قوم پرستی کا زہر…محمد شریف شکیب

سندھ میں پختونوں کے خلاف منافرت پھیلانے کی مہم پھر شروع ہوئی ہے سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں بھی پختونوں کو کاروبار کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کی دکانیں اورکاروباری ادارے زبردستی بند کئے جارہے ہیں۔کراچی، حیدر آباد، سکھر، بدین، لاڑکانہ اور دوسرے شہروں میں پختونوں کے خلاف یہ منظم مہم کچھ عرصے سے جاری ہے لیکن سیاسی قیادت کی طرف سے اس مہم کی مذمت کی گئی نہ ہی اسے روکنے کے لئے قدامات کئے گئے۔عروس البلاد کراچی میں وہی ماحول پیدا کرنے کی دانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں جو 1987 میں الطاف حسین کی ایما پر شہر کو مقتل بنایا گیا تھا۔آئین کے تحت پاکستان کے کسی بھی شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں جانے، رہائش اختیار کرنے، کاروبار کرنے اور نقل و حمل کا حق حاصل ہے۔سندھ میں پختونوں کے ساتھ ہونے والا سلوک پاکستانی قومیت کے تصور، انسانی حقوق اور آئین کے منافی ہے۔کہتے ہیں کہ سیاست اور دشمنی میں سب کچھ جائز ہے سیاست دان اپنی دکان چمکانے اور مفادات کے حصول کے لئے منافرت پر مبنی شوشے چھوڑتے اور قوم کو آپس میں لڑاتے رہے ہیں، جناح پور، سندھو دیش، مظلوم بلوچ، جاگ پنجابی اوراپنی مٹی اپنا اختیار والے نعرے انہی سیاست دانوں کے تخلیق کردہ ہیں۔ پاکستانی قوم کو اپنے سیاسی مفادات کے لئے قومی تعصبات میں الجھانے اور چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کے بجائے ہم بھی ان نام نہاد لیڈروں کے ساتھ مل کر زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔قوم کو تقسیم کرکے آپس میں لڑانے اور اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی سیاست انگریزوں نے نوآبادیاتی دور میں شروع کی تھی انگریزوں سے آزادی کے 75 برس گزرنے کے باوجود ہمارے سیاست دان اسی اصول پر کاربند ہیں۔شاعر مشرق نے غیر منقسم ہندوستان میں مسلمانوں کے درمیان نفاق کو ان کے زوال کا سبب قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ”ایک ہی سب کا نبی، دین بھی، ایمان بھی ایک۔ حرم پاک بھی، اللہ بھی قرآن بھی ایک۔ کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک۔ فرقہ بندی ہے کہیں، اور کہیں ذاتیں ہیں، کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں؟”خداخدا کرکے قوم میں سیاسی شعور بیدار ہونے لگا ہے۔ پنجاب کے بیس صوبائی حلقوں میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں عوام نے جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ مسترد کر دیا ہے۔سندھو دیش، بلوچ اور پختون قومیت کی بنیاد پر تعصب کی مورتی بھی پاش پاش ہونے والی ہے اور پاکستانی قومیت کا تصور اجاگر ہوتا دکھائی دے رہا ہےاور توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں تمام تعصبات کو مسترد کرکے ہم ایک قوم بن جائیں گے۔جس دن ہم اس منزل پر پہنچ گئے۔ ہماری مشکلات کا خاتمہ ہوگا ہم کسی کے آلہ کار نہیں بنیں گے اور ہمیں آگے بڑھنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکے گی انشا اللہ

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔