تجاریونین چترال اور پی ٹی آئی چترال پر مشتمل نمائندہ وفد کی بڑی گاڑیوں کی چترال امد پر پابندی کے سلسلے میں ڈی سی چترال سے ملاقات

چترال (نمائندہ چترال ایکسپریس)تجاریونین چترال اورپاکستان تحریک انصاف چترال پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے ڈپٹی کمشنر لوئر چترال سے اُن کے دفترمیں ملاقات کی۔وفد میں بشیر احمد صدر تجاریونین چترال،فخراعظم جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف لوئر چترال،سجاداحمد سابق صدر پی ٹی آئی چترال،اظہراقبال سینئر نائب صدر تجار یونین،عزیز احمد نائب صدر تجار یونین ودیگر شامل تھے۔
وفد نے ڈپٹی کمشنر چترال لوئیر کو آگاہ کیا کہ لواری ٹنل کے مقام پر چترال آنے والی بڑی گاڑیوں کو اوورلوڈنگ کے بہانے روکاجارہا ہے اور سامان آف لوڈ کرکے دوسری گاڑیوں کے ذریعے ٹنل کراس کرایا جاتا ہے جس ہر35ہزار روپے تک اضافی اخراجات آتے ہیں جس کا براہ راست اثر عوام پر پڑتا ہے اور عوام کو اشیائے خوردونوش کیلئے اضافی پیسے دینے پڑتے ہیں۔اُنہوں نے ڈی سی چترال سے اس حوالے سے چترال کے عوام کو این ایچ اے کے اس ظالمانہ اور جانبدارانہ فیصلے سے بچانے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دیا۔

ڈپٹی کمشنر چترال لوئر نے مسئلے کے سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئر فوراًاین ایچ اے کے مجاز حکام سے رابطہ کیا اور اہلیان چترال کے ساتھ رکھی جانے والی اس ناروا سلوک اور امتیازی قانون کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔
ڈی سی چترال نے این ایچ اے کے مجاز حکام کو بتایا کہ اگر اوورلوڈنگ ختم کرنا ہے تو چکدرہ پل کے مقام پر اوورلوڈ گاڑیوں کوروکا جائے بصورت دیگر چترال کے ساتھ امتیازی سلوک کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ کافی عرصے سے چترال آنے والی دس ویلرر ٹرکوں کو لواری ٹنل سے گزرنے کیلئے پانچ ہزار روپے فی گاڑی لینے کا سلسلہ جاری تھا جس پر ابھی تک سیاسی نمائندوں کو اس کا علم ہونے کے باوجود کسی نے بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھایا۔تحریک انصاف کے نمائندوں کی تجاریونین کے نمائندوں کے ساتھ ملکر اس اہم مسئلے پر ڈی سی چترال لوئر سے ملاقات کو چترال کے تجاربرادری نے سراہا ہے۔ اورامید کا اظہار کیا ہے کہ چترال کے منتخب نمائندے اور ڈی سی چترال لوئر اس مسئلے کا حل نکال کرکے چترال کے عوام کو ریلیف دینگے۔

اس خبر پر تبصرہ کریں۔ چترال ایکسپریس اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
زر الذهاب إلى الأعلى
error: مغذرت: چترال ایکسپریس میں شائع کسی بھی مواد کو کاپی کرنا ممنوع ہے۔