحد زمینی راستہ کٹ گیا تو شادر کے مقامی لوگوں نے اپنی فصلیں، باغات کٹوا کر اور ریائشی مکانات گرا کر عوام کو راستہ دیا تھا۔ متعلقہ سرکاری حکام نے وعدہ کیا تھا کہ متاثرین کو ایک ماہ کے اندر تمام نقصانات کا معاوضہ دیا جائے گا۔ مگر وہ وعدے ایک سال گزرنے کے باوجود ایفا نہ ہو سکے۔دریائے چترال میں مئی سے اگست تک طغیانی رہتی ہے۔ستمبر سے اپریل تک اگر دریا کنارے پشتے تعمیر کئے جائیں تو زمین کا کٹائو روکنا ممکن ہے گزشتہ سال بھی دریا میں طغیانی سے چند ہفتے قبل اس کا رخ موڑنے کی ناکام کوشش کی گئی اس سال بھی وہ بے مقصد اور ناکام منصوبہ دہرایا گیا۔مگر دریا کے بپھرے موجوں کو قابو نہیں کیا جاسکا۔ دوکروڑ روپے چند لوگوں کی جیبوں میں چلے گئے اور ریشن کی تباہی جاری ہے اور اپر چترال کا راستہ بھی بند ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہےکہ وہ طفل تسلیوں سے بیزار ہو چکے ہیں سڑک کے لئے اپنے مکانات، باغات اور فصلوں کی قربانی دینے والوں کا کسی نے پوچھا نہ ہی بے گھر ہونے والوں کی داد رسی کی گئی اب وہ ایک انچ زمین بھی دینے کو روادار نہیں۔ریشن کے مقام پر سڑک کی بندش کے باعث چار لاکھ کی آبادی محصور ہو چکی۔اشیائے خوردونوش اور ادویات کی قلت پیدا ہونے کا خدشہ ہے صوبائی حکومت کو انسانی المیہ رونما ہونے سے قبل صورتحال کا نوٹس لینا ہوگا۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔