احتجاجی مظاہروں کی لہر…محمد شریف شکیب

ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلی ہوئی وادی چترال ملک کا سب سے دور افتادہ علاقہ ہےیہاں کے باسی فطری طور پر نہایت امن پسند، مہمان نواز، تعلیم یافتہ اور ترقی پسند ہیں۔جب پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا تو صرف چترال میں امن شانتی تھی۔تاریخ میں پہلی بار بجلی کے بحران کی وجہ سے اس پرامن علاقے کے باسی بھی احتجاج کرنے اور سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوئے ہیں احتجاج کرنے والوں کا موقف بھی بجا ہے ان کا کہنا ہے کہ گولین گول، ڑاوی اورریشن پاور ہاوس سے مجموعی طور پر 120 میگاواٹ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کے باوجود چترال کے عوام روزانہ اٹھارہ سے بیس گھنٹے لوڈشیڈنگ کا عذاب سہہ رہے ہیں۔ساڑھے چار میگاواٹ پیداواری گنجائش والا ریشن بجلی گھر ضلع اپر چترال کی ضرورت کے لئے کافی ہے مگر اس کا ایک کلوواٹ بھی صارفین کو نہیں دیا جارہا۔نیشنل گرڈ سے صرف تین سے چار گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے اور اس کی وولٹیج اتنی کم ہے کہ ٹیوب لائٹس تک نہیں جلتے۔ چترال کے صارفین کا کہنا ہے کہ دو تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان اثاثوں کی تقسیم کے باہمی تنازعے میں عوام کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات نے چترال کو بھی متاثر کرنا شروع کردیا ہے وہاں عام طور پر درجہ حرارت 36 سینٹی گریڈ سے زیادہ نہیں ہوتی اس بار پہلی مرتبہ پارہ 42 سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے شدید گرمی اور بجلی کی بںدش کے خلاف ہزاروں افراد نے بونی، چرون پل، گرین لشٹ، مروئی ، چترال ٹاون اور دروش میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انتظامیہ کی طرف سے بجلی بحال کرنے کی یقین دہانی پر مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے اگلے روز احتجاج کرنے والے سینکڑوں افراد کے خلاف سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج کرکے انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔اپر چترال کو گولین گول پاور ہاوس سے بجلی فراہم کرنے کے لئے ایک بڑا ٹرانسفارمر فراہم کیا گیا تھا جو ابھی تک جوٹی لشٹ میں پڑا ہوا ہے۔ ٹرانسفارمر کی تنصیب میں بلاوجہ تاخیر سے علاقے میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے چترال کی پسماندگی کے پیش نظر ایک سمری صوبائی حکومت کو بجھوائی تھی کہ چترال کو بھی اس کی پسماندگی کے پیش نظر آزاد کشمیر کی طرز پر بجلی کے نرخوں میں رعایت دی جائے۔ صوبائی حکومت نے سمری کی منظوری دی ہے اور اسے وفاق کو ارسال کیا ہے وفاقی کابینہ سے سمری منظور ہونے کی صورت میں عوام کو بڑا ریلیف ملنے کی توقع ہے۔دریں اثناء صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کو امن عامہ کا مسئلہ دوبارہ پیدا ہونے سے قبل بجلی کا مسئلہ منصفانہ طور پر حل کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔